Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیر احتجاج: راولاکوٹ میں پولیس اہلکاروں سمیت 7 ہلاک، مظفرآباد میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا دفتر سیل

پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں سکیورٹی فورسز اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے درمیان ہونے والے شدید تصادم میں 4 پولیس اہلکاروں اور 3 شہریوں سمیت کم سے کم 7 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
خطے میں انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں جبکہ دارالحکومت مظفرآباد میں رینجرز اور پولیس کا فلیگ مارچ جاری ہے۔
راولاکوٹ دھرنے پر رات گئے کریک ڈاؤن
یہ تازہ تصادم اس وقت ہوا جب راولاکوٹ میں تین دن قبل فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے سردار شاہ زیب حبیب کی میت کے ساتھ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) کے سامنے دھرنا جاری تھا۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے راولاکوٹ کے ایک مقامی شہری (جنہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نام ظاہر نہیں کیا) نے بتایا کہ ’اتوار اور پیر کی درمیانی رات سی ایم ایچ دھرنے کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے پولیس اور رینجرز نے کریک ڈاؤن کیا۔‘
’اس دوران شہر میں شدید فائرنگ، آنسو گیس کی شیلنگ ہوئی اور فضا میں ڈرون کیمرے اُڑتے دیکھے گئے جبکہ رات بھر ایمبولینسز کے سائرن بجنے کی آوازیں آتی رہیں۔‘
پیر کو علی الصبح بینک روڈ کے ایک رہائشی نے صورت حال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نالہ بازار سے بینک روڈ تک سڑکوں پر سکیورٹی اہلکاروں کا مکمل کنٹرول ہے، تاہم شہری اب دوبارہ سی ایم ایچ کی جانب جمع ہو رہے ہیں۔
انتظامیہ کا موقف اور کرفیو کی تردید
اتوار کی رات پولیس نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ’کالعدم ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے مسلح عناصر نے احتجاج کے نام پر جمع ہو کر ڈیوٹی پر موجود قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو منصوبہ بندی کے تحت براہ راست نشانہ بنایا، جس میں 4 اہلکاروں کی جان سے گئے جبکہ 23 زخمی ہوئے۔‘
دوسری جانب کمشنر راولاکوٹ سردار وحید نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جھڑپوں میں تین عام شہری بھی ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔‘
ڈپٹی کمشنر راولاکوٹ ممتاز کاظمی نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب بتایا کہ انہیں سی ایم ایچ کے آس پاس سکیورٹی فورسز کی موجودگی کا علم تھا لیکن وہ اس وقت شہر سے باہر ہیں اور کریک ڈاؤن یا ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی کہ انہوں نے شہر میں کرفیو نافذ کرنے کے لیے کوئی خط لکھا ہے۔
مظفرآباد: انٹرنیٹ کی بندش، اے ٹی ایمز معطل اور فلیگ مارچ
دارالحکومت مظفرآباد سمیت تمام بڑے شہروں میں موبائل نیٹ ورک تو بحال ہیں لیکن انٹرنیٹ سروسز مکمل بند کر دی گئی ہیں۔
مظفرآباد کے مقامی صحافی سردار عدنان نے زمینی صورت حال بتاتے ہوئے کہا کہ ’شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ انتظامیہ، پولیس، رینجرز اور ایف سی نے رات اور صبح سویرے شہر میں دو مرتبہ فلیگ مارچ کیا جس میں لگ بھگ دو درجن گاڑیوں کا قافلہ شامل تھا۔‘
انٹرنیٹ کی بندش پر مقامی شہری محمد عادل کا کہنا تھا کہ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، بینکوں کی اے ٹی ایم مشینیں کام نہیں کر رہیں اور آن لائن ٹرانزیکشنز مکمل طور پر معطل ہیں۔
ان کے مطابق بعض شہری انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے ڈیڑھ گھنٹہ دورانیے کا سفر کر کے خیبر پختونخوا کے قریبی علاقوں کا رُخ کر رہے ہیں۔
مظفرآباد میں موجود سینیئر صحافی سجاد میر نے بتایا کہ ’شہر میں زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی ہیں، ٹریفک بھی رواں دواں ہے اور وقفوں وقفوں سے سکیورٹی اداروں کا گشت بھی جاری ہے۔‘ ان کے بقول ’شہری کھانے پینے کا سامان جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
علاوہ ازیں اتوار کی شام پولیس نے ایکشن کمیٹی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مار کر اسے سیل بھی کر دیا جبکہ رات کو مظفرآباد کے مختلف علاقوں میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جانے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔
وزیراعظم کشمیر کا اسلام آباد سے ردِعمل
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے وزیرِاعظم فیصل ممتاز راٹھور گذشتہ تین روز سے اسلام آباد میں موجود ہیں جہاں وہ کشمیر ہاؤس میں وفود اور پیپلز پارٹی کے اجلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔
انہوں نے دو دن قبل ایکشن کمیٹی پر پابندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حالات جس نہج پر لے جائے گئے، پابندی تو لگنا تھی۔‘ 
انہوں نے اتوار کو اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’امن، سکون اور مذاکرات کے لیے میری بار بار کی اپیلوں کے باوجود سکیورٹی فورسز پر مسلح حملے ہوئے جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔‘
’جب ریاست کا چیف ایگزیکٹیو خود بات چیت کے لیے گڑگڑا رہا ہو، تو کوئی کیسے یہ سوچ سکتا ہے کہ ہتھیار اٹھانا ایک اچھا خیال ہے؟ یہ ناقابل یقین حد تک دیوانگی ہے۔‘
اسلام آباد کا موقف، ’38 مطالبات اور ڈیڈلاک‘
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ برس احتجاج کے دوران ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات پر معاہدہ طے پایا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاہدے پر عمل درآمد کی ہدایت بھی کی تھی، تاہم کمیٹی نے دوبارہ ہڑتال کی کال دے دی۔‘
طارق فضل چوہدری کے مطابق ’حکومت نے کمیٹی کو چار مختلف آپشنز دیے اور ہڑتال 10 روز مؤخر کرنے کی درخواست کی لیکن وہ نہیں مانے۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’12 افراد بند کمرے میں بیٹھ کر مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔‘
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گذشتہ تین برسوں سے معاشی حقوق اور بجلی کے بلوں میں کمی جیسے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔
گذشتہ سال ستمبر میں بھی جھڑپوں کے دوران 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حالیہ ڈیڈلاک 9 جون کو مظفرآباد مارچ کی کال اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی مظفرآباد اسمبلی میں 12 مخصوص نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبے پر ہوا۔
کشمیر سپریم کورٹ کی مشاورتی رائے
اس حساس معاملے پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر کے بھیجے گئے صدارتی ریفرنس پر کشمیر کی سپریم کورٹ نے اپنی 32 صفحات پر مشتمل مشاورتی رائے جاری کی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ’کشمیر کا آئین ریاست کا اعلیٰ ترین قانون اور عوام کی امانت ہے جس کا ہر حال میں احترام لازم ہے۔ مہاجرین کی 12 نشستیں عبوری آئین 1974ء کا حصہ ہیں، جنہیں کسی انتظامی حکم یا عوامی دباؤ کے تحت ختم یا کم نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں تبدیلی کا واحد راستہ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے منظور شدہ آئینی ترمیم ہے۔‘
عدالت عظمیٰ نے مزید کہا کہ ’چونکہ تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے پہلے ہی ان نشستوں کو برقرار رکھنے کا متفقہ عزم ظاہر کیا ہے، اس لیے موجودہ اسمبلی کے حوالے سے یہ سوال اب غیر متعلقہ ہو چکا ہے۔‘
عدالت نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ’وہ آئین کے مقررکردہ وقت (27 جولائی 2026ء) کے اندر عام انتخابات کرانے کی اپنی قانونی ذمہ داری لازمی پوری کرے۔
دوسری طرف کالعدم جے اے اے سی کے ارکان نے خود پر انسدادِ دہشت گردی کے تحت پابندی کو ’ظلم‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جائز معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے مظاہرہ کر رہے ہیں۔
کشمیر کی وادی نیلم، جہلم ویلی، کوٹلی، بھمبھر اور میرپور سے اب تک کسی بڑے ناخوش گوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے تاہم سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔
 

شیئر: