’نیتن یاہو نے ٹرمپ سے کہا اسرائیل خطرات کے خلاف کارروائی میں آزاد رہے گا‘
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ اسرائیل لبنان سمیت ہر محاذ پر خطرات کے خلاف کارروائی کرنے کی آزادی برقرار رکھے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹر نے ایک اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ گفتگو واشنگٹن اور ایران کے درمیان ابھرتے ہوئے ممکنہ معاہدے کے تناظر میں ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور ایران ایک امن معاہدے کی مفاہمتی یادداشت پر کافی حد تک مذاکرات مکمل کر چکے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا۔ یہ اہم بحری گزرگاہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے عملاً بند رہی ہے۔
اتوار کو رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے کہا کہ ’گزشتہ رات صدر ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل لبنان سمیت تمام محاذوں پر خطرات کے خلاف کارروائی کی آزادی برقرار رکھے گا، اور صدر ٹرمپ نے اس اصول کی توثیق اور حمایت کی۔‘
تین ماہ سے جاری جنگ میں کسی بڑی پیش رفت کی توقعات اس وقت بڑھ گئیں جب ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والا ممکنہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، مجوزہ مسودے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران یا اس کے اتحادیوں پر حملہ نہیں کریں گے، جبکہ اس کے بدلے ایران بھی ان کے خلاف پیشگی حملے نہ کرنے کا وعدہ کرے گا۔
اسرائیلی سیاست دان بینی گینٹز نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے حصے کے طور پر لبنان میں جنگ بندی قبول کرنا اسرائیل کی ’سٹریٹجک غلطی‘ ہوگی۔ اسرائیلی فوج لبنان میں ایران نواز حزب اللہ ملیشیا کے خلاف کارروائی کے لیے داخل ہو چکی ہے۔
اسرائیلی ذریعے کے مطابق، امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اسرائیل کو مسلسل آگاہ کر رہا ہے۔
ذریعے نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں اپنے مستقل مطالبے پر قائم رہیں گے، یعنی ایرانی جوہری پروگرام کا خاتمہ اور ایران کی سرزمین سے تمام افزودہ یورینیم کا انخلا، اور وہ ان شرائط کے پورا ہوئے بغیر کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔‘
