میسی کا جادُو نہ چل سکا، سپین دوسری مرتبہ فٹ بال کا چیمپئن بن گیا
میسی کا جادُو نہ چل سکا، سپین دوسری مرتبہ فٹ بال کا چیمپئن بن گیا
اتوار 19 جولائی 2026 21:25
فائنل کے مہمان خصوصی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپینش ٹیم کے کپتان کو فیفا کی ٹرافی پیش کی (فوٹو: روئٹرز)
نیو یارک کے نیو جرسی سٹیڈیم میں فٹ بال کی دنیا کے سب سے بڑے میلے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میچ سپین نے دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو 0-1 سے شکست دے کر دوسری مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کیا۔
سپین کے فارورڈ فیرن توریس نے میچ کے 106 ویں منٹ میں شاندار کِک لگا کر بال کو جال میں پہنچا دیا جس پر ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز بھی ہَکا بَکا رہ گئے۔
پہلے ہاف کے اختتام پر میچ بغیر کسی گول کے برابر تھا۔ دیکھا جائے تو اس ہاف میں سپین، ارجنٹائن کی ٹیم پر دباؤ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور سپینش کھلاڑیوں نے حریف ٹیم کے گول پر متعدد حملے کیے۔
دفاعی چیمپئن ارجنٹائن مسلسل دوسری بار عالمی تاج اپنے نام کرنے کے لیے میدان میں اُترا تھا جبکہ یورپی چیمپئن سپین کی ٹیم 2010 کے بعد دوسری مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کے خواب کے ساتھ فائنل کھیل رہی تھی۔
فائنل کے مہمان خصوصی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے سپینش ٹیم کے کپتان روڈریگو ہرنینڈز کو ٹرافی پیش کی اور کھلاڑیوں کو میڈلز پہنائے۔
فائنل میچ کے اعداد و شمار
سپین نے اس میچ پر شروع سے آخر تک اپنی گرفت مضبوط رکھی اور دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی سمیت کسی کھلاڑی کی ایک نہ چلنے دی۔
سپین کے فارورڈز نے ارجنٹائن کے دفاعی کھلاڑیوں کو مسلسل مصروف رکھا اور اُن کے گول پر مجموعی طور پر 20 حملے کیے جن میں سے 12 ٹارگٹ پر تھے۔
دوسری جانب ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کے ناقص کھیل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے سپین کے گول پر صرف دو حملے کیے جن میں سے ایک بھی ہدف پر نہیں تھا۔
سپین نے میچ میں 9 کارنرز حاصل کیے جبکہ اس کے مقابلے میں ارجنٹائن صرف 4 کارنرز ملے۔ اسی طرح سپینش کھلاڑیوں کے 858 پاسز کے مقابلے میں ارجنٹائن کے پاسز کی تعداد قریباً نصف یعنی 456 تھی۔
لیونل میسی سپین کے خلاف فائنل میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے (فوٹو: روئٹرز)
اس میچ میں سپین کا ریکوری ٹائم 10 سیکنڈ تھا جبکہ ارجنٹائن کا ریکوری ٹائم 13 سیکنڈ تھا۔ اس طرح بال کا کنٹرول بھی واضح طور پر یعنی 66 فیصد سپین کے پاس جبکہ صرف 34 فیصد ارجنٹائن کے پاس تھا۔
لامین یمال، مارک کوکوریا اور دیگر کھلاڑیوں نے ارجنٹائن کے گول پوسٹ پر تابڑ توڑ حملے کیے، تاہم ارجنٹائن کے گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی یقینی گول بچائے۔
ارجنٹائن کے کھلاڑی کو ریڈ کارڈ مل گیا
دوسرے ہاف کے آخر میں ریفری نے ارجنٹائن کے کھلاڑی اینزو فرنانڈیز کو فاؤل پلے پر دوسرا ییلو کارڈ دکھا کر گراؤنڈ سے باہر بھیج دیا۔
فٹ بال کے قوانین کے مطابق اگر کسی کھلاڑی کو ایک ہی میچ میں دو پیلے کارڈ مل جائیں تو ریفری اسے دوسرے فاؤل پر ریڈ کارڈ دکھا کر میچ سے باہر کر دیتا ہے۔
اس طرح ارجنٹائن کی ٹیم اضافی وقت میں 10 کھلاڑیوں کے ساتھ میچ کھیلی۔ اس میچ میں ارجنٹائن کو مجموعی طور پر پانچ ییلو کارڈ ملے۔
سپین کے فیرن توریس نے میچ کے 106 ویں منٹ میں شاندار کِک لگا کر اپنی ٹیم کو فیصلہ کن برتری دلائی (فائل فوٹو: گیٹی امیجز)
ارجنٹائن فائنل میں کیسے پہنچا؟
ارجنٹائن نے ناک آؤٹ مرحلے کا آغاز راؤنڈ آف 32 میں کیپ وردے کو 2-3 سے شکست دے کر کیا تھا۔ اس کے بعد پری کوارٹر فائنل (راؤنڈ آف 16) میں مصر کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2-3 سے ہرایا۔
کوارٹر فائنل میں دفاعی چیمپئن نے سوئٹزرلینڈ کو 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جہاں اس کا مقابلہ مضبوط ٹیم انگلینڈ سے ہوا۔
سیمی فائنل میں ارجنٹائن نے آخری لمحات میں شاندار کم بیک کرتے ہوئے انگلینڈ کو 1-2 سے شکست دی اور مسلسل دوسری مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ لیونل میسی، لاوتارو مارٹینیز اور اینزو فرنانڈیز نے ناک آؤٹ مرحلے میں اہم کردار ادا کیا۔
سپین فائنل میں کیسے پہنچا؟
سپین نے راؤنڈ آف 32 میں آسٹریا کو 0-3 سے شکست دے کر مہم کا کامیاب آغاز کیا۔ پری کوارٹر فائنل (راؤنڈ آف 16) میں اس نے پڑوسی حریف پرتگال کو 0-1 سے شکست دی۔
کوارٹر فائنل میں سپین نے مضبوط سمجھے جانے والی ٹیم بیلجیئم کو 1-2 سے ہرا کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی، جہاں اس کا سامنا فرانس سے ہوا۔
نیو جرسی کے فٹ بال سٹیڈیم میں 80 ہزار سے زائد تماشائیوں نے فیفا ورلڈ کپ کا فائنل دیکھا (فوٹو: روئٹرز)
سیمی فائنل میں سپین نے منظم اور جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے فرانس کو 0-2 سے شکست دی اور 2010 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا۔
کوچ لوئس ڈی لا فوئنٹے کی ٹیم نے پورے ناک آؤٹ مرحلے میں متوازن دفاع اور مؤثر اٹیک کے ذریعے خود کو ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیموں میں ثابت کیا۔
سپین یا ارجنٹائن، کس کا پلڑا بھاری؟
ورلڈ کپ 2026 کے فائنل سے قبل سپین اور ارجنٹائن کے درمیان ماضی کے مقابلوں کا ریکارڈ دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلے کی عکاسی کرتا ہے۔
دونوں ٹیمیں اب تک تمام ٹورنامنٹس میں 14 بار آمنے سامنے آچکی ہیں، جن میں ارجنٹائن نے چھ جبکہ سپین نے بھی چھ میچ جیت جیت رکھے ہیں جبکہ دو مقابلے بغیر کسی نتیجے کے برابر رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سنہ 2026 کے فائنل سے قبل فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں دونوں ٹیموں کی صرف ایک ہی بار ٹکر ہوئی تھی۔ یہ مقابلہ سنہ 1966 کے ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں کھیلا گیا، جہاں ارجنٹائن نے سپین کو 1-2 سے شکست دے کر کامیابی اپنے نام کی تھی۔