Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

متحدہ عرب امارات نے ایرانی میزائل مار گرائے، ’جواب دینے کا حق محفوظ ہے‘

ماراتی حکام نے شہریوں کے موبائل فونز پر ممکنہ حملے کے حوالے سے نیا ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اماراتی فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے 12 بیلسٹک میزائل، 3 کروز میزائل اور 4 ڈرون مار گرائے جس کے نتیجے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے۔
اماراتی حکام کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں تین انڈین شہری زخمی ہوئے۔
اس سے قبل وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ ان میں سے تین میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں جا گرا۔
عرب نیوز کے مطابق ریاست فجیرہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون کے حملے کے باعث ایک آئل تنصیب پر آگ بھڑک اٹھی۔ واضح رہے کہ فجیرہ اس پائپ لائن کا آخری سرا ہے جسے متحدہ عرب امارات ایران کے ساتھ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کے خطرناک راستے سے بچ کر تیل کی ترسیل کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
ادھر برطانوی فوج کے یونائیٹڈ کنگڈم میرین ٹریڈ آپریشنز سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ پیر کو ہی اماراتی ساحل کے قریب ایک مال بردار بحری جہاز کے انجن روم میں آگ لگ گئی، تاہم جہاز کے عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔

اس سے قبل پیر کو اماراتی حکام نے شہریوں کے موبائل فونز پر ممکنہ حملے کے حوالے سے نیا ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا۔
یہ الرٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں ایک ماہ سے جاری کمزور جنگ بندی کے دوران حکام نے اسی روز پہلے سے جاری ایک انتباہ ختم کیا تھا۔
پیغام میں میزائل خطرے کی وارننگ دیتے ہوئے شہریوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ’فوری طور پر قریبی محفوظ عمارت میں پناہ لیں۔‘
امارات کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ’ملک کے مختلف حصوں میں سنی جانے والی آوازیں فضائی خطرات کو کامیابی سے روکنے کا نتیجہ ہیں۔‘
پہلے الرٹ میں کہا گیا تھا کہ ’موجودہ صورتحال اور میزائل خطرات کے پیشِ نظر فوری طور پر محفوظ جگہ تلاش کریں‘ تاہم بعد ازاں ایک فالو اپ پیغام میں شہریوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ صورتحال اب مکمل طور پر محفوظ ہے۔‘

 

شیئر: