سنہ 2025 میں 39 ہزار مسافر آف لوڈ، پاکستانی کس کس راستے سے یورپ جانے کی کوشش کرتے رہے؟
منگل 9 جون 2026 17:01
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
پاکستان سے وزٹ اور سٹڈی ویزوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے رجحان میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے پیچھے حکام نے ایک منظم نیٹ ورک کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔
منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے نیٹ ورک سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ کے دوران ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ’یہ نیٹ ورک دبئی، کمبوڈیا اور ملائیشیا کے راستوں کو استعمال کر رہا ہے۔2025 کے دوران ویزوں کے غیر قانونی استعمال کے 10 ہزار سے زائد واقعات سامنے آئے ہیں۔‘
’قبرص میں طلبہ انگریزی کورسز کے بہانے جاتے ہیں اور بعد ازاں وہاں سے یورپ منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ بنگلہ دیش نے بھی پاکستانیوں کے لیے اپنی سٹڈی ویزہ پالیسی محدود کر دی ہے۔‘
ڈاکٹر عثمان انور نے کمیٹی کو بتایا کہ ’حالیہ کارروائیوں کے دوران لیبیا سے 175 پاکستانیوں کو گرفتار کر کے واپس وطن بھجوایا گیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کمبوڈیا کی حکومت نے بھی اپنے ملک میں پاکستانی شہریوں کی گرفتاریوں سے متعلق پاکستانی حکام کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے۔‘
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق ’پاکستان کے اندر گجرات، منڈی بہاؤالدین اور اس کے قریبی علاقے انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔‘
انہوں نے اس حوالے سے مزید بتایا کہ ’غیر قانونی انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے ہر 15 روز بعد صورت حال پر ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی جاتی ہے۔‘
قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ سال 2025 میں مجموعی طور پر 39 ہزار 786 مسافروں کو مختلف قانونی وجوہات کی بنا پر ایئرپورٹس پر ’آف لوڈ‘ کیا گیا۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایئرپورٹس پر کسی بھی مسافر کو بلاجواز نہیں روکا جاتا اور تمام فیصلے قواعد و ضوابط کے تحت ہی کیے جاتے ہیں کیونکہ اس وقت انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت نگرانی کا عمل جاری ہے۔
یورپی یونین کے تحفظات اور برطانیہ کے سٹوڈنٹ ویزوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے اُنہوں نے بتایا کہ ’یورپی یونین اور اٹلی نے پاکستان سے ہونے والی غیر قانونی امیگریشن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔‘
’اسی طرح بیلاروس سے پولینڈ غیر قانونی بارڈر کراسنگ کے واقعات پر بھی یورپی یونین کی جانب سے تشویش ظاہر کی گئی ہے۔‘
اُنہوں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’580 پاکستانی شہری بیلاروس جانے کے بعد اب تک واپس نہیں لوٹے۔‘
ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق ’برطانیہ کے لیے سٹوڈنٹ ویزہ حاصل کرنے والے قریباً 10 ہزار پاکستانیوں نے اپنے ویزوں کا غلط استعمال کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’تعلیمی ویزوں کے اسی غلط استعمال کے باعث اب متعدد ممالک اپنی ویزہ پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔‘
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ ’حکومت کے سخت اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔‘
انہوں نے یورپی یونین اور امریکی اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی شہریوں کی جانب سے کی جانے والی غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔‘
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 'بلیو پاسپورٹ' کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ رکنِ کمیٹی قادر مندوخیل کا کہنا تھا کہ ’خلیجی ممالک کے ایئرپورٹس سے ہمارے سینیٹرز تک کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔‘
طلال چوہدری نے وضاحت پیش کی کہ یہ محض امیگریشن پروسیجر کے باعث ہونے والا تعطل ہے اور ہمارے تعلقات سب کے ساتھ اچھے ہیں، جس پر قادر مندوخیل نے بولے کہ ’آپ کے کہنے کے برعکس زمین پر سب ٹھیک نہیں ہے۔‘
ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے بھی قائمہ کمیٹی کے سامنے یہ اعتراف کیا کہ خلیجی ممالک میں 'بلیو پاسپورٹ' کے غلط استعمال اور جعلی کیسز سامنے آئے ہیں۔
اس صورت حال پر قادر مندوخیل نے زور دیا کہ بیرونِ ملک ایئرپورٹس پر پاکستانی ارکانِ پارلیمنٹ کو پیش آنے والے ان مسائل کا معاملہ اب سرکاری سطح پر اٹھایا جائے۔
اجلاس کے دوران ہائی پروفائل انمول اسلم عرف پنکی کے کیس پر بھی گفتگو ہوئی۔ رکنِ کمیٹی نبیل گبول نے سوال اٹھایا کہ یہ معاملہ معمولی نہیں ہے وہ کون لوگ ہیں جو انمول پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس کیس میں سابق وزیرِاعظم راجا پرویز اشرف کا نام لیں؟
وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے بتایا کہ ’ہمارے ادارے اس طرح کام نہیں کرتے‘، جس پر نبیل گبول کا کہنا تھا کہ ’وہ ہم نے رانا ثناء اللہ کیس میں اچھی طرح دیکھ رکھا ہے کہ ادارے کیسے کام کرتے ہیں۔‘
کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں اب حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں اور وہاں لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔‘
طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’اب کالعدم تنظیم بے نقاب ہو رہی ہےجس کی پیر کو ایک آڈیو بھی سامنے آئی ہے۔وفاقی حکومت نے خلوصِ نیت کے ساتھ ان کے تمام مطالبات پر عمل درآمد شروع کر دیا تھا۔‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کشمیریوں کا آئینی حق ہے کہ وہ اپنے لیے قانون سازی کر سکیں، لیکن کیا یہ کچھ لوگ ان کا یہ حق کسی اور کو دینا چاہتے ہیں؟
وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے دعویٰ کیا کہ کشمیر کے حالات کو اس نہج پر لانے کے تانے بانے کہیں اور ملتے ہیں، اور اگر وہاں ہڑتال اور جلاؤ گھیراؤ ہی اصل مقصد ہے تو ایسے عناصر اب خود عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہے ہیں۔