Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زندگی ایک رولر کوسٹر کی طرح ہے، کچھ بھی مستقل نہیں رہتا: بابر اعظم

بابر اعظم طویل انتظار کے بعد بطور کپتان ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
بابر اعظم نے اتوار کی شب آخرکار بطور کپتان اپنی پہلی بڑی ٹرافی اپنے نام کر لی جب پشاور زلمی نے حیدرآباد کنگزمین کو فائنل میں پانچ وکٹوں سے ہرا کر پی ایس ایل 2026 کا ٹائٹل جیت لیا۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ میچ قذافی سٹیڈیم میں کھیلا گیا جو بابر اعظم کا ہوم گراؤنڈ بھی ہے۔ یہ فتح بابر اعظم کے لیے ایک شاندار واپسی کا اختتام ثابت ہوئی، خاص طور پر گزشتہ سیزن کے بعد جب ان کی قیادت میں زلمی اپنی تاریخ کی بدترین کارکردگی کے بعد پہلی بار پلے آف تک بھی نہ پہنچ سکی تھی۔
سنہ 2022 سے پی ایس ایل میں کپتانی کے باوجود اور پاکستان کو متعدد آئی سی سی اور اے سی سی ٹورنامنٹس میں لیڈ کرنے کے باوجود بابر ٹرافی سے محروم تھے لیکن قسمت نے بالآخر ان کا ساتھ دیا اور وہ اپنے پہلے پی ایس ایل فائنل میں بطور کپتان زلمی کو دوسری بار چیمپئن بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
میچ کے بعد بابر اعظم نے کہا ’مجھے پختہ یقین ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو اس کے نصیب میں ہوتا ہے۔ یہ کبھی جلدی مل جاتا ہے اور کبھی وقت لگتا ہے، لیکن انسان کو ہر حال میں شکر گزار رہنا چاہیے۔‘
اگرچہ بابر کی کپتانی پر تنقید ہوتی رہی ہے لیکن ان کی بیٹنگ نے دنیا بھر میں ان کے مداحوں میں اضافہ کیا۔ تاہم حالیہ عرصے میں ان کی فارم میں کمی آئی، اور گزشتہ پی ایس ایل سیزن ان کے لیے نہایت مشکل رہا جہاں انہوں نے 10 میچوں میں صرف 288 رنز بنائے جو 2016 کے بعد ان کی بدترین کارکردگی تھی۔
اس کے باوجود، پی ایس ایل کی تاریخ میں بابر اعظم کا کوئی ثانی نہیں، وہ واحد بیٹر ہیں جنہوں نے چار  ہزار سے زائد رنز اس لیگ میں سکور کیے ہیں۔ پی ایس ایل 2025 کے بعد سوال اٹھنے لگے تھے کہ آیا وہ اپنے عروج پر نہیں رہے، خاص طور پر جب انہوں نے حالیہ ٹی20 ورلڈ کپ میں صرف 91 رنز بنائے۔

بابر اعظم حالیہ ٹی20 ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا رہا (فوٹو: اے ایف پی)

لیکن حالیہ سیزن میں بابر نے شاندار کم بیک کیا۔ انہوں نے 12 اننگز میں 588 رنز بنا کر ایک سیزن میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ برابر کیا، وہ بھی 145.90 کے سٹرائیک ریٹ کے ساتھ فخر زمان  نے 2022 میں یہ کارنامہ ایک اننگز زیادہ کھیل کر انجام دیا تھا۔
بابر نے اس سیزن میں دو سنچریاں بھی سکور کیں جن میں سے ایک 52 گیندوں پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف تھی جو ان کی ٹورنامنٹ کی تیز ترین سنچری تھی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک سیزن میں سب سے زیادہ سینچریوں اور پی ایس ایل کی مجموعی تاریخ میں سب سے زیادہ سینچریوں (چار) کے ریکارڈ کی برابری بھی کی، جو ریکارڈ عثمان خان کے پاس بھی ہے۔
اپنی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے بابر نے کہا ’میں اپنی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا تھا لیکن بیٹر کے لیے یہ معمول کی بات ہے کہ وہ کبھی کبھار مشکلات کا شکار ہو۔ آپ کو پیچھے ہٹ کر اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا ہوتا ہے اور انہیں درست کرنا ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں سپورٹ بہت ضروری ہوتی ہے اور میرے خاندان اور قریبی دوستوں نے میرا حوصلہ بڑھایا۔ میں نے کوچز کے ساتھ بیٹھ کر اپنی خامیوں پر کام کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’زندگی ایک رولر کوسٹر کی طرح ہے، کچھ بھی مستقل نہیں رہتا۔ انسان اپنے اچھے اور برے تجربات سے سیکھتا ہے اسی کا نام زندگی ہے۔‘
اب جب بابر نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے تو وہ تینوں فارمیٹس کھیلنے کے حوالے سے بھی پراعتماد ہیں۔
Babar Azam clings on to the trophy as his team-mates celebrate, Hyderabad Kingsmen vs Peshawar Zalmi, PSL 2026 final, Lahore, May 3, 2026
بابر اعظم نے پی ایس ایل بہترین کم بیک کیا اور ٹاپ سکوررز میں شامل ہوئے (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے کہا ’میں جانتا ہوں آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں، میری توجہ تینوں فارمیٹس پر ہے۔ ایک بیٹر کو ہر طرز کی کرکٹ کھیلنی چاہیے، صرف وائٹ بال تک خود کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ریڈ بال کرکٹ آپ کو لمبی اننگز کھیلنے اور صبر سکھاتی ہے جو وائٹ بال میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔‘
فائنل میں زلمی کو 130 رنز کا ہدف ملا، لیکن ابتدائی طور پر وہ 40 رنز پر 4 وکٹیں گنوا بیٹھے، جس سے دباؤ بڑھ گیا۔ تاہم ایرون ہارڈی اورعبدالصمد کے درمیان 85 رنز کی شاندار شراکت نے میچ کا رخ بدل دیا اور ٹیم نے 15.2 اوورز میں ہدف حاصل کر لیا۔ بابر خود پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے تھے، جب محمد علی نے دونوں اوپنرز کو ابتدائی اوور میں پویلین بھیج دیا۔
بابر نے کہا ’ابتدائی چار وکٹیں گرنے سے ڈگ آؤٹ پر دباؤ آ گیا تھا لیکن ہارڈی اور صمد نے سمجھداری سے کھیلتے ہوئے میچ سنبھالا۔ انہوں نے جلد بازی نہیں کی بلکہ پارٹنرشپ بنائی اور سیٹ ہونے کے بعد اپنا نیچرل کھیل کھیلا۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’فائنل سے پہلے ہم سب پُراعتماد تھے کیونکہ ہمارا ٹورنامنٹ اچھا گزرا تھا، لیکن ہم جانتے تھے کہ اعصاب پر قابو رکھنا ہوگا۔ ایسے مواقع پر بعض اوقات کھلاڑی زیادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ ہمارے غیر ملکی کھلاڑیوں نے بھی یہی کہا کہ پرسکون رہ کر اپنے پلان پر عمل کریں۔‘

شیئر: