کشمیر الیکشن: دوسرا مرحلہ اتوار کو، مظفرآباد ڈویژن اور 12 مہاجر نشستوں پر پولنگ ہوگی
پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ کے بعد حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اکثریت حاصل کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اتوار کو مظفرآباد ڈویژن کی نو عام نشستوں اور پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر پولنگ ہوگی۔
الیکشن کمیشن کے نظرثانی شدہ انتخابی شیڈول کے مطابق ووٹنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔
قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ابتدا میں 27 جولائی کو ایک ہی روز کرانے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم سکیورٹی انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد انتخابی عمل کو تین مراحل میں تقسیم کر دیا۔
پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ ہوئی، دوسرا مرحلہ 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور 12 مہاجر نشستوں پر ہوگا جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔
دوسرے مرحلے میں مظفرآباد، جہلم ویلی اور نیلم اضلاع پر مشتمل مظفرآباد ڈویژن کی نو حلقوں میں ووٹنگ ہوگی۔ اس کے ساتھ پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم انڈیا زیر انتظام جموں و کشمیر سے ہجرت کرنے والے کشمیریوں کے لیے مختص 12 مہاجر نشستوں پر بھی پولنگ ہوگی، جنہیں حالیہ سیاسی بحث کے باعث غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی مجموعی طور پر 53 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 45 براہ راست منتخب ہونے والی جنرل نشستیں اور آٹھ مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ براہ راست منتخب ہونے والی نشستوں میں 33 حلقے آزاد کشمیر کے اندر جبکہ 12 نشستیں پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔ خواتین، علما، ٹیکنوکریٹس اور اوورسیز کشمیریوں کی مخصوص نشستیں عام انتخابات کے بعد متناسب نمائندگی کی بنیاد پر پُر کی جائیں گی۔
حالیہ ہفتوں کے دوران مہاجر نشستوں کا معاملہ پاکستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر کی سیاست کا اہم ترین موضوع رہا ہے۔ کالعدم قرار دی جانے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ یہ نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق الیکشن کمیشن نے دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لیے انتخابی سامان متعلقہ ریٹرننگ افسران کے حوالے کر دیا ہے جبکہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ سٹیشنوں پر اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انتخابات کی نگرانی سکیورٹی اداروں کی معاونت سے کی جائے گی تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔
پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ کے بعد حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اکثریت حاصل کی تھی تاہم مجموعی حکومت سازی کا دارومدار اب بھی آئندہ دو مراحل، خصوصاً مہاجر نشستوں کے نتائج پر ہوگا، جنہیں سیاسی مبصرین فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔
