Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں امتحانات کے نظام میں اصلاحات کے لیے ٹاسک فورس اور سخت قانون سازی

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات اور اس کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج پر ملک کے امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اتوار کو اپنے ویڈیو پیغام میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’جن لوگوں نے طلبہ کا مستقبل تباہ کرنے کی کوشش کی، وہ اب جیل میں ہیں۔ ایسے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں پہلے ہی قائم کی جا چکی ہیں، جبکہ پیر کو پارلیمان میں امتحانی نظام میں اصلاحات اور پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف مزید سخت قانون سازی کی جائے گی۔‘
وزیراعظم  مودی نے کہا کہ امتحانی نظام ایسا ہونا چاہیے جس پر عوام اعتماد کر سکیں، جو شفاف ہو اور جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر آراستہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ’اسی مقصد کے تحت ہم نے عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی ماہر نندن نیلیکنی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹاسک فورس امتحانی اصلاحات پر کام کرے گی اور اس کی سفارشات کی بنیاد پر مستقبل میں امتحانات کی شفافیت اور ساکھ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔‘
وزیراعظم مودی نے اپنے انسٹاگرام پیغام میں کہا کہ حکومت پیر کو پارلیمان میں ایسا قانون بھی پیش کرے گی جس کے تحت پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف سزائیں مزید سخت کی جائیں گی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ وزیراعظم مودی نے اس معاملے پر عوامی طور پر اظہارِ خیال کیا ہے۔

اس احتجاج کو 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی کو نوجوانوں کی جانب سے درپیش سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے: فوٹو اے ایف پی

اس سے ایک روز قبل سنیچر کو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نوجوانوں کے مسلسل احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ 
مظاہرین مئی میں امتحانی پرچے لیک ہونے کے بعد کئی ہفتوں سے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
تاہم وزیراعظم مودی نے اپنے ویڈیو بیان میں وزیرِ تعلیم کے استعفے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے احتجاج کرنے والی نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی نے سنیچر کو اعلان کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے ان کے اہم مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق احتجاج کی فوری وجہ میڈیکل داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونا تھا، تاہم اس کے پس منظر میں نوجوانوں کی بے روزگاری، مستقبل کے حوالے سے بے یقینی اور یہ خدشہ بھی شامل ہے کہ مصنوعی ذہانت انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں ان کی ملازمتیں ختم کر سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار امیتابھ تیواری کے مطابق،’پرچہ لیک ہونا صرف ایک محرک ہے، جبکہ اصل مسئلہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی، مایوسی، غصہ اور اضطراب ہے۔‘
 
 

شیئر: