وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے سنیچر کو ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ امریکہ نے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں موجود ایرانی اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔
ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹڑز کو بتایا تھا کہ امریکہ نے ان اثاثوں کی بحالی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس نے اس پیش رفت کو اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے دوران واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی جانب سنجیدہ پیش رفت قرار دیا تھا۔
مزید پڑھیں
ذرائع کے مطابق ان اثاثوں کی بحالی کا براہِ راست تعلق آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے سے ہے، جو ان مذاکرات میں ایک اہم معاملہ سمجھا جا رہا ہے۔
اس ذریعے نے اثاثوں کی مجموعی مالیت نہیں بتائی، تاہم ایک دوسرے ایرانی ذریعے کے مطابق امریکہ تقریباً 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کرنے پر تیار ہو گیا ہے، جو قطر میں رکھے گئے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جبکہ قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس پر فوری ردعمل نہیں دیا۔
یہ فنڈز، جو اصل میں 2018 میں منجمد کیے گئے تھے، 2023 میں امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت جاری کیے جانے تھے۔ تاہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے انہیں دوبارہ منجمد کر دیا تھا۔
امریکی حکام نے اس وقت کہا تھا کہ ایران کو مستقبل قریب میں ان رقوم تک رسائی حاصل نہیں ہوگی، اور امریکہ کو انہیں مکمل طور پر منجمد رکھنے کا اختیار حاصل ہے۔
یہ رقم دراصل جنوبی کوریا کو ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہوئی تھی، جسے 2018 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے بعد جنوبی کوریائی بینکوں میں روک دیا گیا تھا۔
ستمبر 2023 میں دوحہ کی ثالثی میں ہونے والے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت یہ رقم قطری بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی تھی۔ اس معاہدے میں ایران میں قید پانچ امریکی شہریوں اور امریکہ میں زیر حراست پانچ ایرانیوں کی رہائی شامل تھی۔
امریکی حکام کے مطابق یہ رقم صرف انسانی ہمدردی کے مقاصد، جیسے خوراک، ادویات، طبی آلات اور زرعی اشیاء کی خریداری کے لیے مخصوص تھی، اور اس کا استعمال امریکی محکمہ خزانہ کی نگرانی میں ہونا تھا۔












