ٹیچر کی انعامی رقم سکول پر خرچ،’طلبہ کو عملی تعلیم کے مزید مواقع میسر آ سکیں‘
ٹیچر کی انعامی رقم سکول پر خرچ،’طلبہ کو عملی تعلیم کے مزید مواقع میسر آ سکیں‘
جمعرات 28 مئی 2026 8:51
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز
صوبہ پنجاب کے ضلع لیہ میں قائم گورنمنٹ ہائی سکول ایم سی نمبر 1 کے ایس ایس ای سائنس ٹیچر ایاز احمد ملغانی نے پنجاب کے وزیر تعلیم کی جانب سے دی جانے والی 25 ہزار روپے کی انعامی رقم دوبارہ اپنے ہی سکول کے طلبہ پر خرچ کر دی۔
یہ رقم انہوں نے سکول کی سائنس لیب کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کی تاکہ طلبہ کو عملی تعلیم کے مزید مواقع میسر آ سکیں۔
ایاز احمد ملغانی گورنمنٹ ہائی سکول ایم سی نمبر 1 لیہ میں ایس ایس ای سائنس کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے 2010 میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں بطور ای ایس ٹی اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔
جس کے بعد 2014 میں ای ایس ای بیالوجی اور پھر 2016 میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کے طور پر کام کیا۔ تقریباً نو برس انتظامی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد وہ دوبارہ تدریسی شعبے میں واپس آئے اور گورنمنٹ ہائی سکول ایم سی نمبر 1 لیہ میں سائنس ٹیچر کے طور پر تعینات ہوئے۔
انہوں نے اپنے سکول سے متعلق اردو نیوز کو بتایا 'یہ سکول محدود رقبے پر قائم ہے لیکن حالیہ عرصے میں یہاں تعلیمی کارکردگی اور انرولمنٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔' ان کے مطابق اس سال سکول پہلی بار ضلع میں انرولمنٹ کے لحاظ سے پہلے نمبر پر آیا ہے جبکہ مجموعی داخلوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سکول میں تدریسی عمل جدید طریقوں پر استوار کیا گیا ہے۔ یہاں بچوں کو سائنس لیب میں مائیکروسکوپ کے ذریعے عملی مشاہدات کروائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کلاس روم میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اے آئی ٹولز اور ملٹی میڈیا پروجیکٹرز کے ذریعے بھی بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ اس حوالے سے بتاتے ہیں 'سکول میں روایتی تدریس کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
ڈیجیٹل لٹریسی اینڈ ٹیکنالوجی انٹیگریشن کے تحت مصنوعی ذہانت کی مدد سے بیالوجی کے اسباق کی ویڈیوز اور گرافکس تیار کیے گئے ہیں جنہیں لیپ ٹاپ اور ملٹی میڈیا پروجیکٹر کے ذریعے کلاس روم میں دکھایا جاتا ہے۔' ان کے مطابق اس طریقہ تدریس سے بچوں کو بنیادی تصورات دلچسپ انداز میں سمجھانے میں مدد ملتی ہے جبکہ سبق کے بعد عملی سرگرمیوں اور فارمیٹو اسیسمنٹ کے ذریعے طلبہ کی سمجھ بوجھ کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تدریس ہو یا انتظامی ذمہ داری 'اگر اساتذہ لگن، خلوص اور اپنائیت کے ساتھ کام کریں تو محدود وسائل کے باوجود نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔'
ایاز ملغانی سمجھتے ہیں کہ سرکاری سکولوں سے بھی بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں: فوٹو ویڈیو گریب
سکول کے محدود رقبے کے باوجود یہاں کلاس رومز کو مختلف سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کے لیے زیادہ دلچسپ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک کلاس میں 'تخلیقی کارنر' قائم کیا گیا ہے جہاں طلبہ اپنے چارٹس، ڈرائنگز، اسائنمنٹس اور سائنس پراجیکٹس آویزاں کرتے ہیں۔ اسی کمرے میں 'پرسنیلٹی گرومنگ کارنر' بھی بنایا گیا ہے جہاں بچوں کو ذاتی صفائی اور نظم و ضبط سے متعلق بنیادی عادات سکھائی جاتی ہیں۔
لیب میں بنیادی سائنسی آلات فراہم کر دیے گئے جس کے بعد بچوں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا: فوٹ وسکرین گریب
ان کا کہنا ہے 'اگر بچے صرف کتاب پڑھیں تو بہت سی باتیں وقتی طور پر یاد رہتی ہیں لیکن جب وہی چیز عملی طور پر دکھائی جائے تو وہ ذہن میں پختہ ہو جاتی ہے۔' ایاز ملغانی کے مطابق سکول میں 'ورکنگ ماڈل کارنر' کے نام سھ تقریری صلاحیتوں کے لیے الگ گوشہ اور طلبہ کے لیے فوٹو ٹری بھی بنایا گیا ہے تاکہ بچے صرف نصابی سرگرمیوں تک محدود نہ رہیں۔
سکول میں سائنس لیب کی تعمیر اور اسے فعال بنانے کے لیے 'اپنی مدد آپ' کے تحت کام کیا گیا۔ جس کے بعد پنجاب کے وزیر تعلیم کی جانب سے انہیں 25 ہزار روپے کا انعام دیا گیا جسے انہوں نے ذاتی استعمال کی بجائے دوبارہ سائنس لیب پر خرچ کیا۔ ایاز ملغانی کے مطابق انہوں نے وزیر تعلیم کی جانب سے ملنے والی انعامی رقم سے سائنس لیب کے لیے بنیادی آلات اور ضروری اپریٹس خریدے تاکہ طلبہ کو عملی تجربات کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے ' اس اقدام کے بعد طلبہ کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوا ہے اور نہم جماعت کے سائنس کے داخلوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ انعامی رقم مجھے تدریسی بہتری اور تعلیمی ماحول بہتر بنانے پر دی گئی تھی اور اسی مقصد کے تحت اسے براہ راست طلبہ پر خرچ کیا گیا'
ایاز ملغانی سمجھتے ہیں کہ سرکاری سکولوں سے بھی بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق نصابی سرگرمیوں سے ہٹ کر بچوں کی 'پرسنل گرومنگ' پر بھی توجہ ضروری ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے بتایا' صرف سلیبس مکمل کرنا کمال نہیں ہے بلکہ بچوں کی تربیت، اعتماد اور شخصیت سازی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔' وہ بتاتے ہیں کہ دو ماہ کے اندر لیب میں بنیادی سائنسی آلات فراہم کر دیے گئے جس کے بعد بچوں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔