Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’انتہائی اشتعال انگیز‘، پاکستان نے کشمیر پر انڈین وزیر دفاع کا بیان مسترد کر دیا

وزیر دفاع خواجہ آصف نے انڈین وزیر دفاع کے بیان کو ’بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش‘ قرار دیا (فائل فوٹو: روئٹرز)
حکومت پاکستان نے جموں و کشمیر تنازع پر انڈین وزیر دفاع کے بیان کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
پیر کو ایک بیان میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ انڈین وزیر دفاع کا بیان نہ صرف بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع جموں و کشمیر سے متعلق حقائق کے منافی ہے جو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے بلکہ علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت نے سوچی سمجھی پالیسی کے تحت اس سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے۔
خیارل رہے اتوار کو انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ’پاکستان نے دہشت گردی کو اپنی ریاستی پالیسی کا حصہ بنا رکھا ہے اور اس کے ساتھ کشمیر کے علاوہ کسی اور معاملے پر بات نہیں ہو گی جس پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے۔‘
انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ’انڈیا جدت کے راستے تلاش کرتے ہوئے سیمی کنڈکٹرز تیار کر رہا ہے جبکہ پاکستان خودکش بمبار بنا رہا ہے۔‘
وزارات خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق ’اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کشمیر میں مسلسل غاصبانہ قبضے، اس سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور خطے کو عدم مستحکم کرنے کی کوششوں سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’پاکستان نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیا کے اشتعال انگیز رویے کا نوٹس لے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکامی پر اس کی جوابدہی کرے جو کشمیری عوام کے خودارادیت کی ضامن ہیں۔‘
اسی طرح وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی کشمیر کے تنازع کے بارے میں انڈین وزیر دفاع کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کیا ہے۔
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایسے بیانات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہیں۔
ان کے مطابق ’جموں و کشمیر آج بھی ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کے مطابق ہونا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور مذاکرات کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

شیئر: