Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ شی ملاقات آج، ’ایران جنگ پر بڑے بریک تھرو کا امکان نہیں‘

صدر ٹرمپ بدھ کی شام بیجنگ پہنچے (فوٹو: نیویارک ٹائمز)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کا آغاز ہو چکا ہے، وہ ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے، تاہم ایران جنگ سمیت بعض دیگر اہم معاملات پر کسی اہم پیش رفت کا امکان نہیں ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سربراہی اجلاس میں بڑے ایشوز جیسے تجارت، تائیوان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اور ایران جنگ جیسے اہم مسائل کے حوالے کسی کوئی بریک تھرو دکھائی نہیں دے رہا۔
بدھ کی رات پہنچنے پر بیجنگ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور فلک بوس عمارتوں پر ’بیجنگ ویلکم‘ جھلملاتا نظر آیا اور صدر ٹرمپ حکام کے ہمراہ ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔
وہ آج چینی رہنما شی جن پنگ سے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ایک تقریب میں سے ملاقات کریں گے اور دونوں ایک سرکاری ضیافت میں بھی شرکت کریں گے۔
کل یعنی جمعے کو صدر ٹرمپ اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ لنچ بھی کریں گے۔
دورے کے بارے میں وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی معاملات پر بات ہو گی اور اس بارے میں اہم اعلانات بھی ہو سکتے ہیں جن میں امریکی سویابین، گائے کا گوشت اور چین کی جانب سے امریکی ہوائی جہاز خریدنے کے معاملات شامل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار چین کے ساتھ تجارتی اختلافات کو دور کرنے کے لیے ایک تجاررتی بورڈ کا قیام بھی چاہتے ہیں۔
تاہم اس بارے میں دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے کوئی ٹھوس تفصیلات پیش نہیں کی ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب چین کے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات صورت حال کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں، صدر ٹرمپ کے دورے سے آخر کیا نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اپنے موقف کو جاری رکھے ہوئے ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے امریکی معیشت کے کمزور ہونے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں اور ریپبلکنز کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔
ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز ابھی تک بند ہے جس سے تیل کی تجارت میں خلل پڑا ہے اور تیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ صورت حال مجموعی طور پر عالمی اقتصادیات کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
سینٹر فار یورپین پالیسی اینالیسز سے منسلک جم لیوس کا خیال ہے کہ ’صدر ٹرمپ چینی حکام پر ایران کے معاملے پر مدد کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوں گے جبکہ چین صدر ٹرمپ سے تائیوان کے لیے رعایت لینے پر دباؤ ڈالے گا، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘
چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدرا ہے پھر بھی صدر ٹرمپ چینی ہم منصب پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ ایران پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔

شیئر: