پچھلے سال گرمیوں کی بات ہے، ایک شادی میں شریک ہوا۔ ایک معروف شادی ہال میں تقریب تھی۔ کھانے کا وقت ہوا، لوگ تیزی سے لپکے اور جیسا کہ عام طور سے ہوتا ہے، رش لگ گیا۔ میرے جیسے چند لوگ خاموشی سے انتظار میں کھڑے ہو گئے، وہاں ایک جاننے والے سے ملاقات ہوگئی۔
آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ خوشحال، لاہور کے ایک پوش علاقے میں ذاتی مکان ہے، دوبیٹے ہیں۔ گپ شپ شروع ہوئی تو مہنگائی کا ذکر ہونے لگا۔ بولے، ’یار بجلی کا بل پچھلے مہینے 21 ہزار آیا۔ اخراجات بے پناہ ہو چکے ہیں، گزارا نہیں ہوتا۔ یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا۔‘
میں نے پوچھا، ’پھر کیا ارادہ ہے؟‘ کہنے لگے، ’بڑے بیٹے کو انگلینڈ بھجوا رہا ہوں، میں خود بھی کینیڈا اپلائی کر رہا ہوں، شاید اگلے سال چلے جائیں۔‘
مزید پڑھیں
-
سیاست اور اقتدار کی ان کہی کہانیاں: عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 902358
-
پاکستان میں اصل اپوزیشن کون ہے؟ عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 903522
مجھے یہ سن کر قدرے حیرت ہوئی۔ ویسے تو باہر چلے جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، لوگ جاتے رہتے ہیں، مگر یہ صاحب ٹھیٹھ مذہبی نظریات کے حامل رہے ہیں، اکثر مغرب کے حوالے سے سخت تنقیدی منفی رائے کا اظہار کرتے رہتے۔ میں نے ان سے پوچھا، ’وہ تو ٹھیک ہے، مگر آپ تو کہا کرتے تھے کہ مغرب میں لوگ اللہ کو مانتے ہی نہیں، بچے وہاں راہ سے بھٹک جاتے ہیں، اس لیے اپنے کلچر میں رہنا چاہیے۔ یہ رائے اب بدل گئی کیا؟‘
وہ ایک لمحے کو رکے، پھرشرمندہ شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ کھانے کی طرف بڑھ گئے۔ میں نے بھی مزید کچھ نہ پوچھا، پلیٹ میں کھانا نکالا اور دوسری طرف چل دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی مڈل کلاس کے بے پناہ تضادات پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ شاید کبھی کوئی کتاب لکھ بھی دے۔ جس کا نچوڑ ایک جملے میں یہ ہوگا، ’ہماری مڈل کلاس متضاد خواہشات کی اسیر ہے۔‘
بہت پہلے اشفاق احمد صاحب کی تحریر میں پڑھا تھا، شاید یہ واصف علی واصف کا لکھا جملہ تھا، مفہوم اس کا یہ ہے، ’ہم فرعون کی پرتعیش زندگی جینا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سی موت چاہتے ہیں۔‘
یہ کلاسیک جملہ ہماری مڈل کلاس کے تضاد کو کمال طریقے سے بیان کرتا ہے۔
پاکستانی مڈل کلاس مذہب بھی چاہتی ہے اور اپنی ذاتی زندگی میں ایک خاص انداز کا لبرل ازم بھی۔ یہ طبقہ مغرب کو گالیاں بھی دیتا ہے اور ویزا بھی لینے بھاگتا ہے۔ ایک لیڈر کو بڑے جتن سے لاتا ہے اور پھر اسی کو اتارنے کی تحریکیں چلاتا ہے۔ مہنگائی کے شکوے کرتا ہے، حکومت پر غصہ نکالتا ہے مگر جس کا جہاں بس چلے وہاں خود مہنگائی کر دیتا ہے۔ دودھ والا پانی ملاتا ہے، ڈاکٹر غیر ضروری مہنگے ٹیسٹ لکھتا ہے، وکیل کیس لمبا کرتا ہے، دکاندار کا جہاں داؤ لگے، وہ زیادہ قیمت لے گا۔ سب ایک دوسرے کو لوٹ رہے اور شکایت بھی کر رہے ہیں۔

تضاد صرف عمل اور دعوے میں نہیں بلکہ خواہشات میں بھی ہے۔ ایک پاکستانی مڈل کلاس آدمی بیک وقت یہ سب کچھ چاہتا ہے: بیٹی ڈاکٹر بنے، مگر شادی کے بعد نوکری نہ کرے۔ پی ٹی وی کے سنہری دور کے قصیدے پڑھنا مگر دیکھنا نیٹ فلکس ہے۔ عورت کو حقوق ملیں، مگر ’حد‘ میں رہے۔ ہمیشہ یہ شکوے کہ سیاست میں گند ہے، لیکن کوئی اچھا پڑھا لکھا، شریف آدمی الیکشن لڑے تو اسے ووٹ نہیں دینا کہ اس کا سیاست میں کیا کام۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ طبقہ برا ہے، دراصل یہ الجھا ہوا اور کنفیوز ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر بھی ہے۔ پاکستانی مڈل کلاس پچھلے پچاس ساٹھ سال میں بنی ہے۔ دو چار فیصد لوگ تو زیادہ پڑھ لکھ کر پروفیشنل بنے جیسے ڈاکٹر، انجینیئر، بینکر، وکیل، چارٹر اکاؤنٹنٹ، آئی ٹی پروفیشنل وغیرہ، یوں ان کی زندگی میں خوشحالی آئی۔ زیادہ تر مگر خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے خوشحال ہوئے۔
ایک اندازے کے مطابق پچھلی چار دہائیوں میں کئی سو ارب ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان آئیں، ان سے تقریباً ایک کروڑ گھرانوں کی حالت بدلی۔ یہ غربت سے نکل کر لوئر مڈل کلاس میں آ گئے۔
بیرون ملک سے کمائی کے طفیل یہ گھرانے گاؤں سے شہر آئے، دس مرلے کا گھر خریدا، گاڑی لی، بچوں کو پرائیویٹ سکول میں ڈالا۔ ان کی قدریں یا ویلیوز مگر گاؤں سے آئی تھیں، ان کی دنیا شہر کی تھی جبکہ ان کا خواب ویسٹ جانے کا تھا۔ یہ تین دنیاؤں میں بیک وقت جینے کی کوشش ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو اس طبقے کی شناخت بن چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی طبقہ سیاست میں بھی سب سے زیادہ فعال ہے اور سب سے زیادہ کنفیوز بھی۔ میں نے خود پنجاب میں اسی مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس کو مسلم لیگ ن اور شریف خاندان کی سپورٹ کرتے دیکھا۔ پھر بعد میں یہی طبقہ شریف خاندان کا ایسا مخالف ہوا کہ آج وہ کچھ بھی اچھا کام کر لیں، نظر میں ٹکتا ہی نہیں۔
2011 میں پی ٹی آئی کا عروج بھی یہی طبقہ لے آیا۔ لاہور کا وہ جلسہ جس نے سیاست کا رخ بدل دیا، اسی شہری مڈل کلاس نے بھرا۔ پھر 2013، 2018 میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔ پھر2021 اور 2022 میں یہی لوگ کہنے لگے کہ ’کچھ نہیں کیا اس نے، اتر جانا چاہیے۔‘
اپریل 2022 کو جب عدم اعتماد کی تحریک آئی تو مڈل کلاس کا ایک حصہ خوش تھا۔ پھر جب تحریک انصاف پر کریک ڈاؤن ہوا تو یہی طبقہ سڑکوں پر نکل آیا۔ آٹھ فروری 2024 کے الیکشن میں پھر پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔ آج دو 2026 میں حال یہ ہے کہ یہی لوگ پی ٹی آئی کے ہر دوسرے لیڈر کو غدار اور کمپرومائزڈ قرار دے رہے ہیں۔ سوائے خان صاحب کے پوری پارٹی میں شاید کوئی بھی قابل اعتبار نہیں بچا۔
یہ دراصل ایک مسلسل ناراضگی ہے جس کا کوئی منطقی اختتام نہیں۔ یہ طبقہ ہر لیڈر سے توقعات اتنی رکھتا ہے کہ کوئی بھی انسان پورا نہیں کر سکتا۔ بھٹو لے آئے، پھر اتارا۔ نواز شریف لائے، پھر اتارا۔ عمران خان لائے، پھر اتارنے کی تحریک۔ یہ ایک ایسا سائیکل ہے جو رکتا نہیں۔
آج اسی مڈل کلاس کے لوگ باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پچھلے ایک سال میں آٹھ لاکھ سے زیادہ پاکستانی ملک چھوڑ گئے۔ مزے کی بات ہے کہ یہی لوگ جو پاکستان کو چھوڑ رہے ہیں، وہ باہر جا کر پاکستانی قوم پرستی کا علمبردار بنتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کی ترقی کے چرچے، کرکٹ کے میچز میں سبز پرچم، یومِ آزادی پر ٹورنٹو، ہیوسٹن، لندن میں ریلیاں۔ جو ملک انہیں راس نہیں آیا، وہی ملک اب ان کی شناخت کا مرکز بن گیا۔

اسی طرح ایک اور تضاد کہ جو امریکہ اور برطانیہ کو گالیاں دیتے ہیں، ان کے بچے وہیں کی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، ان کے بھائی بہن وہیں ڈاکٹر ہیں، انہیں خود وہاں جا کر چیک اپ کرانا پسند ہے۔ ایک صاحب کو میں جانتا ہوں کہ وہ ہمیشہ مغرب کو گالیاں دیتے تھے۔ ایک بار ان کے بیٹے کے بارے میں پوچھا تو ایک معروف امریکی یونیورسٹی کا ذکر کیا کہ ماشااللہ وہاں پڑھ رہا ہے۔ میں نے مسکرا کر کہا، ’پھر تو مغرب اتنا بھی برا نہیں؟’ جواب ملا، ’وہ الگ معاملہ ہے۔‘
’وہ الگ معاملہ ہے‘، یہ شاید پاکستانی مڈل کلاس کا سب سے بڑا فقرہ ہے۔ ہر تضاد کا جواب یہی ہے۔ مذہب کا نام لینا اور خود لبرل لائف سٹائل اپنانا، کوئی اعتراض کرے تو یہی جواب کہ وہ الگ معاملہ ہے۔ ایمانداری کا درس اور اپنے ذمے ٹیکس کبھی نہ دینا؟ کیونکہ وہ تو الگ معاملہ ہے۔
ایک اور چیز جو اس طبقے کی شناخت بنی ہے، وہ ہے ’احساسِ محرومی۔‘ یہ لوگ خود کو ہمیشہ محروم سمجھتے ہیں۔ مالی طور پر جتنا بھی ہو، یہ ناکافی ہے۔ سماجی طور پر جتنی بھی عزت ملے، یہ کم ہے۔ سیاسی طور پر جتنی بھی نمائندگی ہو، یہ بے معنی ہے۔ یہ احساس محرومی اصل میں اس تضاد سے پیدا ہوتا ہے کہ یہ طبقہ خود کا بالائی طبقے سے موازنہ کرتا ہے۔ ظاہر ہے پھر ایسسمنٹ میں ان کا حصہ ہمیشہ کم ہی رہتا ہے۔
ایک اور پہلو دیکھیں۔ یہ طبقہ اپنے ہاں انصاف، میرٹ، اور قانون کی بات کرتا ہے مگر جب اپنی باری آتی ہے تو سفارش، جگاڑ، اور شارٹ کٹ تلاش کیا جائے گا۔ بچے کا کسی بڑے سرکاری تعلیمی ادارے میں داخلہ چاہیے تو کسی ’سورس‘ کی تلاش۔ نوکری چاہیے تو ’کوئی جاننے والا‘۔ ڈرائیونگ لائسنس چاہیے تو ’ایجنٹ‘۔ پھر یہی لوگ سوشل میڈیا پر لکھتے ہیں: ’اس ملک میں کوئی نظام نہیں۔‘
دیانت داری سے اعتراف کرنا چاہیے کہ اس تحریر کا مصنف یعنی خاکسار خود بھی اس طبقہ میں شامل ہے۔ ہم سب اسی کشتی میں ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم برے لوگ ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے تضادات کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ ہمیں لگتا ہے کہ مسئلہ باہر ہے۔ حکومت میں، فوج میں، مذہبی جماعتوں میں، لبرلز میں، میڈیا میں، مغرب میں، انڈیا میں، عالمی سامراج میں۔ جو ریڈ لائن ہم روز خود پھلانگ جاتے ہیں، اس کا ذکر نہیں۔

میں نے مڈل کلاس کے خلاف اتنی باتیں لکھ ڈالیں، مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ یہی طبقہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی بھی ہے۔ یہی پاکستان کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی شکل طے کرتا ہے۔ الیکشن میں سب سے زیادہ متحرک، سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ بولنے والا، اخبار پڑھنے والا، ٹی وی دیکھنے والا، ٹیکس دینے والا (چاہے مجبوری سے)، ترسیلاتِ زر بھیجنے والا، یہی طبقہ ہے۔ اگر یہ مڈل کلاس والے الجھے ہوئے ہیں تو ملک کا مستقبل بھی الجھا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ دنیا کی ہر ترقی یافتہ قوم کی بنیاد مڈل کلاس نے رکھی ہے۔ یورپ کا صنعتی انقلاب، امریکہ کا گلوبل ایمپائر بننا، جاپان کی ترقی، جنوبی کوریا کا معجزہ، انڈیا کا ابھار، چین کا معاشی سپر پاور بننا، ہر جگہ مڈل کلاس کا مرکزی کردار رہا۔ یہ طبقہ جب حقیقت پسند ہو جائے، جب یہ اپنے تضادات کو تسلیم کر کے ان سے نکلنے کی کوشش کرے، تب تبدیلی آتی ہے۔ پاکستانی مڈل کلاس ابھی اس مقام پر نہیں پہنچا۔
ایک بار کسی دوست سے ڈسکشن میں کہا تھا کہ پاکستانی مڈل کلاس کو ایک آئینہ چاہیے۔ وہ ہنس کر بولے، ’آئینہ تو ہے، سوشل میڈیا مگر وہاں ہم اپنے آپ کو نہیں، دوسروں کو دیکھتے ہیں۔‘
بات ٹھیک تھی۔ ہم اپنے بارے میں لکھتے نہیں، دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ ہم اپنے تضادات پر بات نہیں کرتے، دوسروں کے تضادات گنتے ہیں۔ اور اسی لیے ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں 50 سال پہلے تھے۔ امیر نہیں، غریب نہیں، مذہبی نہیں، ویسٹرن نہیں، جدید نہیں، قدیم نہیں، صرف درمیان میں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی درمیان میں کھڑے رہنا چاہتے ہیں یا آخر کار یہ طے کر لیں گے کہ جانا کدھر ہے؟ جس قوم نے اپنی سمت طے نہ کی ہو، اسے ہر راستہ غلط، ہر رہنما ناکام اور ہر تبدیلی نامکمل ہی نظر آتی ہے۔ اب انتخاب ہمارا ہے۔













