Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران پر حملوں کے ذریعے ٹرمپ سے قریبی تعلقات کو داؤ پر لگا دیا

اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملوں نے نہ صرف ایک بار پھر مکمل جنگ بھڑکنے کے خدشات کو جنم دیا ہے بلکہ یہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان قریبی تعلقات کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اگرچہ ٹرمپ بظاہر جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے امکان سے گریزاں نظر آتے ہیں، تاہم اسرائیل اور ایران دونوں نے اس کشیدہ صورتحال کو مزید ہوا دی ہے، جو طویل عرصے سے جنگ بندی کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھی۔ اپریل میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلی براہِ راست جھڑپ تھی۔
بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل کی جانب میزائلوں کی بارش کر دی، جس کے جواب میں بعض اسرائیلی حکام نے سخت اور مسلسل ردعمل کا مطالبہ کیا۔
شدت پسند قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے کہا کہ ’آج رات تہران کو جلنا چاہیے۔‘
امریکہ کی جانب سے جوابی کارروائی روکنے کی کوششوں اور ان خبروں کے باوجود کہ ٹرمپ نیتن یاہو سے بڑھتی ہوئی ناراضی محسوس کر رہے ہیں، اسرائیلی وزیرِاعظم نے ایک بار پھر ’حقِ دفاع‘ کا مؤقف اختیار کیا۔
ریٹائرڈ کرنل اور دفاعی ماہر آدی برشادسکی نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جب شہری آبادی کے مراکز پر بیلسٹک میزائل داغے جائیں تو کسی خودمختار ریاست سے یہ توقع کرنا مشکل ہے کہ وہ جواب نہ دے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ فریقین کے درمیان کسی حد تک یہ سمجھ بوجھ یا رابطہ موجود تھا کہ واقعات کس طرح آگے بڑھیں گے۔‘
اسرائیلی فوج نے پیر کو کہا کہ اس کا چیف آف اسٹاف اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ ’قریبی رابطے‘ میں ہے۔
تاہم، یاکوف کاٹز، جو جویش پیپلز پالیسی انسٹیٹیوٹ  کے تجزیہ کار ہیں، کے مطابق ایران کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ کسی معاہدے کے خواہاں ہیں، لیکن ’اسرائیل آزادانہ طور پر کارروائی کرتا ہے۔‘
اسی طرح تجزیہ کار مائیکل ہورووٹز نے کہا کہ ’کوئی بھی اسرائیلی رہنما ایرانی حملے کو بغیر جواب کے قبول نہیں کرتا۔ بات اتنی ہی سادہ ہے۔‘

انتخابات

ہورووٹز کے مطابق ’انتخابات نے بھی اس فیصلے میں کردار ادا کیا اور اگر اسرائیل جواب نہ دیتا تو نیتن یاہو کے مخالفین یقیناً اس موقع سے فائدہ اٹھاتے۔‘
اسرائیل میں اکتوبر کے آخر تک انتخابات متوقع ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ایسے معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے جسے اسرائیل کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، نیتن یاہو کے حامی اور مخالف دونوں انہیں 2024 کے ایک بیان کی یاد دلاتے رہے ہیں:
}اسرائیل کے وزیرِاعظم میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ اپنے بہترین دوستوں کو بھی ’نہیں‘ کہہ سکے۔‘
ہورووٹز نے کہا کہ ’مجھے یقین نہیں کہ یہ پہلا موقع ہے جب نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو نظر انداز کیا ہو، لیکن یہ یقیناً پہلا موقع ہے جب انہوں نے ایسا اتنے کھلے عام کیا ہے۔‘
انہوں نے اسے ’ایک بڑا جوا‘ قرار دیا۔
تاہم، 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی شروع کرنے کے بعد سے دونوں رہنما اس جنگ میں ایک ساتھ بندھے ہوئے ہیں‘، اور عوامی سطح پر تعلقات میں دراڑ دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ دونوں کو انتخابات کا سامنا ہے۔
تجزیہ کار انا بارسکی کے مطابق اسرائیل کا فیصلہ ’خطرناک‘ تھا کیونکہ اس سے مزید ایرانی حملوں اور ایران کے دیگر اتحادی گروہوں کی ممکنہ مداخلت کا خطرہ بڑھ سکتا تھا۔
تاہم، انہوں نے اسے ’قابلِ فہم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی میزائل حملے کے جواب میں خاموشی اختیار کرنا ایک خطرناک مثال قائم کر دیتا۔
فی الحال کشیدگی کسی حد تک قابو میں دکھائی دیتی ہے کیونکہ ایران اور نیتن یاہو دونوں نے دشمنی کم کرنے کے اشارے دیے ہیں۔
اس کے باوجود اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ حملے جاری رہے تو اس کا جواب زیادہ سخت ہو گا۔
بارسکی نے کہا کہ ’اسرائیل ایک پرانے مخمصے کا سامنا کر رہا ہے: امریکہ کے ساتھ اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی آزادانہ کارروائی کی صلاحیت کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔‘

شیئر: