Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’لاکھوں روپے میں فروخت ہونے والی‘ اٹالین ویزے کی اپائنٹمنٹ کیا اب مُفت ملے گی؟

سفارت خانے کی جانب سے غیر قانونی طریقوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں (فائل فوٹو: فیس بُک)
پاکستان میں اٹلی کے سفارت خانے نے شینگن، ورک، فیملی ری یونین اور سٹوڈنٹ ویزا کی درخواستیں جمع کروانے کے خواہش مند پاکستانی شہریوں کے لیے صحیح آن لائن ذرائع اور طریقہ کار سے متعلق نئی اور اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ 
سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ان گائیڈ لائنز میں ویزا اپائنٹمنٹس کے لیے ’ویٹنگ لسٹ سسٹم‘ کا نفاذ، ’بی ایل ایس‘ کے دائرہ کار کی توسیع اور طلبہ کے لیے ’یونیورسٹی‘ پورٹل کے استعمال کو لازمی قرار دینا شامل ہے۔
اس کے علاوہ یورپی یونین کے شہریوں کے اہلِ خانہ کے لیے ’پی ای سی‘ (تصدیق شدہ ای میل) کے ذریعے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کا طریقہ کار بھی ان ہدایات کا حصہ ہے۔
تاہم یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں سے یورپی سفارت خانوں، بالخصوص اٹلی کے سفارت خانے کی ویزا اپائنٹمنٹس کا جو سنگین بحران چلا آرہا ہے، کیا وہ ان نئی گائیڈ لائنز کے بعد حل ہو سکے گا؟ اور کیا پاکستانی شہریوں کو اب ویزا کی سہولیات آسانی اور شفافیت کے ساتھ میسر آسکیں گی؟
سب سے پہلے یہ جان لیتے ہیں کہ نئی ہدایات کے اہم پہلو کیا ہیں؟ اٹلی کے سفارت خانے کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ضوابط کے مطابق شینگن، ورک اور فیملی ری یونین ویزہ کی درخواستیں اور اپائنٹمنٹ کی بُکنگ اب صرف اسلام آباد، لاہور، ملتان اور فیصل آباد کے ’بی ایل ایس‘ ویزا سینٹرز کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔
سفارت خانے نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ویزا اپائنٹمنٹ کے لیے ’دی اٹلی ویزا‘ کی باضابطہ ویب سائٹ استعمال کریں جبکہ دیگر غیر متعلقہ ویب سائٹس یا ذرائع سے اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔
سفارت خانے کے مطابق ورک اور فیملی ری یونین ویزہ کی زیادہ درخواستوں کے پیش نظر فی الحال ’ویٹنگ لسٹ‘ کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے اور تمام رجسٹرڈ درخواست گزاروں کو ان کی باری پر اپائنٹمنٹ فراہم کر دی جائے گی۔
اٹلی یا کسی بھی یورپی ملک کے شہری کے ساتھ فیملی ری یونین کے خواہش مند افراد کے لیے ویزہ کا طریقہ کار عام درخواست گزاروں سے مختلف رکھا گیا ہے اور ان کی درخواستوں پر علیحدہ ضوابط لاگو ہوں گے۔

 


اگر پیسوں کے عوض اپائنٹمنٹ کی پیش کش کی جائے تو وہ اس کی اطلاع فوری طور پر سفارت خانے کو دی جائے (فائل فوٹو: پکسابے)

ایسے درخواست گزار براہِ راست اٹلی کے سفارت خانے سے اپائنٹمنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں سفارت خانے کے مخصوص پتے پر اٹلی کی تصدیق شدہ ای میل بھیجنا ہوگی جبکہ ضروری دستاویزات کی تمام تفصیلات اسلام آباد میں اٹلی کے سفارت خانے کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
سفارت خانے کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے لیے اٹلی جانے کے خواہش مند طلبہ کے لیے ویزا اپائنٹمنٹ سے پہلے ’یونیورسٹیلی‘ پورٹل کے ذریعے پری اینرولمنٹ کی تصدیق کروانا لازمی ہوگا۔
غیر قانونی ایجنٹوں کے خلاف سفارت خانے کا انتباہ
اٹلی کے سفارت خانے نے ویزا اپائنٹمنٹ کے نام پر دھوکہ دہی اور فراڈ کے خلاف انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیسوں کے عوض غیر قانونی خدمات فراہم کرنے والے ایجنٹوں اور درمیانی افراد کے عمل سے مکمل طور پر باخبر ہے۔
سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ ویزا اپائنٹمنٹس خریدی نہیں جا سکتیں۔ اگر کسی بھی درخواست گزار سے پیسوں کے عوض اپائنٹمنٹ کی پیش کش کی جائے تو وہ اس کی اطلاع فوری طور پر سفارت خانے کو دے۔
سفارت خانے کے مطابق ایسے غیر قانونی طریقوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف باضابطہ ذرائع پر ہی اعتماد کریں۔
ویزہ اپائنٹمنٹ یا سائبر بلیک مارکیٹ؟ ایجنٹ مافیا کے خلاف درخواست گزاروں کی شکایات
پاکستان میں اٹلی کی ویزا اپائنٹمنٹس کا بحران انتظامی مسئلے سے زیادہ ایک پیچیدہ ’سائبر اور معاشی استحصال‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ طویل عرصے سے اٹلی جانے کے خواہش مند ورک پرمٹ ہولڈرز، طلبہ اور فیملی ری یونین کے کیسز کی مانگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک منظم ایجنٹ مافیا متحرک ہے جو ’خودکار سافٹ ویئرز‘ اور بوٹس کے ذریعے آن لائن سلاٹس منٹوں میں بلاک کر کے پانچ سے 15 لاکھ روپے تک میں فروخت کر رہا ہے۔
اس پس منظر میں درخواست گزاروں کی سب سے بڑی مجبوری ان کی قانونی دستاویزات، بالخصوص ورک پرمٹس کی محدود میعاد ہوتی ہے جس کے ختم ہونے کے خوف سے وہ ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اسلام آباد کے رہائشی آصف حیات نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ’اٹلی کے ورک پرمٹ کی اپائنٹمنٹ کے لیے ایجنٹ کو 20  لاکھ روپے ادا کیے، مگر اس کے باوجود اپائنٹمنٹ نہ مل سکی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’جب ایجنٹ سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تو اس نے حیلے بہانے شروع کر دیے۔ قانونی چارہ جوئی کے بعد انہیں محض آدھی رقم ہی واپس مل پائی ہے جبکہ ان کی ویزا اپائنٹمنٹ اور  کوشش بھی رائیگاں گئی۔‘
اسلام آباد میں ہی ویزہ کنسلٹنسی کی خدمات فراہم کرنے والے امیگریشن کے ماہر محمد عمر حیات کہتے ہیں کہ ’اگرچہ اب اٹلی اور یورپی سفارت خانوں سے ویزا اپائنٹمنٹس کے حصول میں کسی حد تک بہتری آئی ہے، تاہم گزشتہ دنوں اس معاملے پر کافی بے چینی دیکھی گئی ہے۔‘

سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ ویزا اپائنٹمنٹس خریدی نہیں جا سکتیں (فائل فوٹو: پکسابے)

انہوں نے اعتراف کیا کہ ’ویزا اپائنٹمنٹس کے نام پر شہریوں کے لاکھوں روپے ضائع ہوئے اور آن لائن ایجنٹس نے اپائنٹمنٹس خرید کر لوگوں کو آگے بھاری رقم کے عوض بیچیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان سفارت خانوں کو پہلے اپنے عملے کی تعداد بڑھانا ہوگی اور ویزا کی مانگ کے شدید دباؤ کے مطابق ہی اپنے کام کی رفتار تیز کرنا ہوگی تاکہ اس معاملے کو بہتر بنایا جا سکے۔‘
نئی سفارتی گائیڈ لائنز کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’اٹلی کی جانب سے متعارف کروائے گئے نئے ضوابط ویزا کے عمل کو شفاف بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘
ان کے مطابق ’جب درخواست گزاروں کو ویٹنگ لسٹ اور متعلقہ باضابطہ پورٹلز کے ذریعے براہِ راست منسلک کیا جائے گا تو ایجنٹوں کے غیر قانونی نیٹ ورک کی پکڑ کمزور ہوگی۔ اگر ان گائیڈ لائنز پر سخت تکنیکی کنٹرول کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو شہریوں کے لاکھوں روپے کی بچت ہوگی اور اپائنٹمنٹس کے حصول میں حائل رکاوٹیں کافی حد تک کم ہو جائیں گی۔‘

شیئر: