Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وژن 2030 کی کامیابیوں کا جائزہ، مملکت نے مثالی ترقی کی: سعودی ولی عہد

وژن 2030 اپنے تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی ولی عہد و وزیر اعظم اور اقتصادی ترقیاتی کونسل کے چیئرمین شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ’ وژن 2030 جو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کی ہدایات کے تحت ہے، اقتصای اور سماجی شعبوں میں جامع تبدیلی حاصل کرتے ہوئے مملکت نے مثالی ترقی کی  ہے۔‘
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق ولی عہد نے کہا کہ وژن کے نتیجے میں معیشت، خدمات، بنیادی ڈھانچے، لاجسٹک اور سماجی زندگی کے مختلف پہلووں میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’وژن 2030 سال 2026 میں اپنے تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جو آئندہ پانچ برس یعنی 2030 تک جاری رہے گا۔‘
’اس مرحلے میں طویل المدتی اہداف پر توجہ برقرار رکھتے ہوئے عملدرآمد کے طریقہ کار کو موجودہ تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے گا تاکہ ترقی اور خوشحالی کا تسلسل برقرار رہے اور سعودی عرب دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صفِ اول میں شامل ہوجائے۔‘
سعودی ولی عہد نے کہا کہ ’وژن کے آغاز سے اب تک سب سے اہم سرمایہ کاری مملکت کے نوجوانوںکے حوالے سے ہوئی ہے، جنہیں مختلف تربیت دے کر ان کی صلاحیتوں کو نکھار کر ان کی کارکردگی کو بہتر بنا کر عالمی سطح پر مسابقتی مقام دلایا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے تمام سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے کوششیں تیز کریں، نئے مواقع تلاش کریں اور انہیں بروئے کار لاتے ہوئے وطن، عوام اور قومی معیشت کے مفاد میں کام جاری رکھیں۔
انہوں نے گزشتہ برسوں کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ’ ان اقدامات کے نتیجے میں جامع اور پائیدار قومی ترقی ممکن ہوئی ہے، جس کا مرکز سعودی شہری رہا اور جس کا ہدف مختلف شعبوں میں عالمی قیادت حاصل کرنا ہے۔‘
شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ ’وژن 2030 اپنے تیسرے مرحلے میں قومی پروگراموں اور حکمتِ عملی کے نفاذ کے بلند ترین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں تبدیلی کے تمام ذرائع اعلی درجے کی تیاری کو پہنچ چکے ہیں۔ اس مرحلے میں قومی، اقتصادی اور سماجی اصلاحات کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور اہداف کے حصول کی رفتار تیز کی جائے گی۔‘
انہوں نے زور دیا کہ ’گزشتہ ایک دہائی کے دوران عالمی سطح پر معاشی و سیاسی اتار چڑھاو کے باوجود وژن 2030 کی پیش رفت برقرار رہی۔ اس حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں، جس کی بنیاد موثر حکمت عملی، بہترین منصوبہ بندی اور پیشگی مالیاتی پالیسیوں پر ہے۔‘
واضح رہے یہ بات اقتصادی امور و ترقیاتی کونسل کے اجلاس میں ویژن 2030 کی تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا پہلے دو مرحلوں اقتصادی شعبوں میں مضبوط بنیادیں فراہم کیں اور قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
ان کامیابیوں کو مزید وسعت دینے کےلیے تیسرا مرحلہ 2026 سے 2030 تک جاری رہے گا، جس میں ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا، سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔
پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور قومی ترقیاتی فنڈ کے کردار کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ مقامی سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔
نجی شعبے کی شمولیت کو بڑھا کر اقتصادی تنوع میں اضافے کو یقینی بنایا جائے۔  بنیادی ڈھانچے کی ترقی، خدمات کے معیار میں بہتری اور شہریوں، مملکت میں مقیم غیرملکی اور زائرین کو بہترین و اعلی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں پرعمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔
اقتصادی ترقیاتی کونسل نے مملکت کے وژن 2030 کے مختلف مراحل کا بھی جائزہ لیا۔
بتایا گیا کہ وژن کا پہلا مرحلہ 2016 میں شروع ہوا جو 2021 تک جاری رہا، اس میں بنیادی توجہ ریاستی ڈھانچے کی تشکیل نو پر دی گی۔

 

شیئر: