’دی اوڈیسی‘ میں ’ہیلن آف ٹروئے‘ کا لباس ڈیزائن کرنے والی پاکستانی آرٹسٹ میشا جاپان والا
’دی اوڈیسی‘ میں ’ہیلن آف ٹروئے‘ کا لباس ڈیزائن کرنے والی پاکستانی آرٹسٹ میشا جاپان والا
منگل 21 جولائی 2026 11:16
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
میشا جاپان والا نے ہیلن آف ٹرائے کے لیے کانسی کا مجسمہ نما گردنی اور کندھے کا آرائشی لباس ڈیزائن کیا۔ (فوٹو: انسٹاگرام، میشا جاپان والا)
کرسٹوفر نولین کی نئی فلم ’دی اوڈیسی‘ ان دنوں دنیا بھر میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے جہاں فلم کی شاندار کاسٹ، یونانی اساطیر پر مبنی کہانی اور منفرد پروڈکشن ڈیزائن کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔ اسی فلم سے پاکستان کا بھی ایک دلچسپ تعلق سامنے آیا ہے۔
پاکستانی نژاد آرٹسٹ اور فیشن ڈیزائنر میشا جاپان والا نے فلم میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ لوپیٹا نیونگو کے کردار ہیلن آف ٹروئے (Helen of Troy) کے لیے خصوصی مجسمہ نما ملبوساتی عناصر تیار کیے ہیں۔
میشا جاپان والا نے انسٹاگرام پر اس کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ’دی اوڈیسی‘ میں کام کرنا اور کرسٹوفر نولین کے وژن کا حصہ بننا ان کے لیے زندگی کا ایک بڑا اعزاز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آسکر نامزد کاسٹیوم ڈیزائنر ایلن میروجنک اور ڈیزائنر سارہ پرانا کے ساتھ مل کر انہوں نے دو خصوصی مجسمہ نما تخلیقات تیار کیں جو فلم میں لوپیٹا نیونگو کے کردار ہیلن آف ٹرائے نے پہنیں۔
انہوں نے لوپیٹا نیونگو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان کے کام پر اعتماد کیا جبکہ کاسٹیوم ڈیزائنرز کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی تخلیقات کو فلم کا حصہ بنایا۔
میشا کے مطابق اس تاریخی فلم کا ایک چھوٹا سا حصہ بننا ان کے لیے خواب کی تعبیر ہے۔
ڈبلیو میگزین کے مطابق فلم کی کاسٹیوم ڈیزائنر ایلن میروجنک نے بتایا کہ ہیلن آف ٹروئے کے کردار کو پُراسرار اور غیرمعمولی شخصیت کے طور پر پیش کرنا تھا تاہم نولن کی حقیقت پسندانہ اندازِ فلم سازی کو بھی برقرار رکھنا ضروری تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اسی دوران لوپیٹا نیونگو نے اپنی دوست میشا جاپان والا کا نام تجویز کیا جو انسانی جسم کے مجسمہ نما آرٹ ورک کے لیے جانی جاتی ہیں۔
میشا نے لوپیٹا کے لیے کانسی (Bronze) سے بنا ایک غیرمتوازن گردن اور کندھے کا خصوصی آرٹ پیس تیار کیا جسے ایلن میروجنک نے ایک چمکدار لباس کے ساتھ کیپ کی صورت میں استعمال کیا۔ ان کے بقول یہ ڈیزائن ایک ٹوٹے ہوئے مجسمے کا تاثر دیتا تھا جو ہیلن آف ٹروئے کے کردار سے مطابقت رکھتا تھا۔
فلم میں ایک اور منظر کے لیے بھی میشا نے کانسی کا ایک چوکر (Bronze Choker) تیار کیا جسے دھاتی جالی نما سنہری لباس کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ یہ لباس تقریباً 30 پاؤنڈ وزنی تھا تاہم لوپیٹا نیونگو نے اسے پہننے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے مذاق میں کہا کہ وہ اس سے زیادہ وزن کے شنیل کے موتی بھی پہن چکی ہیں۔
فلم میں ہیلن آف ٹروئے یونانی اساطیر کی وہ ملکہ ہیں جنہیں دنیا کی خوبصورت ترین عورت کہا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق ان کے اغوا یا فرار کے واقعے نے مشہور ٹروئے جنگ کو جنم دیا تھا جبکہ نولین کی فلم میں یہ کردار سپارٹا کی ملکہ کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اپنے شوہر کنگ مینیلاؤس کے ساتھ اوڈیسیئس کے بیٹے ٹیلیماکس کی میزبانی کرتی ہے۔
فلم میں ایک اور منظر کے لیے بھی میشا نے کانسی کا ایک چوکر (Bronze Choker) تیار کیا (فوٹو: انسٹاگرام، میشا جاپان والا)
میشا جاپان والا کون ہیں؟
میشا جاپان والا پاکستانی نژاد بصری آرٹسٹ اور فیشن ڈیزائنر ہیں جو انسانی جسم کے قالب (Body Casts) پر مبنی اپنے منفرد فن کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت رکھتی ہیں۔ ان کا کام شناخت، جسمانی خودمختاری اور حسن کے روایتی تصورات جیسے موضوعات کے گرد گھومتا ہے جبکہ ان کی تخلیقات عالمی سطح پر متعدد معروف شخصیات بھی استعمال کر چکی ہیں۔
کرسٹوفر نولن کی دی اوڈیسی جیسی بڑے بجٹ کی ہالی ووڈ فلم میں ان کی شمولیت پاکستانی فنکاروں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پہچان کی ایک اور نمایاں مثال سمجھی جا رہی ہے۔