Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران امریکہ عبوری معاہدہ، تہران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کا تعین ابھی باقی ہے

صدر ٹرمپ نے ایران کو دھمکی بھی ہے کہ اگر اس نے مناسب رویہ نہ اپنایا تو دوبارہ حملے کیے جائیں گے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے عبوری معاہدے سے دو ماہ پر مشتمل ایک ایسا دورانیہ شروع ہو گا جس میں دونوں کے درمیان سب سے زیادہ متنازع مسئلے یعنی ایران کے جوہری پروگرام کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ایک اہم وجہ تھی اور اسی بنا پر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی گئی تھی۔
تاہم جس انداز میں وہ ایک عارضی معاہدے کو پیش کر رہے ہیں، اس میں دیرینہ اور پیچیدہ تنازع پر کافی کم بات ہوئی ہے۔
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے پچھلے معاہدے پر بات چیت اور اس کو طے کرنے میں کئی مہینے لگے تھے، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور حکومت میں امریکہ کو الگ کر لیا تھا۔
امریکی حکام کی جانب سے بدھ کو بتائی گئی تفصیلات کے مطابق ابتدائی معاہدے کی شرائط میں کہا گیا ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو تیل بردار جہازوں کے لیے کھولنے کے لیے اقدامات کرے گا اور اس کو تیل اپنا تیل برآمد کرن کی بھی اجازت ہو گی۔
اس معاہدے جس پر جمعے کو سوئٹرزرلینڈ میں باضابطہ طور پر دستخط ہوں گے، کے بارے میں یہ تصور بھی کیا گیا ہے کہ ایران کو تعمیر نو کے لیے کم سے کم 300 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔
اسی طرح امریکہ تہران پر عائد تمام امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم کرانے کے لیے کام کرے گا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے ایران پر حملے کا مقصد ہی اسے جوہری پروگرام سے روکنا تھا (فوٹو: روئٹرز)

تاہم یہ سب کچھ اسی صورت میں جب 60 روزہ مذاکراتی دورانیے کے دوران ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق ایک حتمی معاہدہ طے پا جائے۔
معاہدے کے متن کے مطابق فریقین نے انتہائی افزودہ یورینیم کے مستقبل اور استعمال کے حوالے سے فیصلہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس کے باوجود ریپلبکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں، اسرائیل کے حامی حلقوں اور اسرائیل کے اندر اس امر پر گہرا شک پایا جاتا ہے کہ آیا یہ معاہدہ حقیقت پسندانہ، قابل عمل یا مستقبل کے جوہری مذاکرات پر مثبت ڈال سکے گا یا نہیں۔
ریپبلکن سینٹیٹر، صدر ٹرمپ کے پرانے اتحادی اور ایران کے خلاف سخت موقف رکھنے والے لنڈسے گراہم نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’
’مجھے شک ایران پر ہے، ایک اچھا معاہدہ کیسا ہونا چاہیے، یورینیم کی افزودگی بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہم یہ حاصل کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے دوسرے مرحلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نہیں جانتا آیا ہم وہاں تک پہنچیں گے یا نہیں۔‘
واشنگٹن انسٹیٹیوٹ نیئر ایسٹ پالیسی میں عرب پالیٹکس پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سکینکر کا کہنا ہے کہ ’اس انتظامیہ نے ثابت کیا ہے کہ اس کو ایسے ایشوز پر توجہ برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔‘
ڈیوڈ سکینکر جو ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں، نے سوال اٹھایا کہ اگر جمعے کو معاہدے پر دستخط ہو بھی جائیں تو کیا موجودہ انتظامیہ کے پاس جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کی صلاحیت اور استقامت موجود ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس قسم کے معاہدے کے لیے مسلسل محنت، باریک بینی سے نکات پر توجہ اور متعدد تکنیکی ماہرین کی شمولیت ضروری ہوتی ہے، صدر ٹرمپ کی توجہ جلد دوسری طرف منتقل ہو جاتی ہے اور انتظامیہ بھی اسی راستے پر چل پڑتی ہے۔‘
ان کے مطابق ’ایسا لگتا ہے کہ وہ ایران کی حکمت عملی کو پوری طرح نہیں سمجھتے جیسا کہ وہ پہلی بار بھی سمجھ نہیں پائے تھے۔‘
تاہم دوسری جانب ریپبلکن انتظامیہ اپنے موقف پر پراعتماد دکھائی دے رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ تعاون کرے گا اور انتہائی افزودہ یورینیم حوالے کرے گا، جو بظاہر وہ زیر زمین تنصیبات ہیں جن پر امریکہ نے جون 2025 میں بمباری کی تھی۔

شیئر: