جنگ ختم کرنے کے لیے ڈیل کے بنیادی خدوخال پر ’اتفاق‘، صدر ٹرمپ کا ایران پر حملے روکنے کا حکم
جنگ ختم کرنے کے لیے ڈیل کے بنیادی خدوخال پر ’اتفاق‘، صدر ٹرمپ کا ایران پر حملے روکنے کا حکم
اتوار 2 اگست 2026 7:52
صدر ٹرمپ کے مطابق ’مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو ’فوری اور مکمل طور پر کھولنا‘ شامل ہوگا‘ (فائل فوٹو: اے پی)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی افواج کو ایران کے خلاف نئے حملے فی الحال روکنے کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک نے پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے کے بنیادی خدوخال پر اتفاق کر لیا ہے۔‘
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے سنیچر کی شام سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو ’فوری اور مکمل طور پر کھولنا‘ اور ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ شامل ہوگا۔‘
امریکی صدر کے مطابق ’اس درخواست کی بنیاد پر میں نے دنیا کے مستقبل اور ایک کامیاب اور خوش حال ایران کی بقا کے پیش نظر، حملے منسوخ کرنے پر اتفاق کیا ہے، بشرطیکہ جلد سے جلد ایک معاہدہ طے پا جائے۔‘
صدر ٹرمپ کے مطابق ’اسرائیل نے بھی امریکہ کے ساتھ اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ مکمل کیا جائے جس سے جنگ کا خاتمہ ہو سکے‘، تاہم ایران کی جانب سے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ’انتہائی شدید‘ حملوں کی دھمکی دینے کے بعد خطے میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ گئے تھے۔
اسی رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ اگر یہ کارروائی ہوتی ہے تو یہ ایران کے خلاف جاری امریکہ اسرائیل کی جنگ کے دوران ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر کیے جانے والے اب تک کے سخت ترین حملوں میں سے ایک ہوگی۔
ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا امریکہ اور اسرائیل ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے بشمول آئل ریفائنریوں اور بجلی گھروں کو تباہ کرنے کے لیے بمباری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اور یہ حملے سنیچر یا اتوار کو کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔
چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’انتہائی سنجیدہ مذاکرات‘ جاری ہیں، تاہم اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو وہ ایران کے خلاف ’سخت فوجی کارروائی‘ کے لیے بھی تیار ہیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک نے ممکنہ معاہدے کے بنیادی خدوخال پر اتفاق کر لیا ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات کے لیے زیادہ وقت نہیں دیا جائے گا، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے، یا تو معاملات جلد طے ہوں گے یا پھر بالکل نہیں ہوں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے ایک بار پھر اپنی یہ دھمکی بھی دہرائی کہ ایران کے ساتھ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سنیچر کو امریکہ نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کو بھی خبردار کیا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر حالات مزید خراب ہونے کے خدشے کے باعث خطہ چھوڑنے پر غور کریں یا فوری انخلا کے لیے تیار رہیں۔
امریکی سفارت خانوں کی جانب سے عمان، یروشلم اور بغداد میں جاری کیے گیے سکیورٹی الرٹس میں کہا گیا تھا کہ خطے میں تعینات یا موجود امریکی شہری غیر متوقع صورتِ حال کے لیے تیار رہیں اور اپنی سفری منصوبہ بندی پر نظر رکھیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری احتیاط کریں کیونکہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور سفری نظام میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اردن میں امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکی فوجی اڈوں کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ حالیہ ہفتوں میں ان اڈوں کو ایرانی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔