Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گلف ایئر کی پاکستان واپسی، مگر مہنگا ایندھن فضائی سفر کے لیے بڑا چیلنج

جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ہوا بازی کی صنعت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے (فائل فوٹو: گلف ایئر)
گلف ایئر کی جانب سے یکم مئی 2026 کو بحرین اور کراچی کے درمیان پروازوں کی بحالی اور دبئی ایئرپورٹس کی جانب سے یو اے ای کی فضائی حدود مکمل طور پر بحال ہونے کے اعلان نے عالمی ہوا بازی کے شعبے میں ایک محتاط بحالی کی امید ضرور پیدا کی ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی ایک بڑا بحران بھی پوری شدت سے سامنے آ چکا ہے۔
گذشتہ تقریباً دو ماہ کے تعطل کے بعد ’گلف ایئر‘ کی پرواز جی ایف 752 نے کراچی کے لیے دوبارہ اڑان بھری تو اسے محض ایک روٹ کی بحالی نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی نیٹ ورک کی تدریجی بحالی کا حصہ قرار دیا گیا۔
دوسری جانب دبئی ایئر پورٹ کے سوشل میڈیا اکاونٹ سے جاری کی گئی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ وہ مسلسل بدلتی صورتحال کے باوجود 60 لاکھ سے زائد مسافروں، 32 ہزار سے زیادہ پروازوں اور دو لاکھ تیرہ ہزار ٹن سے زائد کارگو کو سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں۔
لیکن اس بحالی کے پس منظر میں ایک ایسا بحران پنپ رہا ہے جس نے دنیا بھر کی ایئر لائنز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
جیٹ فیول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور بعض خطوں میں ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں نے ہوا بازی کی صنعت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
عالمی منڈی میں جیٹ فیول کی قیمتیں جہاں چند ہفتے پہلے 85 سے 90 ڈالر فی بیرل کے درمیان تھیں، وہیں اب 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں۔ اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور خاص طور پر اہم بحری راستوں کی بندش یا محدود دستیابی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال صرف چند ممالک تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایئر لائنز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ کئی بین الاقوامی ایئر لائنز نے اپنی پروازوں میں کمی، شیڈول میں تبدیلی اور بعض روٹس کی عارضی بندش جیسے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) بھی اس بحران سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ قومی ایئر لائن نے اپریل 2026 میں بیجنگ اور کوالالمپور کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا، جبکہ بیشتر خلیجی ممالک کے لیے آپریشن محدود کر دیا گیا۔ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لیے محدود تعداد میں پروازیں جاری رکھی گئیں۔
پی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے آپریشنل اخراجات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، جسے مکمل طور پر مسافروں پر منتقل کرنا ممکن نہیں۔ اسی وجہ سے انتظامیہ کو ’سخت فیصلے‘ کرنے پڑے، جن میں نہ صرف روٹس کی معطلی بلکہ مختلف رعایتی سکیموں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ طلبہ، بزرگ شہریوں، صحافیوں اور دیگر طبقات کو دی جانے والی رعایتیں ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ صرف بچوں اور شیرخواروں کے لیے رعایت برقرار رکھی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بحران محض ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات طویل المدتی بھی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جہاں ایوی ایشن سیکٹر پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے، وہاں اس بحران کے اثرات زیادہ شدید محسوس کیے جا رہے ہیں۔

مقامی سطح پر جیٹ فیول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے (فائل فوٹو: گلف ایئر)

مقامی سطح پر جیٹ فیول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، جو کہ ایئر لائنز کے لیے ایک ناقابل برداشت بوجھ بنتا جا رہا ہے۔
ایوی ایشن امور کے ماہر سینئر صحافی راجہ کامران کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے مشکل حالات میں بھی آپریشن جاری رکھا اور اب جب فضائی حدود مکمل طور پر بحال ہو چکی ہیں تو وہ پروازوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ فضائی حدود کی بحالی کے باوجود ایئر لائنز کے لیے مکمل بحالی فوری طور پر ممکن نہیں، کیونکہ ایندھن کی لاگت اب بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔‘
گرمیوں کا موجودہ سیزن جو روایتی طور پر سفر کے لیے سب سے مصروف اور منافع بخش سمجھا جاتا ہے، اس بار ٹریول انڈسٹری کے لیے کویڈ کے بعد سب سے مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹریول ایجنٹ حسان ناصر نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم نے کووڈ کے دوران بھی اتنی غیر یقینی صورتحال نہیں دیکھی تھی جتنی اس وقت ہے۔ پروازیں کم ہیں، کرایے بہت زیادہ ہیں اور مسافر شدید پریشان ہیں۔ لوگ مہینوں پہلے بکنگ کروا رہے ہیں لیکن پھر بھی انہیں کنفرم سیٹ نہیں مل رہی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں دوگنی بلکہ بعض کیسز میں تین گنا تک بڑھ چکی ہیں۔ ’جو ٹکٹ پہلے ایک لاکھ روپے میں ملتا تھا، وہ اب دو سے ڈھائی لاکھ روپے تک جا رہا ہے، اور اس کے باوجود دستیابی ایک مسئلہ ہے۔‘
امجد چوہدری جو بحرین جانے کے لیے کراچی ایئرپورٹ پر موجود تھے، انہوں نے بتایا کہ ’میں نے پچھلے ایک مہینے میں تین بار اپنی فلائٹ ری شیڈول کروائی ہے۔ کبھی فلائٹ کینسل ہو جاتی ہے، کبھی کرایہ اچانک بڑھ جاتا ہے۔ اب بڑی مشکل سے ٹکٹ ملا ہے لیکن وہ بھی بہت مہنگا ہے۔‘
اسی طرح جرمنی جانے والے فیاض یونس نے کہا کہ یہ شاید ان کی زندگی کا سب سے مہنگا سفر ہے۔ انہوں نے پہلے کبھی اتنا زیادہ کرایہ ادا نہیں کیا۔ فلائٹس کم ہیں اور ڈائریکٹ فلائٹس تو تقریباً ناپید ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے سفر مزید طویل اور تھکا دینے والا ہو گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بحران محض ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات طویل المدتی بھی ہو سکتے ہیں (فائل فوٹو: انسپلیش)

ٹریول انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے نہ صرف مسافروں بلکہ ٹریول ایجنٹس، ٹور آپریٹرز اور متعلقہ کاروباروں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ بکنگ میں غیر یقینی، بار بار تبدیلیاں، اور ایئر لائنز کی جانب سے اچانک فیصلے اس شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
ماہرین یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مزید روٹس بند ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر سفر ایک مہنگی سہولت بن کر رہ جائے گا، جس تک عام آدمی کی رسائی محدود ہو جائے گی۔
اگرچہ گلف ایئر اور دبئی ایئرپورٹس کی جانب سے آپریشنز کی بحالی ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن مجموعی تصویر اب بھی تشویشناک ہے۔ عالمی ہوا بازی کی صنعت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایک طرف بحالی کی امید ہے تو دوسری طرف بڑھتے ہوئے اخراجات اور جغرافیائی کشیدگیاں ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
آنے والے ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر عالمی سطح پر حالات بہتر ہوتے ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو ممکن ہے کہ ایئر لائنز اپنے معمول کے آپریشنز کی طرف واپس لوٹ سکیں۔ بصورت دیگر، مسافروں کو مزید مہنگے اور محدود سفر کے لیے تیار رہنا ہوگا، اور ٹریول انڈسٹری کو ایک طویل اور کٹھن دور کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شیئر: