فلم دھورندر ٹو کو ’ترچھی ٹوپی والے‘ نے مشکل میں ڈال دیا، معاملہ کیا ہے؟
فلم دھورندر ٹو کو ’ترچھی ٹوپی والے‘ نے مشکل میں ڈال دیا، معاملہ کیا ہے؟
جمعرات 9 اپریل 2026 10:57
گانا ’ترچھی ٹوپی والے‘ 89 میں ریلیز ہونے والی فلم تری دیو کا حصہ تھا (فوٹو: بالی ڈاٹ کام)
بالی وڈ فلم ’دھورندر ٹو، دی ریوینج‘ بھی پہلی کی طرح مسلسل کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتی جا رہی ہے اور روز ہی ایسی رپورٹس سامنے آتی ہیں کہ اس نے کمائی میں فلاں فلاں ریکارڈ توڑ دیے۔
اس کو شائقین کی طرف سے پسند بھی کیا جا رہا ہے مگر اب معاملہ ایک ایسا موڑ مڑ گیا ہے جس کو انڈیا میڈیا فلم کے لیے ’بیڈ نیوز‘ قرار دے رہا ہے۔
یہ معاملہ ہے کیا اس کے بارے میں تفصیل انڈیا ڈاٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے جو تقریباً ساڑھے تین دہائیوں قبل کے ایک ایسے گانے سے متعلق ہے جس کو سنتے ہی آج بھی کئی لوگ ماضی میں چلے جاتے ہیں۔
تذکرہ ہو رہا ہے فلم تری دیو کے گانے ’ترچھی ٹوپی والے‘ جو بے انتہا مشہور ہوا تھا اور آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔
تری دیو 89 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس گانے کی دھن کلیان جی آنند جی نے ترتیب دی تھی، اس کے بول آنند بخشی نے لکھے تھے جبکہ گایا امیت کمار اور افسانہ خان نے تھا۔
دھورند ٹو کے ایک سین میں یہ سنائی دیتا ہے جس پر تریمورتی فلمز نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے اور فلمساز اور ڈائریکٹر پر الزام لگایا گیا ہے کہ گانے کو ری مکس کر کے فلم میں شامل کرنے سے قبل باضابطہ طور پر اجازت نہیں لی گئی۔
رپورٹ کے مطابق شکایت میں موسیقی اور گانے سے جڑی دوسری چیزوں کے رائٹس پر زور دیا گیا ہے اور کاپی رائٹ کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے جس میں ری پروڈکشن اور پبلک کمیونیکیشن کے نکات بھی شامل ہے۔
فلم میں اس پرانے گانے کا ایک ٹکڑا فلم کے اپنے گانے ’رنگ دے لال اوئے اوئے‘ میں سامنے آتا ہے جس کی موسیقی شاسوت سچدیو نے دی ہے جبکہ جیسمین سینڈلاس، سپنا مکھرجی ریبیل کی آوازیں شامل ہیں اور گانے کے دوران اصل تخلیق کاروں کو کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے تاہم تنازع کی وجہ یہ بات بن رہی ہے کہ اس کو پروموشنل مواد میں شامل کرنے سے قبل مناسب طور پر اجازت نہیں لی گئی۔
درخواست میں فلم کے ڈائریکٹر ادتیا دھر اور ٹیم پر بلااجازت گانا شامل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے (فوٹو: لائف سٹائل ایشیا)
درخواست میں ہرجانے کے دعوے کے ساتھ ساتھ گانے کا فلم میں استعمال روکنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس قانونی ایشو کے باوجود فلم کمائی کے لحاظ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس نے ایک ہزار کروڑ کا ہندسہ عبور کر لیا ہے جبکہ دنیا بھر کی ریٹنگ میں بھی تیزی سے آگے جا رہی ہے۔
اس فلم کی کہانی جسکرت سنگھ رنگی کے گرد گھومتی ہے جو حمزہ علی مزاری کی شناخت اختیار کرتے ہوئے ایک انتہائی خطرناک مشن انجام دیتے ہوئے جرائم کے نیٹ ورکس کے علاوہ سیاسی تہوں میں گھس جاتا ہے۔
اس میں رنویر سنگھ، ارجن رامپال، آر مدھاون، سنجے دت، راکیش بیدی اور سارہ ارجن کے علاوہ دوسرے فنکاروں نے کام کیا ہے۔