الباحہ کی تاریخی بستیاں و ثقافتی میلہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز
الباحہ کی تاریخی بستیاں و ثقافتی میلہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز
اتوار 2 اگست 2026 0:02
میلے میں ثقافتی تقریبات کے حوالے سے مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں(فوٹو، ایس پی اے)
الباحہ ریجن میں موجود تاریخی و ثقافتی بستیاں اور قصبے موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران اندرون و بیرون مملکت سے آنے والے سیاحوں میں کافی مقبول ہو رہی ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق ریجن کے نمایاں و اہم سیاحتی مراکز میں ’قصربن رقوش، قلعہ بن علاس ، قصبہ ذی عین، الاطاولہ گاوں، العبادلہ اور الموسی گاوں ‘ شامل ہیں۔
یہ مقامات قومی سیاحت کے حوالے سے نمایاں شناخت بن چکے ہیں۔
یہاں ثقافتی تقریبات، عوامی و روایتی کھیل، دستکاری، روایتی ملبوسات کی تیاری، زراعت، ہل چلانے کے مظاہرے، فنی ورکشاپس، عربی خطاطی اور مصوری کی تربیت، روایتی دستکاریوں کی نمائش، مقامی پکوانوں کی تیاری جیسے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔
تاریخی گاؤں سیاحت کے حوالے سے اہم مقامات کا درجہ اختیار کرچکے ہیں(فوٹو، ایس پی اے)
’الاطاولہ فیسٹیول‘ میڈیا کمیٹی کے سربراہ مہدی الکنانی کا کہنا تھا کہ ’تاریخی بستیاں اپنے اندر ایسا ثقافتی و تاریحی ورثے رکھتی ہیں جو الباحہ کی قدیم شناخت کی عکاسی کرتا ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں لگنے والا میلہ ایک منفرد سیاحتی مقام بن چکا ہے، جہاں قدرتی حسن، تاریخی عظمت اورتفریح ایک ساتھ ہے۔ مملکت اور بیرون ملک سے آنے والے سیاح یہاں قدیم معاشرتی زندگی، علاقائی فنون ، رسم و رواج، روایتی ملبوسات اور مقامی پکوانوں سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔
الکنانی نے بتایا کہ میلہ دس دن تک جاری رہتا ہے، جس میں ہرعمر و طبقہ فکر کے افراد شرکت کرتے ہیں، جہاں وہ اپنے اجداد کی روایات اور طرزِ زندگی کو قریب سے دیکھتے ہیں۔
ریجن میں 72 سے زیادہ آثار قدیمہ کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے(فوٹو، ایس پی اے)
خیال رہے الباحہ ریجن میں متعلقہ اداروں کی جانب سے 72 سے زیادہ تاریخی دیہات اور آثارِ قدیمہ کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔ مقامی آبادی بھی ان کاموں میں بھرپور تعاون کرتی ہے۔
قدیم وتاریخی گاوں اورمقامات کی بحالی کے منصوبوں کا مقصد الباحہ ریجن کو عالمی ثقافتی و تاریخی سیاحتی مرکز کے طور پر وسیع پیمانے پر متعارف کرانا ہے۔