دی سنکن ٹریژرز: بحیرۂ احمر میں ڈوبے تجارتی بحری جہازوں کی جدہ تاریخیہ میں نمائش
زیرِ سمندر قدیم دور کے تجارتی جہازوں کے باقیات ملے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
جدہ تاریخیہ میں واقع ریڈ سی میوزیم میں منعقدہ ’دی سنکن ٹریژرز: دی میری ٹائم ہیریٹیج آف دی ریڈ سی‘ نمائش سعودی عرب کے ساحلوں کے قریب سمندر کی تہہ میں ہونے والی تاریخی دریافتوں کو اجاگر کرتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ نمائش قومی اور بین الاقوامی شراکت، جس میں یونیسکو جیسے ادارے کے ساتھ شراکت شامل ہے، کے ساتھ مل کر پانیوں کے نیچے چھپے ثقافتی ورثے کو ڈھونڈنے، اسے محفوظ بنانے اور اس کا ریکارڈ رکھنے کے کام کو ایکولوجیکل اور کلچرل فریم ورک کے ساتھ سامنے لاتی ہے۔
ان چھپی ہوئ چیزوں کو سامنے لا کر یہ نمائش سمندری تاریخ کو بچانے کے لیے عوامی شعور کو بڑھاتی ہے اور یہ بھی دکھاتی ہے کہ سعودی عرب اس شعبے میں کس طرح آگے بڑھ رہا ہے۔
اس نمائش سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہزاروں سال کے دوران بحیرۂ احمر کس طرح ایشیا اور افریقی ممالک کے درمیان تجارت، حج اور رابطے کا ایک اہم ترین راستہ رہا۔
یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے جدہ، ینبع، املج اور جزائر فرسان کے ساحلوں پر تباہ ہونے والے تاریخی بحری جہازوں کے ملبے دیکھنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔

ان جگہوں پر قدیم دور کے تجارتی جہازوں کے باقیات ملے ہیں جو مختلف زمانوں میں سمندر میں غرق ہوگئے تھے۔ یہ صدیوں پرانی اس سمندری گہما گہمی کی جھلک دکھاتے ہیں جو کبھی اس علاقے کی پہچان ہوا کرتی تھی۔
اس نمائش میں تاریخی نوادرات کو بھی شامل کیا گیا ہے جن میں پتھر اور لکڑی کے پرانے لنگر، چین اور اسلامی دور کے برتن، مٹی کے قدیم برتن، شیشے کے برتن، سِکے اور جہاز رانی کے وہ روایتی آلات شامل ہیں جو سامان پہنچانے کے لیے مدد فراہم کرتے تھے۔
یہ نوادرات سعودی بندرگاہوں کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور مشرق سے مغرب تک تجارتی راستوں کو جوڑنے کے لیے اُن کے سٹریٹیجک کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ نمائش سعودی عرب کی موجودہ تحقیق، سائنسی ڈاکومنٹیشن اور مخصوص ٹریننگ پروگراموں کو بھی نمایاں کرتے ہیں جو سمندر کی گہرائی میں چھپے ان خزانوں کو بچانے کے لیے مقامی ماہرین تیار کرنے کے لیے شروع کیے گئے ہیں تاکہ ان تاریخی خزانوں کو آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ محفوظ رکھا جائے۔
