سعودی عرب اور دیگر مسلم وزرائے خارجہ کی یروشلم میں صومالی لینڈ کا سفارتخانہ کھولنے کی مذمت
یروشلم کی حیثیت کو تبدیل کرنے والے یکطرفہ اقدام کو مسترد کیا گیا۔(فوٹو سوشل میڈیا)
سعودی عرب سمیت عرب اور مسلم ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اتوار کو یروشلم میں ’نام نہاد صومالی لینڈ‘ کا سفارتخانہ کھولنے کی سخت مذمت کی ہے۔
وزرائے خارجہ نے سفارتخانہ کھولنے کوغیر قانونی اور ناقابل قبول اقدام قرار دیا اور کہا کہ ’یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی، مقبوضہ یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت پر براہ راست حملہ ہے۔‘
سعودی عرب، قطر، مصر، اردن، ترکیہ، پاکستان، انڈونیشیا، جبوتی، صومالیہ، فلسطین، عمان، سوڈان، یمن، لبنان، موریطانیہ، کویت، الجزائر، بنگلہ دیش اور مراکش کے وزرائے خارجہ نے بیان میں مقبوضہ یروشلم کی حیثیت کو تبدیل کرنے والے کسی بھی یکطرفہ اقدام کو مسترد کیا گیا۔
بیان میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ مشرقی یروشلم فلسطینی علاقہ ہے جو 1967 سے مقبوضہ ہے۔ اس کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے کسی بھی اقدام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
وزرائے خارجہ نے صومالیہ کے اتحاد، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے مکمل سپورٹ کا اعادہ کیا۔ صومالیہ کی علاقائی سالمیت یا خود مختاری کی خلاف ورزی کے کسی بھی یکطرفہ اقدام کو مکمل طور پر مسترد کیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ سال دسمبر میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کی خطے کے ممالک اور او آئی سی کی جانب سے شدید مذمت کی گئی تھی۔
