Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات کا پہلا مرحلہ، میرپور کے 13 حلقوں میں پولنگ

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہلے مرحلے کے تحت میرپور ڈویژن کے تین اضلاع، میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہوا جو بلاتعطل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔
پولنگ کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ فوج کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ کشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی سے مختلف ڈویژنوں میں تین مرحلوں میں منعقد ہوں گے۔ یہ انتخابات کئی ہفتوں کی بدامنی کے بعد کرائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے موقعے پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی، جو شہری حقوق کی تحریک ہے اور جس پر گزشتہ ماہ حکام نے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی عائد کر دی تھی، حالیہ ہفتوں میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرتی رہی ہے۔ ان مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں تقریباً 30 افراد ہلاک ہوئے۔

پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہوا جو شام پانچ بجے تک جاری رہے گا (فوٹو: الیکشن کمیشن)

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی نشستوں کے تنازع کے باعث شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے انتخابی مہم کو متاثر کیا، کاروباری سرگرمیاں معطل کر دیں اور اس بات پر سوالات کھڑے کر دیے کہ آیا پولنگ مقررہ شیڈول کے مطابق ہو سکے گی یا نہیں۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 45 حلقوں میں منعقد ہو رہے ہیں جن میں 33 علاقائی نشستیں شامل ہیں جبکہ 12 نشستیں پاکستان کے صوبہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔
انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کر رہی ہے۔ کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں ختم کی جائیں۔

ڈویژن میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے پاکستان کی مرکزی سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر میں حکومت سازی پر اثر انداز ہوتی ہیں تاہم، پاکستان اور آزاد کشمیر کے حکام اس مؤقف کی تردید کرتے ہیں۔
تاہم  گزشتہ ماہ آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ نےاپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مہاجرین کے لیے مختص نشستیں آئینی تحفظ حاصل رکھتی ہیں اور انہیں انتظامی یا حکومتی فیصلے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ دو اگست کو ہوگی۔ اسی روز پاکستان میں مقیم انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی جبکہ پونچھ ڈویژن میں پولنگ 10 اگست کو منعقد کی جائے گی۔

شیئر: