سعودی عرب: ایک ہفتے کے دوران 9 ہزار 832 غیر قانونی تارکین کی واپسی
اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی 8 ہزار 943 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی مزید 8 ہزار 943 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ 9 ہزار 832 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 14 سے 20 مئی 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 4 ہزار 638 افراد کو اقامہ قانون، 2 ہزار 810 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور ایک ہزار 495 کو لیبر لا کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 158 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 61 فیصد ایتھوپین، 38 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 54 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 8 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر 23 ہزار679 تارکین جس میں 22 ہزار 629 مرد اور ایک ہزار 50 خواتین شامل ہیں، جو اس وقت ضوابط پر عملدرآمد کے پروسیجر سے گزر رہے ہیں۔

16 ہزار 402 کو سفری دستاویز ات کے لیے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے اور ایک ہزار 619 کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ 9 ہزار 832 کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
