امریکہ کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایران کے دو ڈرونز کو مار گرایا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فوج کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنیچر کو نشانہ بنائے جانے والے ڈرونز آبنائے ہرمز پر جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب متحارب قوتوں کے درمیان کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں
یو ایس سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی نے دن کے اوائل میں دو ایرانی ڈرونز کو مار گرایا جو آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی سمندری ٹریفک کے لیے خطرہ تھے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی افواج ایرانی جارحیت کے خلاف اور دفاع کے لیے پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے اور یہ سلسلہ جاری رکھنے کو تیار ہیں۔
یونائیٹڈ سٹیٹس سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعے کو رات گئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کی طرف جانے چار ایرانی ڈرونز کو مار گرایا گیا جبکہ ایران کے ساحل کے قریب ریڈار کی سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
Earlier today, U.S. forces in the Middle East shot down two Iranian one-way attack drones that threatened international maritime traffic in the Strait of Hormuz.
American forces remain postured and ready to continue defending against Iranian aggression.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 7, 2026
ایک دوسرے کی کارروائی کے جواب میں کیے گئے یہ حملے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری ان بالواسطہ مذاکرات کے باوجود ہوئے ہیں جن کا مقصد ان خطوط کو تلاش کرنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ کس طرح ہو سکتا ہے جبکہ حالیہ کارروائیوں میں ایران کی جانب سے امریکہ کے اتحادیوں بحرین اور کویت میزائل حملے بھی شامل ہیں۔












