Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ کے باعث ایرانی کرنسی میں ریکارڈ کمی،’ایک ڈالر میں18لاکھ ریال‘

2025 میں ایرانی کرنسی کی قدر میں تقریباً 70 فیصد کمی آئی (فوٹو: روئٹرز)
ایران کی قومی کرنسی ریال بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں 18 لاکھ فی ڈالر کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے پہلے ہی کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں ایرانی ریال کی قدر میں آنے والی یہ کمی ملک میں مہنگائی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جہاں خوراک، ادویات، الیکٹرانکس اور خام مال سمیت درآمدی اشیا کی قیمتیں ڈالر کی شرح سے متاثر ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ چھ ہفتوں کی لڑائی کے دوران جمع ہونے والی غیر ملکی کرنسی کی طلب اب کھلی منڈی میں ظاہر ہو رہی ہے۔
جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی نے معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی ترسیل کو روک کر یا ضبط کر کے آمدنی اور زرمبادلہ کے ایک اہم ذریعے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایرانی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث تہران کو سٹیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات معطل کرنا پڑیں، جو سخت پابندیوں کا شکار ملک کے لیے زرِمبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ تھیں۔
ایران کے مرکزی بینک کے مطابق 20 مارچ سے 20 اپریل تک کے عرصے میں سال بہ سال مہنگائی کی شرح 65.8 فیصد رہی، اور امکان ہے کہ کرنسی کی مزید گراوٹ اور تعمیرِ نو کی ضروریات کے باعث یہ رجحان مزید تیز ہو جائے گا۔
2025 میں ایرانی کرنسی کی قدر تقریباً 70 فیصد تک گر گئی، جس نے ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کو جنم دیا۔

شیئر: