امریکی انٹیلی جنس کو ترکیہ میں صدر ٹرمپ کو ایرانی حملے کے خطرے پر شبہات: واشنگٹن پوسٹ
امریکی انٹیلی جنس کو ترکیہ میں صدر ٹرمپ کو ایرانی حملے کے خطرے پر شبہات: واشنگٹن پوسٹ
جمعرات 13 اگست 2026 11:22
صدر ٹرمپ کے خلاف مبینہ قاتلانہ حملے کے خطرے کی اطلاع اسرائیلی حکومت نے سی آئی اے کو فراہم کی (فائل فوٹو: گیٹی)
امریکی انٹیلی جنس حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ ترکیہ کے دوران ایران کی جانب سے مبینہ قاتلانہ حملے کے خطرے سے متعلق اطلاعات پر شکوک کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد انہیں ایک متبادل فوجی طیارے کے ذریعے ترکیہ سے باہر لے جانے کا خفیہ منصوبہ بنایا گیا۔
’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق صدر ٹرمپ کے خلاف مبینہ قاتلانہ حملے کے خطرے کی اطلاع اسرائیلی حکومت نے سی آئی اے کو فراہم کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے تجزیہ کاروں نے حملے کے خطرے کی اطلاع کو قائل کرنے والی یا مضبوط نہیں سمجھا اور اپنے شکوک سے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو آگاہ کیا۔
رپورٹ میں اس انٹیلی جنس سے واقف موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک اور امریکی عہدیدار نے ٹرمپ کی جان کو لاحق خطرے سے متعلق اطلاعات کو ’اسرائیل سے حاصل کردہ، امریکہ کی تیار کردہ نہیں‘ قرار دیا اور کہا کہ انہیں ’کم اعتماد‘ کی اطلاعات سمجھا گیا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کی اس سے قبل شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے آٹھ جولائی کو یہ تاثر دیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایئر فورس ون کے ذریعے سفر کر رہے ہیں، تاہم ٹرمپ نے خفیہ طور پر اس طیارے سے اتر کر ایئرپورٹ کے ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے تیسرے طیارے تک سفر کیا۔
یہ امریکی فضائیہ کا سی 32 اے طیارہ تھا، جس کے ذریعے ٹرمپ اور ان کے چند اہم معاونین کو برطانیہ پہنچایا گیا۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’جیسا کہ صدر کہہ چکے ہیں، انہیں اپنی جان کو متعدد خطرات کا سامنا رہا ہے، جن میں ایران سے آنے والے خطرات بھی شامل ہیں، اور ان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جاتا ہے۔‘
عہدیدار نے مزید کہا کہ ’امریکی سیکرٹ سروس کا بنیادی مشن صدر کی حفاظت کرنا ہے، جسے اس نے کامیابی سے انجام دیا۔‘
امریکی صدر نے خفیہ طور پر طیارہ بدل کر واپسی کا سفر کیا (فائل فوٹو: گیٹی)
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس حکام نے صدر یا ان کے طیارے پر ممکنہ حملے کے خدشات ظاہر کیے تھے، جس کے نتیجے میں اضافی حفاظتی اقدامات کیے گئے اور ٹرمپ کے انقرہ سے وطن واپسی کے سفر کے پہلے مرحلے کے لیے قطر کی جانب سے انہیں تحفے میں دیا گیا نیا طیارہ استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ملڈن ہال ایئربیس پر مختصر قیام کے بعد ٹرمپ نئے ایئر فورس ون طیارے میں سوار ہوئے اور وہاں سے واشنگٹن تک کا باقی سفر مکمل کیا۔
طیارے میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ایک رپورٹر نے ٹرمپ سے براہِ راست پوچھا کہ کیا ایران کی جانب سے ایئر فورس ون پر حملے کا کوئی قابلِ اعتماد خطرہ موجود تھا؟
ٹرمپ نے جواب دیا، ’مجھے ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔ میں ان کی فہرست میں آپ سے پہلے نمبر پر ہوں۔‘
اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے کہا، ’لیکن اگر میں گیا تو آپ بھی جائیں گے۔‘