ٹی20 ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم پاکستان بنگلہ دیش کے دورے پر ہے۔ یہاں تین ایک روزہ میچز کی سیریز کھیلی جا رہی ہے۔ انتہائی سُپر سٹار اور انتہائی تیز گیند باز شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں ٹیم شیر بنگلہ سٹیدیم میرپور میں میزبان بنگلہ دیش کو چاروں شانے چت کرنے کی نیت سے میدان میں اتری۔
بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا۔ صاحبزادہ فرحان اور لیفٹی معاذ صداقت اوپننگ کرنے آئے۔ فرحان اچھے ٹچ میں دکھائی دیے، سچی بات ہے کہ نوجوان معاذ نے بھی دو چار عمدہ اور دلکش سٹروکس کھیلے، بالخصوص کور کی جانب۔ پھر سپنر کو بھی آگے نکل کر جاندار شاٹ کھیلی، لڑکے کا اعتماد بہتر دکھائی دیا۔
دسواں اوور تھا اور یہاں سے تباہی اور بربادی کی نئی داستان رقم ہونے جا رہی تھی۔ ناہید رانا ہیرو بننے جا رہے تھے۔ کور پر فرحان کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ڈیبیو کرنے والے شامل حسین ون ڈاؤن کی پوزیشن پر چار رنز پر ہی پہنچے تھے کہ پُل مارتے ہوئے گیند اوپر نکال بیٹھے، وکٹ کیپر نے آسان کیچ لیا۔ رضوان آئے، دو چار چیکی شاٹس لگائیں، اور کیپر کو باہر جاتی گیند پر کیچ دے بیٹھے۔ توں چل تے میں آیا کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔
مزید پڑھیں
-
پہلا ون ڈے: بنگلہ دیش نے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دیNode ID: 901663
ٹی وی سکرین پر براہ راست میچ دیکھتے ہوئے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ ٹیم پاکستان ہی ہے۔ تھکی ہاری باڈی لینگوئج، گرا ہوا مورال، اترے ہوئے چہرے، اعتماد کی شدید کمی اور گیم پلان کا فقدان واضح جھلک رہا تھا۔ ایک سو تیس، ایک سو چالیس کی سپیڈ پر آنے والی گیندیں انہیں بریٹ لی کی گیندیں لگ رہی تھیں۔
بنگلہ دیشی کپتان مہدی حسن میراز کی سپن بولنگ میں شاید مرلی دھرن کی ورائٹیاں نظر آ رہی تھیں۔ ٹی20 کے کپتان جو اکثر کھیل سے زیادہ چیونگ گم کے ساتھ کھیل میں مصروف ہوتے ہیں، کریز پر آئے۔ کپتان میراز اورگیند باز رانا نے سلمان کے لیے شارٹ لیگ پر فیلڈر لے رکھا تھا، گیند اسی لینتھ پر ڈالی، اور سلمان چیونگ چباتے چباتے اسی مخصوص فیلڈر کو کیچ تھما کر چیونگ چباتے چباتے ہی واپس پویلین لوٹ گئے۔

انہتر رنز پر پانچ، 70 پر چھ اور 77 پر سات آؤٹ ہو چکے تھے۔ سمجھنے سے قاصر تھا کہ حسین طلعت، شاہین آفریدی اور عبدالصمد میراز کی بظاہر عام فہم گیندوں پر وکٹ کیوں دے بیٹھے۔ اندر آتی گیند پر ایل بی ڈبلیو یا کیپر کو ایج دینا ناقابل فہم تھا۔ پھول نگر اور پتوکی سے نسبت والے رانا فہیم اشرف نے کوشش کی کہ سہارا دیا جا سکے مگر دوسرے اینڈ پر کوئی تھا ہی نہیں۔ 37 رنز کے ساتھ سر فہرست قرار پائے اور ٹیم پاکستان محض 114 رنز کے مجموعے پر ڈھیر ہوگئی۔
پچاس اوورز پورے تو دور کی بات ٹیم محض 30 اعشاریہ چار اوورز ہی کھیل کر تھک ہار گئی۔ ناہید رانا پانچ وکٹوں کیساتھ سر فہرست رہے۔ گیند بازی کی باری آئی تو معلوم ہوا کہ یہ پچ ہی کوئی اور ہے ۔ بنگلہ دیشی بلے بازوں نے نہ شاہین کا غصہ دیکھا نہ ابرار کی مِسٹری ۔ دھو دھو کر بھرکس نکال دیا۔ 15 اوروز اور ایک گیند پر 114 رنز دو وکٹوں کے نقصان پر پورے کر لیے۔
اوپنر تنزید کی اننگز دیکھ کر مسرت ہوئی کہ نوجوان نے کمال اعتماد کے ساتھ پاکستانی اٹیک کو دھبڑ دوس کر ڈالا۔ مانا کہ سکور انتہائی کم تھا، مانا کہ بنگلہ دیش کا ہوم گراونڈ تھا، مانا کہ آپ میچ کے پہلے 10 اوورز کے بعد ہی ہار چکے تھے لیکن کوئی فائٹ بیک نامی شے بھی گیم کا حصہ ہوتی ہے۔ کوئی پیس، کوئی سیم، کوئی لائن اینڈ لینتھ بھی شے ہوتی ہے۔ کچھ چمتکار بھی چھوٹے ٹارگٹ کا دفاع کرتے ہوئے وقوع پذیر ہوتے آئے ہیں۔ مگر ہیچ آرزو مندی۔ پلے ککھ بھی نہیں تھا۔ یوں لگا کہ بنگلہ دیش کسی کلب ٹیم کیساتھ پریکٹس میچ کھیل رہی ہے اور انہیں افطار سے پہلے میچ ختم کرنا ہے۔ 15 اوورز میں کھیل ختم۔

لطیفہ اس بیچ البتہ یہ ضرور ہوا کہ میچ شروع ہوتے ہی جب ٹاس کے بعد کمنٹری شروع ہوئی تو رمیض راجہ ٹاس کے ساتھ 350 کے مجموعے کا ذکر کر رہے تھے، کہ ان دنوں ٹاس جیت کر عموماً ساڑھے تین سو رنز پر ہی نظر ہوتی ہے۔ رمیض اس جملے پر یقیناً پشیمان ہوں گے۔ ساڑھے تین سو دور، ڈھائی سو نہ ہو سکا۔ ڈیڑھ سو تک کی گنجائش ختم ہوچکی تھی۔
پاکستان بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے کی تاریخ میں کم ترین سکور پر آل آؤٹ ہوا۔ یعنی 114۔ اس سے پہلے نارتھمپٹن میں مشہور زمانہ ورلڈ کپ کے ایک میچ میں پاکستان نے 161 رنز سکور کیے تھے جو اس وقت تک کم سے کم سکور تھا۔ پاکستان کے کم سے کم ون ڈے سکور کی فہرست دیکھیں تو معلوم ہوتا کہ بڑی ٹیموں کے خلاف یہ ریکارڈ بنے، یعنی ویسٹ انڈیز، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، انڈیا اور آسٹریلیا وغیرہ۔ چھوٹی ٹیموں کے خلاف سوا سو سکور پر بُک ہونا اچنبھے کا پہلو تھا اور رہے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بربادی کا ذمہ دار کون ہے؟ شاہین شاہ آفریدی کس بنیاد پر ٹیم میں ہیں، اس سے بھی اہم یہ کہ کس بنیاد پر کپتان ہیں؟ نئے لڑکوں کو ڈومیسٹک پرفارمنس کی بنیاد پر موقع دینا خوش آئند لیکن وہ کامران غلام کہاں گیا؟ وہ سعود شکیل کہاں غائب ہوا؟ حقدار کی جگہ یہ عجب تحفے ٹیم میں کاہے کو فِٹ کیے گئے؟
ابھی ان سوالوں کی مزید تراش خراش جاری تھی کہ یاد آیا، ہم تو ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ سیریز بھی ہارے ہوئے ہیں۔ آپ کو یاد آیا؟ نہیں ناں؟ معلوم ہے کیوں؟ کیونکہ اب توعادت سی ہے! ایک نئی سرجری کی بجائے اگر کرکٹ پاکستان پر صرف رحم کر لیا جائے تو یہی کافی ہوگا۔












