پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کالعدم قرار دی گئی ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے ساتھ مذاکرات کا عمل دوبارہ بحال کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
انہوں نے پیر کی شام کو صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’احتجاج کرنے والے لوگ ہمارے اپنے ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ کیا وہ کسی کے ایجنٹ یا غدار ہیں؟ میں ایسا ہرگز نہیں مانتا۔ ہاں، وہ مایوس ضرور ہیں جو کہ ایک فطری بات ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ انہیں بہکایا گیا ہے۔‘
انہوں نے ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ’مہاجریں کے نشستوں کے معاملے پر مظاہرین کے مطالبات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہیں، تاہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا۔‘
مزید پڑھیں
’ہمیں بیٹھ کر تمام مہاجر نشستوں کے مستقبل کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ اگر آپ (ایکشن کمیٹی) رضامند ہوں تو میں مذاکرات کے دوران اور بعد میں آپ کی حفاظت، سلامتی، آزادانہ نقل و حرکت اور لیول پلیئنگ فیلڈ کی ضمانت دیتا ہوں۔‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’فرض کی ادائیگی میں جانیں دینے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کو کیسے معاوضہ دیا جائے گا۔‘
وزیرِ اعظم فیصل راٹھور نے مظاہرین کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ آزمائشی رویہ ترک کریں، الٹی میٹم دینا بند کریں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ مذاکرات کے دوران اور بعد میں مظاہرین کی حفاظت، آزادانہ نقل و حرکت اور یکساں مواقع کی ضمانت دی جائے گی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی جانب سے یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اتوار اور پیر کی درمیانی شب راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں کم سے کم سات افراد ہلاک ہو گئے جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد درجنوں میں بتائی جاتی ہے۔
پیر کو راولاکوٹ شہر میں فورسز کا کنٹرول برقرار رہا۔ اطلاعات کے مطابق سپلائی بازار کی اطراف میں سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشنز بھی کیے جبکہ مبینہ طور پر کئی گھروں کو خالی بھی کروایا گیا ہے۔

صحافی سردار عاشق کے مطابق ’راولاکوٹ کی مساجد میں اعلانات ہوتے رہے کہ آئیں اور اپنے بچوں کی لاشیں لے جائیں۔‘
اسی طرح سے دارالحکومت مظفرآباد میں جزوی ہڑتال رہی جبکہ وقفے وقفے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فلیگ مارچ بھی جاری رہا۔
دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے مذاکرات کی اس پیشکش کے متعلق کوئی ردعمل تاحال نہیں دیا گیا تاہم ایک بیان میں ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ’نو جون کا لانگ مارچ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہو گا، طاقت کے زور پر سچائی کو کچلا نہیں جا سکتا۔‘
کیا کالعدم تنظیم سے مذاکرات ممکن ہیں؟
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسی تنظیم جو کہیں رجسٹرڈ نہیں ہے اور حکومت کی جانب سے اسے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کر کے شیڈول فور میں شامل کر کے کالعدم قرار دیا گیا ہو کیا، اس کے ساتھ مذاکرات ممکن ہیں؟
اس کے جواب کی تلاش کے لیے اردو نیوز نے پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کے سابق چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا اور کشمیر بار کے صدر ہارون ریاض مغل سے رابطہ کیا۔
سابق چیف جسٹس نے بتایا کہ ’کسی بھی مسئلے کا حل مذاکرات ہی ہوتے ہیں، مذاکرات کسی کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔ دو مخالف فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی حل نکلنا ہے۔ ہم ایک ہی علاقے کے رہنے والے لوگ ہیں۔ کشمیر ایک حساس خطہ ہے، یہ معاملہ بہت حساس ہے، انڈیا تاک میں ہوتا ہے کہ وہ کوئی انگلی اٹھائے، ہمیں ہٹ دھرمی میں سے کام نہیں لینا چاہیے۔‘

ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ’آئین اور قانون کسی سے بھی مذاکرات کرنے سے نہیں روکتا، امن وامان قائم رکھنے کے لیے کسی سے بھی مذاکرات ہو سکتے ہیں، کالعدم کا نوٹیفکیشن اِن فیلڈ ہو یا نہ ہو، دنیا کا کوئی قانون مذاکرات سے نہیں روکتا، دو ممالک جنگ کی صورت میں گولہ باری کرتے ہوئے مذاکرات کرتے ہیں، یہ تو پھر بھی اپنے لوگ ہیں۔‘
بار کونسلز کی حکومت اور مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی بار کونسلز کے نمائندوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے حالیہ واقعات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔‘
اس پریس کانفرنس میں وائس چیئرمین کشمیر بار کونسل ہارون ریاض مغل، صدر سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد راجہ ضیغم افتخار ایڈووکیٹ اور سیکریٹری جنرل سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد مرتضیٰ احمد میر ایڈووکیٹ نے بارز کا موقف پیش کیا۔
بار نمائندگان نے اس امر پر زور دیا کہ ’موجودہ حالات میں تمام متعلقہ فریقوں کو صبر، تحمل، بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘
بار قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ ’تمام مسائل اور اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات، مشاورت اور آئینی و قانونی ذرائع کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس لیے تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلہ کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔‘
اسی طرح پیر کو ایک پریس کانفرنس سابق ججز نے سینٹرل پریس کلب مظفرآباد میں بھی کی جس میں سابق چیف جسٹس منظور حسین گیلانی اور ابراہیم ضیا نے شرکت کی۔ اس پریس کانفرنس میں بھی تمام فریقین کو مذاکرات کی دعوت دی گئی۔

بیرون ملک احتجاج اور پاکستان کا موقف
راولاکوٹ میں ہونے والے واقعات کے خلاف لندن میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا گیا جبکہ کینیڈا میں مقیم کشمیریوں نے بھی اس کے خلاف مظاہرہ کیا۔
اُدھر پاکستان نے پیر کو برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی نژاد شہریوں کی جانب سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے متعلق دیے گئے بیانات کو ’بے جا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور ان افراد کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز‘ کا مشورہ دیا۔
دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے برطانیہ میں مقیم بعض افراد کی جانب سے آزاد جموں کشمیر کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ اور حقائق سے لاعلم اشاروں اور تبصروں کا تشویش کے ساتھ نوٹس لیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ان افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔ بہتر ہوگا کہ وہ جس ملک میں مقیم ہیں، وہاں مثبت کردار ادا کریں۔‘
اس سے قبل آل پارٹیز پارلیمانی گروپ آن کشمیر (اے پی پی جی کے) کے چیئرمین اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ عمران حسین نے 30 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ کے دستخطوں سے برطانوی وزیر خارجہ کو ایک اہم خط ارسال کیا تھا جس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال پر فوری توجہ دینے اور مناسب سفارتی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
خط میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف کارروائیوں، اظہارِ رائے اور مواصلاتی ذرائع پر مبینہ پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ صورتحال کا نوٹس لے اور اس حوالے سے متعلقہ حکام سے رابطہ کرے۔

کشمیر پولیس کا بیان
پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’سی ایم ایچ راولاکوٹ کے محاصرے میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر کی فائرنگ سے ان کے اپنے ہی تین افراد مارے گئے۔‘
ترجمان کے مطابق ’سات جون کو کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نے راولاکوٹ میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر منصوبہ بندی کے تحت فائرنگ کی گئی، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نے سی ایم ایچ راولا کوٹ کا محاصرہ کیا جس کے باعث ہسپتال کی معمول کی طبی خدمات اور سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بردباری، تحمل اور ذمہ داری کا کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’سات اور آٹھ جون کی درمیانی شب منظم، محدود نوعیت کی کارروائی میں سی ایم ایچ راولاکوٹ کا محاصرہ ختم کروا دیا، کارروائی میں شہریوں، مریضوں، طبی عملے اور سرکاری املاک کے تحفظ کو ترجیح دی گئی اور ہسپتال کا محاصرہ مکمل طور پر کلیئر کروا لیا گیا۔‘













