Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایٹمی اسلحے کی نئی دوڑ‘، جوہری ہتھیاروں پر اخراجات میں ریکارڈ اضافہ: رپورٹ

رپورٹ کے مطابق دنیا میں موجود ایٹمی ہتھیاروں کا 83 فیصد مجموعی طور پر امریکہ اور روس کے پاس ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پچھلے برس دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے اخراجات میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک نے زیادہ وار ہیڈز کو ذخیرے سے نکال کر ڈیلیوری سسٹم پر منتقل کیا۔
انٹرنیشنل کیمپین ٹو ابالیش نیوکلیئر ویپنز (آئی سی اے این) کا کہنا ہے کہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے نو ممالک نے پچھلے سال جوہری ہتھیاروں پر ایک سو 19 ارب ڈالر خرچ کیے، جو کہ اس سے پچھلے سال یعنی 2024 کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔
 ادارے کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا ایٹمی اسلحے کی ایک نئی دوڑ میں داخل ہو چکی ہے۔
آئی سی اے این کی ہی جانب سے پیر کو جاری ہونے والی ایک الگ تحقیق میں بھی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ماحول میں جوہری خطرات بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر ہونے والے اخراجات میں یہ غیرمعمولی اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مختلف ممالک اپنے جوہری ذخائر جو جدید بنانے اور ان میں مزید ہتھیار شامل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

رپورٹ میں دنیا کے جغرافیائی و سیاسی حالات کے پیش نظر اسلحے کی دوڑ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

آئی سی اے این کی ڈائریکٹر پروگرامز اور تحقیق کی مشترکہ مصنفہ سوسی سنائیڈر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے یہ خطرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔
ان کے مطابق ’اگر سچ کہوں تو میں خوف زدہ ہوں۔‘

’خطرات بڑھ رہے ہیں‘

سٹاک ہوم انٹرنینشل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی کچھ دہائیوں سے دنیا بھر میں جوہری وار ہیڈز کی مجموعی تعداد میں کمی آئی ہے اور رواں برس کے آغاز سے یہ تعداد گھت کر 12 ہزار ایک سو 87 تک پہنچ گئی ہے تاہم ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ ممکنہ استعمال کے لیے دستیاب جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو بڑھ کر نو ہزار سات سو 45 ہے۔
ایس آئی پی آر آئی کے ڈائریکٹر کریم ہیگاڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ کہ ’اگرچہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی مجموعی تعداد میں کمی آئی ہے تاہم جوہری خطرات بڑھ رہے ہیں۔‘
انہوں نے کئی تشویشناک چیزوں کی طرف اشارہ کیا جن میں سٹریٹیجک ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق معاہدوں کا کمزور ہونا اور جوہری طاقت رکھنے والے بڑے ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کے نکات بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چین سب سے زیادہ تیزی سے ایٹمی ہتھیاروں میں اضافہ کر رہا ہے (فوٹو: گیٹی امیجز)

سٹاک ہوم نے پیش گوئی کی ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا میں جوہری ذخائر بڑھنا شروع ہو سکتے ہیں کیونکہ پرانے ہتھیاروں کو ختم کرنے کی رفتار سست پڑ رہی ہے جبکہ نئے ہتھیاروں کی تیاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
روس اور امریکہ دنیا کے تقریباً 83 فیصد ہتھیاروں کے مالک ہیں جبکہ دونوں کے پاس پانچ، پانچ ہزار وار ہیڈز بھی موجود ہیں۔
چین اس وقت اپنے جوہری ذخائر میں سب سے زیادہ تیزی سے اضافہ کر رہا ہے اور اس کے پاس چھ سو 20 کے قریب جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

 

شیئر: