Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دھرماتما سے قربانی تک‘، گلیمر کے دیوتا فیروز خان جنہوں نے بالی وڈ کو عالمی رنگ میں ڈھالا

فیروز خان کے انداز میں ایک بے نیازی، ایک خود اعتمادی اور ایک باغیانہ شان تھی (فوٹو: دی نیوز ہیرلڈ)
انڈین اداکار اکشے کمار اور اداکارہ کترینہ کیف کی فلم ’ویلکم‘ کا ایک مکالمہ بہت مشہور ہوا جس میں اداکار فیروز خان کہتے ہیں کہ ’ابھی ہم زندہ ہیں‘ اور اگر انڈیا کی فلم انڈسٹری پر نظر ڈالی جائے تو ان کی زندہ دلی اور اپنے فن پر دسترس زندہ و جاوید نظر آتی ہے۔
ہندی سنیما ابھی جب اپنے خد و خال دلکش بنا رہا تھا تو اس وقت فیروز خان نے یہ بتایا کہ بالی وڈ ہالی وڈ کے مقابل کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
وہ محض ایک اداکار نہیں تھے بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی، ایک انداز جسے انگریزی میں ’فلیمبوائنس‘ کہہ سکتے ہیں اور ایک جرأت مند تخلیقی ذہن کے حامل فنکار تھے۔
1960 کی دہائی میں فلمی دنیا میں قدم رکھنے والے فیروز خان نے 1970 اور 80 کی دہائیوں میں اپنے منفرد اسلوب سے ایک الگ شناخت قائم کی، ایک ایسی شناخت جس میں مغربی طرزِ زندگی اور ہندوستانی کہانیوں کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
25 ستمبر 1939 کو انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور میں پیدا ہونے والے فیروز خان نے ایسے وقت میں فلمی دنیا میں جگہ بنائی جب دلیپ کمار جیسے ٹریجیڈی کنگ اور راجیش کھنہ جیسے رومانوی ہیرو منظرنامے پر چھائے ہوئے تھے مگر فیروز خان نے ان دونوں راستوں سے ہٹ کر اپنی ایک الگ راہ اختیار کی۔
فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ نہ وہ جذباتی مکالموں کے اسیر تھے اور نہ ہی محض رومانوی دلکشی پر انحصار کرتے تھے۔ ان کے انداز میں ایک بے نیازی، ایک خود اعتمادی اور ایک باغیانہ شان تھی، جو کسی حد تک کلنٹ ایسٹ وُڈ جیسے مغربی اداکاروں سے متاثر دکھائی دیتی تھی۔ فیلٹ ہیٹ، شرٹ کے کھلے بٹن، انگلیوں میں سگار اور ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ، یہ تھا فیروز خان کا انداز، اور اس وجہ سے ہی انہیں گلیمر کا آئیکون سمجھا جاتا تھا۔

فیروز خان نے 1970 اور 80 کی دہائیوں میں اپنے منفرد اسلوب سے ایک الگ شناخت قائم کی (فوٹو: سوشل میڈیا)

انہوں نے 1959-60 کی فلم ‘دیدی‘ سے معاون اداکار کی حیثیت سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا لیکن پھر اشوک کمار اور راج کمار کے ساتھ ان کی فلم ’اونچے لوگ‘ آئی جو ہٹ ثابت ہوئی۔ اس سے قبل انہوں نے اداکارہ سیمی گریوال کے ساتھ فلم ’ٹارزن گوز ٹو انڈیا‘ بنائی جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مغربی سنیما سے کس قدر متاثر تھے۔
راجندر کمار اور سادھنا کی ہٹ فلم ’آرزو‘ میں ان کا یادگار کردار رہا۔ اس کے بعد دھرمیندر اور سائرہ بانو کے ساتھ فلم ’آدمی اور انسان‘ میں ان کی ادکاری کے اعتراف کے طور پر انہیں پہلا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ یہ فلم سنہ 1969 میں آئی۔ اس کے بعد ان کی یادگار فلموں میں ’کھوٹے سکے‘، ’گیتا میرا نام‘ اور ’کالا سونا‘ وغیرہ اہم ہیں۔
فیروز خان نے 1970 کی دہائی سے خود فلمیں بنانی شروع کیں اور اداکارہ ممتاز کے ساتھ انہوں نے فلم ’اپرادھ‘ بنائی جس کے وہ ہدایت کار بھی تھے اور پروڈیوسر بھی۔ یہ فلم اس لیے انڈین فلم انڈسٹری میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے کہ یہ پہلی فلم ہے جس میں جرمنی میں ہونے والی کار ریسنگ کے مقابلے کو دکھایا گیا۔
سنہ 1971 میں فیروز خان نے اپنے بھائی سنجے خان کے ساتھ فلم ’میلہ‘ بنائی۔ فلم میں بھی دونوں بھائی ہی مرکزی کرداروں میں ہیں۔ فیروز خان نے اس فلم میں ڈاکو کا کردار ادا کیا ہے۔

فیروز خان کی فلم ’قربانی‘ کے لیے پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن کا گیت ’آپ جیسا کوئی‘ آج بھی ہر خاص و عام میں مقبول ہے (فوٹو: دی نیوز)

یہ فلم کہیں نہ کہیں دلیپ کمار کی فلم ’گنگا جمنا‘ سے متاثر نظر آتی ہے۔ اس فلم میں وہ اپنے بھائی سنجے خان پر برہم ہوئے اور ایک سین میں ان کی اداکاری سے مایوس ہو کر کہا کہ ’دلیپ کمار بننے کا شوق ہے تو ان جیسی اداکاری کرو۔‘
فیروز خان کو ڈاکو کے رول کے علاوہ منفی کرداروں میں بھی بہت پسند کیا گیا۔ ان کی رعب دار آواز اور ان کا فلیمبوائنس نہ صرف مردوں کے لیے بلکہ خواتین کے لیے بھی بہت جاذب نظر تھا۔
فیروز خان کی فلم ’دھرماتما‘ (1975) ان کے منفرد عزم و حوصلے کی عکاسی کرتی ہے۔ اس فلم کی شوٹنگ کے لیے انہوں نے افغانستان کا انتخاب کیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو اس زمانے میں ہندوستانی سنیما کے لیے بالکل نیا تھا۔
فیروز خان نے ذاتی طور پر اس کے انتظامات کیے اور یوں وہ پہلے ہندوستانی فلم ساز بنے جنہوں نے افغانستان میں وسیع پیمانے پر شوٹنگ کی۔ یہ فلم اپنے شاندار مناظر اور بین الاقوامی معیار کے باعث نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
اس فلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ فلم ہالی وڈ کی فلم ’گاڈ فادر‘ سے متاثر ہے یا اس کا ڈھیلا ڈھالا عکس ہے۔

انہوں نے اپنے بیٹے فردین خان کو فلم ’جانشین‘ سے متعارف کرایا لیکن وہ ان کی طرح کامیاب نہ ہو سکے (فوٹو: سوشل میڈیا)

فیروز خان کا مقام اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں منفرد تھا۔ امیتابھ بچن جہاں ’اینگری ینگ مین‘ کے کرداروں کے ذریعے سماجی ناانصافی کے خلاف آواز بنے، اور ونود کھنہ سنجیدگی اور روحانیت کی طرف مائل نظر آئے، تو فیروز خان نے زندگی کے رنگین اور پُرتعیش پہلوؤں کو اپنایا۔ ان کی فلموں میں تیز رفتار گاڑیاں، خوبصورت لوکیشنز، اور ایک بے باک طرزِ اظہار نمایاں تھا۔ وہ داخلی کشمکش کے بجائے خارجی انداز اور جاذبیت کے علمبردار تھے۔
سنہ 1980 میں آنے والی ان کی فلم ’قربانی‘ نہ صرف باکس آفس پر کامیاب رہی بلکہ موسیقی کے میدان میں بھی ایک انقلاب لے کر آئی۔ اس فلم سے جڑا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ فیروز خان نے پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن کو ہندوستانی فلمی صنعت میں متعارف کرایا۔ محض 15 برس کی عمر میں نازیہ حسن نے ’آپ جیسا کوئی‘ گيت گایا، جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے برصغیر میں مقبول ہو گیا۔ اس دور میں جب سرحدی کشیدگیاں ثقافتی روابط کو محدود کر رہی تھیں، فیروز خان کا یہ قدم نہایت جرأت مندانہ اور دور اندیشی پر مبنی تھا۔
فیروز خان کی فلم سازی میں جدت اور جرأت ہمیشہ نمایاں رہی۔ فلم ’جانباز‘ اور ’دیاوان‘ جیسی فلموں میں انہوں نے محبت، جرائم اور انسانی نفسیات کے پیچیدہ پہلوؤں کو نہایت دلکش انداز میں پیش کیا۔ ان کی فلموں میں موسیقی، سلو موشن مناظر، اور جدید تکنیک کا استعمال  اپنے وقت سے بہت آگے تھا۔

فیروز خان اور ونود کھنہ کی دوستی فلمی دنیا میں خاصی مشہور رہی (فوٹو: سوشل میڈیا)

ان کی ذاتی زندگی بھی ان کی فلموں کی طرح رنگین اور بے باک تھی۔ وہ صاف گوئی کے لیے مشہور تھے اور اکثر اپنے خیالات کا اظہار بلا جھجھک کر دیا کرتے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ بادشاہوں کی سی زندگی جیتے ہیں اور فلمیں بھی اسی شان سے بناتے ہیں۔
ونود کھنہ کے ساتھ ان کی دوستی بھی فلمی دنیا میں خاصی مشہور رہی۔ دونوں نہ صرف پردۂ سیمیں پر ایک ساتھ نظر آئے بلکہ ذاتی زندگی میں بھی گہرے تعلقات رکھتے تھے۔ جب ونود کھنہ روحانیت کی طرف مائل ہو کر فلموں سے دور ہوئے، تو فیروز خان نے یہ کہتے ہوئے انہیں واپس آنے کا مشورہ دیا کہ فن بھی ایک طرح کی روحانی تکمیل کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیٹے فردین خان کو فلم ’جانشین‘ سے متعارف کرایا لیکن وہ ان کی طرح کامیاب نہ ہو سکے۔

سنہ 1971 میں فیروز خان نے اپنے بھائی سنجے خان کے ساتھ فلم ’میلہ‘ بنائی (فوٹو: دی انڈین ایکسپریس)

فیروز خان بلاشبہ اپنے وقت سے آگے کے فنکار تھے۔ آج کا بالی وڈ جس عالمی معیار، جدید انداز اور بین الاقوامی شراکت پر فخر کرتا ہے، اس کی جھلک برسوں پہلے فیروز خان کی فلموں میں نظر آتی ہے۔
وہ آج ہی کے دن یعنی 27 اپریل 2009 کو وفات پا گئے لیکن ان کی جدت اور ان کی فلمی وراثت آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے صرف فلمیں نہیں بنائیں بلکہ ہندوستانی سنیما کے مزاج کو ایک نیا رُخ دیا، ایک ایسا رُخ جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
 

شیئر: