سعودی ہیریٹج کمیشن: مطلوبہ لائسنس کے بغیر نوادرات کی تجارت پر جرمانے
بعض معاملات میں جرمانے 15 ہزار ریال تک پہنچ گئے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی ہیریٹج کمیشن نے مطلوبہ لائسنس کے بغیر نوادرات کی ڈیلنگ پر جرمانے عائد کیے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ’ یہ اقدام مملکت کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور اس سیکٹر کے ریگولیشن کی تعمیل کو مضبوط بنانے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔‘
کمیشن نے کہا کہ ’قوانین کی خلاف ورزیوں میں رجسٹریشن، دستاویزات یا ضروری لائسنس کے بغیر آن لائن پلیٹ فارمز پر نوادرات کی نمائش اور فروخت شامل ہے، جو نوادرات، میوزیم اور شہری ورثے کے قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’جرمانوں کی نوعیت خلاف ورزی اور حالات کے مطابق مختلف تھی اور بعض معاملات میں جرمانے 15 ہزار ریال تک پہنچ گئے۔‘
کمیشن نے مملکت کے ورثے کے مقامات اور کلیکشنز سے متعلق خلاف ورزیوں کی نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے عزم کا اعادہ کیا۔
یاد رہے کہ سعودی ہیریٹج کمیشن نے ’عادت‘ کے نام سے قومی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ سعودی آثارِ قدیمہ کے بارے میں فہمِ عامہ میں اضافہ ہو سکے۔
یہ مہم کمیشن کے ان وسیع انیشی ایٹیوز کا ایک حصہ ہے جن کا مقصد سعودی آثار کو پھر توجہ کا مرکز بنانا ہے۔
ساتھ ساتھ اس مہم میں ان خطرات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے جن کی وجہ سے قدیم آثار کو نقصان پہنچ سکتا ہے جیسے ان پر ناجائز قبضہ یا ان کی غیر قانونی سمگلنگ۔
کمیشن کی مہم کا ایک مقصد اس خیال کو آگے بڑھانا ہے کہ سعودی عرب کے قدیم آٰثار کا تحفظ مل جل کر کیا جا سکتا ہے، جس کی جڑیں کسی قوم کی ثقافتی تاریخ میں ان آثار کے کردار کی اہمیت سے واضح ہوتی ہیں۔
