متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ایڈناک سے وابستہ خام تیل کے ٹینکر کو نشانہ بنانے کے واقعے کی مذمت کی ہے۔
عرب نیوز کے وزارتِ خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ’یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی صریح خلاف ورزی ہے، جس میں جہاز رانی کی اہمیت پر زور دیا گیا اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے یا بین الاقوامی بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کو مسترد کیا گیا ہے۔‘
برطانوی بحری ایجنسی نے پیر کی صبح رپورٹ کیا کہ تیل بردار جہاز، جس کی شناخت ایڈناک لاجسٹکس اینڈ سروسز نے خام تیل بردار ٹینکر ایم وی براکا کے طور پر کی، متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل کے قریب دو ڈرون حملوں کا نشانہ بنا۔
مزید پڑھیں
-
آبنائے ہرمز میں ہمارا کوئی جہاز نشانہ نہیں بنا: امریکی فوجNode ID: 903834
امریکہ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کرے گا۔
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے کہا، ’ایک ٹینکر نے اطلاع دی ہے کہ اسے نامعلوم اشیاء سے نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
حملے میں عملے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا اور جہاز کوئی سامان نہیں لے جا رہا تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں یو اے ای کی وزارت خارجہ نے ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو ’معاشی دباؤ یا بلیک میلنگ کے آلے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور مزید کہا کہ یہ ’ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قزاقی کی کارروائیاں‘ ہیں اور ’خطے کے استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ‘ ہیں۔
بیان میں یو اے ای نے ایران سے بلا اشتعال حملوں کو روکنے اور “تمام دشمنیوں کے فوری خاتمے اور آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ دہرایا۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب 8 اپریل کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ امریکہ نے اس کے جواب میں بحری ناکہ بندی قائم کر رکھی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ امریکہ پیر سے اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت شروع کرے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زائد زمینی اور بحری طیارے، مختلف خودکار پلیٹ فارمز اور 15,000 اہلکار تعینات کرے گا۔












