رجال المع گاؤں: قبل از اسلام اور اسلامی ادوار کی تاریخ کا امین
رجال المع گاؤں: قبل از اسلام اور اسلامی ادوار کی تاریخ کا امین
بدھ 17 جون 2026 8:08
سعدیہ اے ندیم -عرب نیوز
عسیر ریجن کے پرُشکوہ کوہساروں کے درمیان ایک چھوٹا سا قریہ ہے جس کا نام رجال المع ہے۔ اس قریے کی وجۂ شہرت اسلام سے قبل کے زمانے اور اسلام آ جانے کے بعد کی تاریخ سے ہے۔
یہ چھوٹا سا آرام دہ قریہ، ابھا ریجن سے گاڑی پر تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے گو ابھا میں زندگی کی رنگا رنگی، رونق اور چہل پہل، رجال المع سے کہیں زیادہ ہے۔
اسی قریہ میں رجال المع کی تاریخی بستی (ہیرٹیج وِلج) بھی ہے جو شہر کے ایک محفوظ حصے میں واقع ہے۔ یہاں پر 900 سال پرانے کئی منزلہ مکانات موجود ہیں جو ساتھ ساتھ بنے ہوئے ہیں جیسے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں۔ قومی اتھارٹی نے اِن عمارتوں کو بہت احتیاط کے ساتھ مقامی افراد کی مدد سے محفوظ کیا ہے۔
ہم مئی کی ایک گرم صبح اپنے سفری پروگرام کے مطابق اس گاؤں پہنچے۔ یہاں آنے کے لیے ہمیں تنگ اور یکدم اوپر نیچے ہونے والے پہاڑی راستوں اور اچانک سامنے آنے والے موڑوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم ہر موڑ پر دعائیں کر رہے تھے اور اپنے آپ سے پوچھ رہے تھے کہ ہم نے اِس گاؤں میں آنے کا فیصلہ کِیا ہی کیوں؟
جب ہم وہاں پہنچے تو دوپہر کے دو بج رہے تھے۔ اِس جگہ کسی انسان کا نام و نشان تک نہیں تھا، غالباً اس لیے کہ گرمی شدید تھی۔ پھر بھی، لیکن سائٹ کو دیکھنے نے ہمارے سفر کو قابلِ قدر اور یادگار بنا دیا۔ سائٹ پر مٹی، گارے اور پتھروں سے بنے ہوئے قدیم مکانوں کا نظارہ انتہائی دلکش تھا۔ مکانوں کی چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں تھیں اور اُن پر تراشے بغیر کوارٹز کو انتہائی صفائی کے ساتھ یوں نصب کیا گیا تھا گویا جیومیٹری کی کوئی شکل ہو۔ اِس منظر میں بہت سادگی تھی لیکن اس سادگی میں حُسن لاجواب تھا۔
رجال المع میں 900 سال پرانے کئی منزلہ مکانات آج بھی موجود ہیں (فوٹو: عرب نیوز)
ہم کچھ دیر تک مکانات کی کمال نظارگی کے جادو کا شکار رہے اور پھر وزیٹر سینٹر کی طرف چل پڑے جہاں کے سٹاف نے ہماری رہنمائی کرتے ہوئے اُس طرف بھیج دیا جہاں خطے کی تاریخ انگریزی اور عربی دونوں زبانوں میں نمایاں طور پر بیان کرنے والے معلوماتی بورڈز کی قطار تھی۔‘
اس کے بعد ہمیں ایک تھیئٹر لے جایا گیا جہاں ایک مختصر فلم دکھائی گئی جس میں عسیر کے فن، ثقافت، وراثت اور فنِ تعمیر کو پیش کیا گیا۔
آگے چل کر 20 ریال کی فیس ادا کرنے کے بعد ہمیں ثقافتی ورثے کی سائٹ تک رسائی دی گئی جہاں کثیرالمنزلہ میوزیم بھی تھا۔ میوزیم میں نمائش پر جو متاثر کُن چیزیں رکھی ہوئی تھیں اُن میں کھانے پکانے، شکار اور کھیتی باڑی کے آلات و اوزار تھے۔ اسلحہ اور زیورات بھی نمائش کے لیے رکھے ہوئے تھے۔ ان تمام اشیا کو بھاری پتھروں یا دھاتوں سے بنایا گیا تھا۔
گاؤں میں دروازوں کا سائز بھی چھوٹا ہے (فوٹو: عرب نیوز)
ہم نے سائٹ کے باقی حصوں کا بھی جائزہ لیا اور اِس بات پر حیران رہ گئے کہ باہر کی شدید گرمی کے باوجود، میوزیم کے اندر اُس کے مخصوص فنِ تعمیر کی وجہ سے موسم کافی بہتر تھا جو اُس زمانے کی ذہنی جدت کو سلام ہے۔
رنگدار شیشوں والی کھڑکیوں اور دروازوں کا سائز کافی چھوٹا تھا۔ شاید پانچ فٹ اونچا اور مجھے کچھ جگہوں پر داخل ہونے کے لیے تھوڑا جھکنا پڑا۔
رجال المع ابھا ریجن سے گاڑی پر تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے (فوٹو: عرب نیوز)
اوپر کی منزل سے ہمیں اِس قریے کے خوبصورت مناظر کے وسیع سلسلے نظر آئے۔ اِن میں پتھریلے پہاڑ بھی تھے جن کے اوپری حصے وقت کے ساتھ ساتھ بکھرنا شروع ہو چکے تھے۔ ہمیں سیڑھی دار کھیت بھی نظر آئے جو صدیوں پہلے اِس خطے کی زندگی کی جھلک پیش کر رہے تھے۔‘
رجال المع کا ہیریٹیج ویلج ایسا قریہ ہے جسے اُن لوگوں کو ضرور دیکھنا چاہیے جو تاریخ اور ثقافت کے دلدادہ ہیں۔ میرے خیال میں اِس قریے میں جانے کا بہتر وقت سردیوں کے مہینے ہیں کیونکہ اُس زمانے میں یہاں ثقافتی شو ہو رہے ہوتے ہیں جو اِس سائٹ کے ماحول میں جان ڈال دیتے ہیں۔