Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کھوئے ہوئے ریلوے سٹیشنز کی تلاش میں ایک ڈاکٹر

پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے شہر خان پور میں محلہ عظیم شاہ کی ایک گلی سے چند قدم کے فاصلے پر ریلوے لائن گزرتی ہے۔ دن ہو یا رات جب کبھی ٹرین کی سیٹی فضا میں گونجتی ہے تو ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بخاری کے چہرے پر آج بھی وہی چمک ابھر آتی ہے جو برسوں پہلے ایک کم سن بچے کی آنکھوں میں دکھائی دیتی تھی۔
وہ پیشے کے اعتبار سے ریڈیالوجسٹ ہیں اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال خان پور میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کا ایک نجی کلینک بھی ہے لیکن اگر ان سے پوچھا جائے کہ ان کی اصل پہچان کیا ہے تو شاید وہ خود کو پاکستان کے ریلوے سٹیشنز کا مسافر، مؤرخ اور داستان گو کہنا پسند کریں گے۔
پاکستان بھر کے ریلوے سٹیشنز کی کھوج اور ان کی تاریخ کو محفوظ کرنے کے لیے ان کی کاوشیں ’ریل کی سیٹی‘ کے عنوان سے جانی جاتی ہیں جس کے ذریعے وہ ایسے ریلوے سٹیشنز کی کہانیاں سامنے لا رہے ہیں جو وقت کی گرد میں گم ہو چکے ہیں۔ 
ڈاکٹر عظیم شاہ بخاری اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے اردو نیوز کو بتاتے ہیں ’یہ محبت آج کی نہیں ہے بلکہ بچپن کی ہے۔ میرا گھر ریلوے لائن کے قریب ہے۔ بچپن میں ہمارے ایک کزن ہمیں شام کے وقت ریلوے سٹیشن لے جاتے تھے۔ وہ پٹڑیاں دکھاتے، ٹرینوں کے بارے میں بتاتے اور ہم بچے خوشی خوشی مسافروں کو ہاتھ ہلا کر الوداع کہتے تھے۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ سات برس کی عمر میں انہوں نے انہی کزن کے ساتھ پہلی بار کوئٹہ کا سفر بھی کیا۔ ’میں راستے کے نظارے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ پہاڑ، سرنگیں، وادیاں، بستیاں، دریا، صحرا یہ سب مناظر میری آنکھوں میں بس گئے۔‘ 
ان کے مطابق گھر کے قریب سے گزرنے والی ٹرینوں کے انجنوں کی آوازیں اور سیٹیاں انہیں غیر معمولی طور پر متاثر کرتی تھیں۔ ’شاید ان آوازوں سے دوسرے لوگوں کی نیند خراب ہوتی ہو لیکن مجھے ان سے عجیب سی خوشی ملتی تھی۔‘
یہی وجہ تھی کہ لڑکپن میں ہی ڈاکٹر عظیم شاہ بخاری نے اپنے گردونواح کے ریلوے سٹیشنز کی کھوج شروع کر دی اور نوجوانی تک پہنچتے پہنچتے کوئٹہ سمیت ملک بھر کے متعدد ریلوے ٹریکس پر سفر کر چکے ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ عظیم شاہ بخاری پاکستان کے چاروں صوبوں میں واقع تقریباً ڈھائی سو ریلوے سٹیشنز کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ ’میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لگ بھگ ڈھائی سو ریلوے سٹیشنز دیکھ چکا ہوں جن میں فعال اور متروک دونوں قسم کے سٹیشنز شامل ہیں۔ جبکہ اب تک میں تین سو کے قریب سٹیشنز پر لکھ چکا ہوں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔‘ 
ان کے مطابق ان کا طریقۂ کار سادہ لیکن محنت طلب ہے۔ ’پہلے میں کسی شہر یا علاقے کا انتخاب کرتا ہوں، پھر ٹرین کے ذریعے سفر شروع کرتا ہوں۔ راستے میں آنے والے ہر سٹیشن کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جہاں ٹرین نہیں رکتی وہاں بھی چلتی گاڑی سے تصویر بنا لیتا ہوں۔‘
پاکستان کے سیکڑوں سٹیشنز دیکھنے کے بعد بھی چند مقامات ایسے ہیں جو عظیم شاہ بخاری کے دل کے قریب ہیں۔ ان میں ضلع اٹک کا اٹک خورد ریلوے سٹیشن سرفہرست ہے۔ اس ریلوے سٹیشن کی کہانی بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’اس کی برطانوی دور کی عمارت انیسویں صدی میں تعمیر ہوئی تھی۔ پہلی نظر میں لگتا ہے جیسے کوئی محل ہو یا سکاٹ لینڈ کا پرانا گھر ہو۔‘ 
ضلع جہلم میں واقع رتیال ریلوے سٹیشن اگرچہ متروک ہوچکا ہے لیکن انہیں بہت پسند ہے۔ ’اسے سانپوں والا ریلوے سٹیشن کہا جاتا ہے۔ اس کے اردگرد کافی سانپ پائے جاتے ہیں اور وہاں پہنچنے کا راستہ بھی آسان نہیں۔‘ سوہاوہ کے قریب ترکی ریلوے سٹیشن اور اٹک کے علاقے میں سرنگوں سے گھرا کنجور سٹیشن بھی ان کے پسندیدہ مقامات میں شامل ہیں۔
بلوچستان کا ذکر آتے ہی ان کی آواز میں الگ ہی جوش پیدا ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں ’کولپور اور بوستان جنکشن مجھے بہت پسند ہیں۔ یہ بلند مقام پر واقع ہیں۔ یہاں موسم ٹھنڈا رہتا ہے اور برف باری بھی پڑتی ہے۔‘ اس کے علاوہ کھوکھراپار، تخت محل، پائی خیل، سہون، مچھ اور رک جیسے سٹیشنز بھی انہیں منفرد محسوس ہوتے ہیں۔
عظیم شاہ بخاری کا سب سے اہم کام شاید وہ ہے جس کے ذریعے انہوں نے ایسے ریلوے سٹیشنز کو دوبارہ عوامی یادداشت کا حصہ بنایا جنہیں لوگ تقریباً فراموش کر چکے تھے۔ اپنی اس سرگرمی سے متعلق وہ بتاتے ہیں کہ ’ایسے کئی سٹیشنز ہیں جن کا نام تک لوگوں کے ذہنوں سے مٹ چکا تھا۔ میں نے ان پر تحقیق کی، لکھا اور انہیں دوبارہ سامنے لانے میں کامیاب ہوا۔‘ سمہ سٹہ امروکا، برانچ لائن پر واقع امروکا تخت محل، مدرسہ، چک عبداللہ اور بخشن خان کے بارے میں ان کی تفصیلی تحریریں کافی توجہ حاصل کر چکی ہیں۔ اسی طرح منگلا کی جانب جانے والی پرانی ریلوے لائن کے سٹیشن ہیسٹڈپور اور ہنا پور پر بھی انہوں نے تحقیق کی۔’ان میں سے بعض مقامات پر اب عمارتیں بھی باقی نہیں رہیں لیکن پرانی کتابوں اور دستاویزات میں ان کے نام موجود ہیں۔‘

عظیم شاہ بخاری سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ریلوے کی اہمیت رفتہ رفتہ کم ہو رہی ہے۔

ریلوے کی تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے عظیم شاہ بخاری ایک دلچسپ دعویٰ کرتے ہیں۔ ان ان کے بقول ’پورے برصغیر میں سب سے پہلے کراچی سے کوٹری تک ریلوے لائن بچھائی گئی تھی کیونکہ انگریزوں کے سامان کو ہندوستان کے دیگر حصوں تک پہنچانے کے لیے کراچی سب سے موزوں بندرگاہ تھی۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ بعد ازاں اس نیٹ ورک کو امرتسر اور دہلی تک وسعت دی گئی جبکہ انڈس فلوٹیلا کمپنی دریائے سندھ میں کشتیاں چلاتی تھی اور انہی کے ذریعے ریلوے انجن ملتان اور پھر لاہور تک پہنچائے گئے۔ ان کے مطابق روہڑی سے کوئٹہ تک کا ریلوے ٹریک برصغیر کے مشکل ترین منصوبوں میں شمار ہوتا تھا۔
سرکاری ملازمت، نجی کلینک، سماجی سرگرمیاں، سفر، تحقیق اور تحریروں کی لمبی فہرست کے بارے میں سن کر اکثر لوگ ان سے ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ وقت کہاں سے آتا ہے؟ اس حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ ’جہاں چاہ ہوتی ہے وہاں راہ ہوتی ہے۔ وقت انسان کے پاس ہوتا ہے بس اسے اپنی کچھ ترجیحات تبدیل کرنا پڑتی ہیں۔ جب لوگ رات کے آخری پہر سو رہے ہوتے ہیں تو میں کسی دور دراز علاقے کے سفر پر نکل چکا ہوتا ہوں۔ صبح وہاں پہنچ کر ریلوے سٹیشنز کی خاک چھانتا ہوں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ جب بھی فرصت ملتی ہے وہ کسی نہ کسی سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔
عظیم شاہ بخاری سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں ریلوے کی اہمیت رفتہ رفتہ کم ہو رہی ہے۔ ’ایک وقت تھا جب ریل کا سفر لوگوں کی زندگی کا اہم حصہ تھا لیکن اب اس کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔‘ 

پاکستان کے سیکڑوں سٹیشنز دیکھنے کے بعد بھی چند مقامات ایسے ہیں جو عظیم شاہ بخاری کے دل کے قریب ہیں۔

وہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں پاکستان میں صرف چند ریلوے لائنیں اور چند سٹیشنز ہی باقی رہ جائیں گے۔ اسی خدشے کی پیش نظر وہ بتاتے ہیں  کہ ’تب لوگ ماضی کی طرف دیکھیں گے۔ اس وقت کچھ نہ کچھ ریکارڈ تو موجود ہونا چاہیے۔‘اسی مقصد کے تحت وہ متروک ریلوے لائنوں، پرانے انجنوں، ریلوے عجائب گھروں اور تجربہ کار ڈرائیوروں کی یادوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ’میری خواہش ہے کہ اس موضوع پر ایک جامع کتاب شائع کروں تاکہ پاکستان ریلوے اور نارتھ ویسٹرن ریلوے کی تاریخ میں میرا یہ ادنیٰ سا کام بھی شامل ہو سکے۔‘
اگرچہ ریلوے ان کی شناخت بن چکی ہے لیکن ان کی دلچسپیاں صرف پٹڑیوں تک محدود نہیں ہیں۔ وہ شمالی علاقوں کی ہائیکنگ، مختلف پہاڑوں کے بیس کیمپوں تک پیدل سفر، صحرائے تھر اور چولستان کی سیاحت، تاریخی کھنڈرات، قلعوں اور قدیم بستیوں کی کھوج میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ سفر کے بعد وہ مقامی لوگوں سے گفتگو کرتے ہیں، تاریخی حوالہ جات تلاش کرتے ہیں اور پھر ان موضوعات پر مضامین تحریر کرتے ہیں۔ وہ 'شاہنامہ' کے نام سے ایک فیس بک صفحہ بھی چلاتے ہیں جہاں ملک بھر سے لوگ ان کے سفرنامے اور تحقیقی مضامین پڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں سکے، ڈاک ٹکٹیں اور نوادرات جمع کرنے کا بھی شوق ہے اور وہ مستقبل میں اپنے شہر میں ایک چھوٹا سا عجائب گھر قائم کرنا چاہتے ہیں۔
اب تک ان کی ’شاہنامہ‘ اور ’حیرت سرائے پاکستان‘ کے نام سے دو کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ لکھنے کا شوق بچپن میں بچوں کے رسائل ’نونہال‘ اور ’تعلیم و تربیت‘ پڑھنے سے پیدا ہوا۔ میڈیکل کالج میں وہ کالج میگزین کے ایڈیٹر اور بعد ازاں چیف ایڈیٹر بھی رہے۔ آج کل وہ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی لکھ رہے ہیں۔

شیئر: