Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں سولر پینلز پر ٹیکس کی افواہیں، قیمتوں میں اضافے سے عام صارفیں کی مشکلات بڑھ گئی

پاکستان میں مہنگی بجلی، لوڈ مینجمنٹ اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں سے تنگ شہریوں کے لیے گزشتہ چند برسوں میں سولر توانائی ایک امید بن کر سامنے آئی تھی۔ ملک بھر میں ہزاروں گھروں، دکانوں، فیکٹریوں اور دفاتر نے شمسی توانائی کو اپنایا، جس سے نہ صرف بجلی کے اخراجات میں کمی آئی بلکہ قومی گرڈ پر دباؤ بھی کم ہوا۔
تاہم حالیہ ہفتوں میں وفاقی بجٹ کے تناظر میں سولر پینلز پر ممکنہ ٹیکس یا سیلز ٹیکس میں اضافے کی خبروں اور افواہوں نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔
اس بے یقینی کے نتیجے میں مختلف شہروں خصوصا کراچی، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں سولر پینلز اور متعلقہ آلات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض مارکیٹ ذرائع کے مطابق کئی اقسام کے سولر پینلز کی قیمتوں میں چند ہی دنوں کے دوران 5 ہزار سے 7 ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سولر انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا یہ اتار چڑھاؤ صرف سرکاری فیصلوں کا نتیجہ نہیں بلکہ افواہوں، مستقبل کے خدشات اور ذخیرہ اندوزی جیسے عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔
اے اینڈ زید سولر انرجی کے سی ای او فرمان ظفر نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی بجٹ سے قبل کسی نئے ٹیکس کی بات سامنے آتی ہے تو امپورٹرز سمیت دیگر سولر سیکٹرز اپنے ممکنہ اخراجات کو ذہن میں رکھتے ہوئے قیمتوں میں ردوبدل شروع کر دیتے ہیں۔
گزشتہ برس وفاقی بجٹ میں درآمد شدہ سولر پینلز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز سامنے آئی تھیں۔ حکومتی مؤقف یہ تھا کہ اس اقدام سے مقامی سولر مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی ہوگی اور پاکستان میں سولر آلات بنانے والی صنعت کو ترقی ملے گی۔ حکومتی حلقوں کے مطابق مقامی صنعت کو تحفظ دیے بغیر ملک میں سولر مینوفیکچرنگ کا مضبوط ڈھانچہ قائم کرنا مشکل ہے۔
تاہم توانائی کے ماہرین کا ایک طبقہ اس مؤقف سے مکمل اتفاق نہیں کرتا۔ ان کے مطابق پاکستان میں سولر توانائی کا تیزی سے پھیلاؤ بڑی حد تک سستے درآمدی پینلز کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اگر ان پینلز پر زیادہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے تو اس کا براہ راست اثر صارفین پر پڑے گا اور شمسی توانائی کی طرف منتقلی کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔

ٹریڈرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو برسوں کے دوران سولر مارکیٹ نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

کراچی کی سولر مارکیٹ میں کام کرنے والے ایک دکاندار عبدالاحد کہتے ہیں کہ گزشتہ چند ہفتوں سے گاہکوں کی جانب سے سب سے زیادہ سوال یہی پوچھا جا رہا ہے کہ آیا بجٹ کے بعد سولر مزید مہنگا ہو جائے گا یا نہیں۔
ان کے بقول لوگ خریداری کا فیصلہ جلدی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر ٹیکس لگ گیا تو قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی۔ بعض کمپنیاں پہلے ہی اپنے ریٹ بڑھا چکی ہیں اور کئی ڈیلرز نے محدود سٹاک فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔
لاہور میں سولر آلات کے تاجر عرفان معظم کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کاروبار کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ اگر حکومت واضح پالیسی دے دے تو مارکیٹ مستحکم ہو سکتی ہے، لیکن جب خبریں اور افواہیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں تو نہ خریدار مطمئن ہوتا ہے اور نہ ہی تاجر۔
پاکستان سولر ٹریڈرز سے وابستہ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا تو اس کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے پر پڑے گا۔ ان کے مطابق بڑے صنعتی ادارے تو کسی نہ کسی طرح سرمایہ کاری کر لیتے ہیں لیکن وہ خاندان جو بجلی کے بلوں سے بچنے کے لیے کئی ماہ تک بچت کرکے سولر لگانے کا منصوبہ بناتے ہیں، ان کے لیے اضافی لاگت ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں سولر توانائی کی تنصیبات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ٹریڈرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ دو برسوں کے دوران سولر مارکیٹ نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے بعد لاکھوں صارفین نے سولر سسٹمز میں دلچسپی لینا شروع کی۔ ایسے وقت میں اگر قیمتیں بڑھتی ہیں تو مارکیٹ کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
دوسری جانب کچھ مقامی مینوفیکچررز اس مجوزہ اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ درآمدی مصنوعات پر مکمل انحصار ملکی صنعت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت مقامی مینوفیکچرنگ کی سرپرستی کرے تو نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ مستقبل میں پاکستان سولر آلات کی تیاری میں خود کفالت کی جانب بھی بڑھ سکتا ہے۔
عام خریداروں کی تشویش تاہم مختلف نوعیت کی ہے۔ کراچی کے رہائشی سید عدنان احمد سالار کہتے ہیں کہ ان کا خاندان کئی ماہ سے ساڑھے تین کلوواٹ کا سولر سسٹم لگانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا لیکن حالیہ قیمتوں میں اضافے نے بجٹ خراب کر دیا ہے۔
وہ کہتے ہیں بجلی کے بل پہلے ہی بہت زیادہ ہیں۔ اگر سولر بھی مہنگا ہو جائے تو عام آدمی کے پاس متبادل کیا بچے گا؟
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بجلی کے بڑھتے اخراجات کی وجہ سے سولر لگانے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن مارکیٹ میں اچانک قیمتیں بڑھنے سے وہ انتظار کی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اگر حکومت مقامی مینوفیکچرنگ کی سرپرستی کرے تو نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے مطابق ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ابھی خریدیں یا بجٹ کے بعد۔ اگر ابھی خریدیں تو شاید نقصان ہو، اگر بعد میں خریدیں تو قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں اسے بیک وقت دو مقاصد حاصل کرنے ہیں۔ ایک طرف مقامی صنعت کی ترقی ضروری ہے جبکہ دوسری طرف قابل تجدید توانائی کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنا بھی اہم ہے۔ اگر پالیسی سازی میں توازن نہ رکھا گیا تو ملک میں گرین انرجی کے فروغ کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں سولر توانائی کی تنصیبات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ درآمدی سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی اور نیٹ میٹرنگ جیسے نظام تھے۔ ماہرین کے مطابق اگر قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو بہت سے نئے صارفین اپنی سرمایہ کاری مؤخر کر سکتے ہیں۔ 
فی الحال حکومت کی جانب سے حتمی فیصلے اور بجٹ دستاویزات کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم مارکیٹ میں موجود بے یقینی نے سولر سیکٹر کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان توانائی کے بحران، مہنگی بجلی اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے، سولر توانائی سے متعلق پالیسی فیصلے نہ صرف کاروباری حلقوں بلکہ لاکھوں عام صارفین کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

شیئر: