Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا صدر ٹرمپ بوئنگ کے لیے چین کا بند دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات کے بعد، طیارہ ساز کمپنی بوئنگ قریباً ایک دہائی میں چین کو اپنی پہلی بڑی فروخت کرنے جا رہی ہے۔
امریکی خبر رسااں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جمعے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بوئنگ کمپنی کی جانب سے بتایا گیا کہ اس معاہدے کے تحت چین 200 امریکی طیارے خریدے گا۔
یہ ڈیل امریکی ایرواسپیس کمپنی بوئنگ کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے اس چینی مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہونے کی کوششیں کر رہی تھی جو کبھی اس کی مستقبل کی ترقی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔
بیجنگ سے واپسی پر اپنے صدارتی طیارے ’ایئر فورس ون‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اس معاہدے کے حصے کے طور پر چین نے بوئنگ سے مزید 750 طیارے خریدنے کا حق بھی محفوظ رکھا ہے۔
بعد ازاں بوئنگ نے جمعے کے روز ہی 200 طیاروں کے آرڈر کی تصدیق تو کی تاہم طیاروں کی اقسام یا دیگر تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ’ہمارا دورہِ چین انتہائی کامیاب رہا اور ہم نے بوئنگ طیاروں کے آرڈرز کے لیے چینی مارکیٹ کو دوبارہ کھولنے کا اپنا بڑا ہدف حاصل کر لیا ہے۔‘
کمپنی نے مزید کہا کہ وہ مستقبل میں بھی چین کی طیاروں کی طلب کو پورا کرنے کے لیے پرامید ہے۔
بوئنگ کے سی ای او کیلی اورٹبرگ بھی امریکی سی ای اوز کے اس بڑے وفد کا حصہ تھے جنہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ بیجنگ کا دورہ کیا تاکہ چین کو مصنوعات اور خدمات فروخت کی جا سکیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اس ممکنہ ڈیل سے جنرل الیکٹرک (جی ای) کو بھی فائدہ پہنچے گا جو چین کو 400 سے 450 انجن فراہم کرے گی۔
جی ای ایرواسپیس کے چیئرمین اور سی ای او ایچ لارنس کلپ بھی اس دورے میں شامل تھے تاہم کمپنی نے تاحال اس معاہدے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
گزشتہ ماہ سی ای او اورٹبرگ نے اعتماد ظاہر کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کے نتیجے میں سامنے آنے والا کوئی بھی وسیع تر امریکہ-چین تجارتی معاہدہ بوئنگ کے لیے ایک ’بامعنی موقع‘ ثابت ہو گا۔
انہوں نے سرمایہ کاروں کو بتایا ’صدر ٹرمپ بین الاقوامی مہمات میں ہماری حمایت پر بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور وہ اس میں انتہائی کامیاب رہے ہیں۔‘
جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت سنبھالی ہے، ان کی انتظامیہ نے امریکی مینوفیکچرنگ کو بحال کرنے کے منصوبوں میں بوئنگ کو خاص اہمیت دی ہے۔

صدر ٹرمپ اور غیر ملکی رہنماؤں کی ملاقاتوں کے بعد بوئنگ کے دیگر بڑے معاہدے بھی سامنے آئے (فائل فوٹو: روئٹرز)

ایک سال قبل صدر ٹرمپ کے دورہِ مشرقِ وسطیٰ کے دوران بھی بڑے طیاروں کے معاہدے طے پائے تھے جن میں قطر ایئرویز کا 210 بوئنگ جیٹ طیاروں کا آرڈر شامل تھا، جسے کمپنی نے تاریخ کا سب سے بڑا وائیڈ باڈی آرڈر قرار دیا تھا۔ اس دورے میں سعودی عرب نے بھی کمرشل طیاروں کے آرڈرز دیے تھے۔
اسی طرح صدر ٹرمپ اور غیر ملکی رہنماؤں کی ملاقاتوں کے بعد بوئنگ کے دیگر بڑے معاہدے بھی سامنے آئے۔
اگست میں، جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے دورہِ واشنگٹن کے دوران کورین ایئر نے 100 سے زائد بوئنگ طیاروں، اسپیئر انجنوں اور طویل مدتی دیکھ بھال کی سروسز کے لیے قریباً 50 ارب ڈالر کے معاہدے کو حتمی شکل دی۔
اگلے ہی مہینے ترک صدر رجب طیب اردوغان کی واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے اگلے روز ترکش ایئرلائنز نے اپنے بیڑے میں 225 بوئنگ طیارے شامل کرنے کا اعلان کیا۔
بوئنگ کے لیے ایک اور کامیابی نومبر میں دبئی ایئر شو کے دوران ملی جب مقامی ایئرلائن ایمریٹس نے بوئنگ کے آنے والے 65 طیاروں (777-9) کا آرڈر دیا۔ چند روز بعد ایمریٹس کی سستی ایئرلائن فلائی دبئی نے مزید 75 بوئنگ 737 میکس طیاروں کا آرڈر دیا۔
کورونا وبا سے پہلے، بوئنگ کے تیار کردہ تنگ باڈی (نیرو باڈی) طیاروں کا قریباً ایک تہائی حصہ چین جاتا تھا لیکن امریکہ اور چین کے تعلقات میں کشیدگی کے باعث بوئنگ کا وہاں کاروبار بری طرح متاثر ہوا۔
چین وہ پہلا ملک بھی تھا جس نے 2019 میں انڈونیشیا اور ایتھوپیا میں پانچ ماہ کے دوران دو فضائی حادثات میں 346 افراد کی ہلاکت کے بعد 737 میکس طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا تھا۔
چینی ایئرلائنز نے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت تاخیر سے (جنوری 2023 میں) ان طیاروں کی پروازیں دوبارہ شروع کی تھیں۔
کیلی اورٹبرگ نے 2024 میں بوئنگ کی قیادت سنبھالی جو کمپنی کے لیے ایک تباہ کن سال تھا۔
اسی سال جنوری میں پورٹ لینڈ، اوریگون سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد ایک 737 میکس طیارے کا ڈور پلگ (پینل) ہوا میں اڑ گیا تھا۔ پیداواری اور معیار کی خرابیوں کی سخت جانچ پڑتال کے باعث بوئنگ کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
اگرچہ اس ہفتے ہونے والے امریکہ-چین سربراہی اجلاس سے ٹھوس تجارتی معاہدوں کی امیدیں وابستہ تھیں لیکن جرمن مارشل فنڈ میں انڈو-پیسفک پروگرام کی مینیجنگ ڈائریکٹر بونی گلیسر کا کہنا ہے کہ صدر کا یہ دورہ فریقین کے مابین معاہدوں کے حوالے سے کافی غیر یقینی صورتحال پر ختم ہوا۔
جمعے کو میڈیا بریفنگ میں بونی گلیسر نے بتایا کہ اس سمٹ سے تجارتی معاہدوں کے بارے میں بہت کم ٹھوس معلومات ملی ہیں، بشمول سویا بین، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور گائے کے گوشت جیسی امریکی برآمدات کی چینی خریداریوں کے۔
 انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس صرف وہی کچھ ہے جو صدر نے دنیا کو بتایا ہے کہ چین اس پر راضی ہو گیا ہے۔‘

 

شیئر: