’میرا چہرہ چرایا گیا‘، چین میں اے آئی ڈرامہ تنازع کا شکار کیسے ہوا؟
’میرا چہرہ چرایا گیا‘، چین میں اے آئی ڈرامہ تنازع کا شکار کیسے ہوا؟
جمعہ 24 اپریل 2026 13:26
یہ اے آئی ڈرامہ ’دی پیچ بلاسم ہیئر پن‘ ہونگ گو پر نشر ہوا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
چین میں ایک ماڈل اور انفلوئنسر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک اے آئی سے تیار کردہ مائیکرو ڈرامے میں ان کی شکل و صورت بغیر اجازت کے استعمال کی گئی، انہوں نے ڈرامہ بنانے والوں اور پلیٹ فارم کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان بھی کیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق چین کے مشرقی شہر ہانگژو میں رہائش پذیر 26 سالہ کرسٹین لی کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت شدید حیرت، غصے اور خوف کا شکار ہو گئیں جب انہوں نے خود کو ایک چینی مائیکرو ڈرامے میں منفی کردار ادا کرتے دیکھا حالانکہ وہ پیشہ ور اداکارہ نہیں ہیں۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا جب ان کے مداحوں نے انہیں اس سیریز کے بارے میں بتایا تو وہ یہ دیکھ کر خوفزدہ ہو گئیں کہ ان کا ڈیجیٹل ہم شکل خواتین کو تھپڑ مارتا اور جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کرتا دکھایا گیا ہے۔
’انہوں نے وہی تصاویر استعمال کیں جو میں نے دو سال پہلے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں اور میں سوچتی رہی کہ آخر ایسا کون ہے جس نے ایسا کیا۔‘
یہ اے آئی ڈرامہ ’دی پیچ بلاسم ہیئر پن‘ ہونگ گو نامی ایک بڑے مائیکرو ڈرامہ پلیٹ فارم پر نشر کیا گیا، جو ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت ہے۔
مائیکرو ڈرامہ مختصر آن لائن سیریز ہوتی ہیں جن کی ہر قسط عموماً دو سے تین منٹ پر مشتمل ہوتی ہے اور یہ چین سمیت دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے والے ایک اور شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اسی ڈرامے میں لی کے شوہر کے طور پر دکھایا گیا، جہاں اس کی شکل کو ایک منفی کردار کے طور پر پیش کیا گیا۔
وہ روایتی چینی لباس اور میک اپ کے ماہر اسٹائلسٹ ہیں اور انہوں نے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ژیاؤ ہونگ شو پر شیئر کی تھیں۔
’بائی کائی‘ کے مطابق اسے ڈرامے میں لی کے شوہر کے طور پر دکھایا گیا۔(فوٹو: اے ایف پی)
اگرچہ اس معاملے پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا، تاہم اے ایف پی نے مشاہدہ کیا کہ یہ ڈرامہ کئی دنوں تک پلیٹ فارم پر موجود رہا اور کافی دیر بعد ہٹا دیا گیا، جبکہ متنازع کرداروں کو خاموشی سے تبدیل بھی کیا گیا تھا۔
ہونگ گو نے اپریل کے اوائل میں کہا تھا کہ اس نے اس سیریز کو پلیٹ فارم کے قواعد اور معاہداتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی پر ہٹا دیا ہے۔
بعدازاں ایک اور بیان میں کمپنی کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ مواد کی نگرانی اور تخلیق کاروں کی جانچ کے نظام کو مزید سخت کرے گی۔
کمپنی کے مطابق اس نے اب تک 670 اے آئی مائیکرو ڈراموں کے خلاف کارروائی کی ہے، جن میں سے زیادہ تر کو ہٹا دیا گیا جبکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کم بجٹ اے آئی ڈراموں کے معاملے میں پلیٹ فارمز کو بنیادی ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ مواد کی جانچ کریں، بصورت دیگر حکام کی جانب سے ویڈیوز کو ہٹا دیا جا سکتا ہے۔
بیجنگ کے ایک وکیل ژاؤ ژان لِنگ کے مطابق اگر پلیٹ فارم کسی خلاف ورزی سے آگاہ ہونے کے باوجود کارروائی نہ کرے تو متاثرہ افراد حکام سے رجوع کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں انتظامی سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔
کرسٹین لی کے وکیل کے مطابق کسی شخص کی شناخت کو بغیر اجازت منفی انداز میں استعمال کرنا نہ صرف پورٹریٹ رائٹس بلکہ ساکھ کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔
تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں عام افراد کو زیادہ مالی معاوضہ ملنے کا امکان کم ہوتا ہے کیونکہ ان کی شناخت کی تجارتی قدر محدود سمجھی جاتی ہے۔
لی کو خدشہ ہے کہ یہ تنازع ان کے ماڈلنگ کیریئر کو متاثر کر سکتا ہے کیونکہ ان کو اب ’متنازع‘ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بائی کائی نے ابھی تک قانونی کارروائی شروع نہیں کی، تاہم امید ظاہر کی ہے کہ حکام اور پلیٹ فارمز ایسے افراد کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’شاید ایسے بہت سے کیسز ہوں جن کے متاثرین ابھی سامنے نہیں آئے۔‘