فلپائنی جڑواں بچیوں اولیویا اور گیانا کو الگ کرنے کی ’پیچیدہ‘ سرجری کامیاب
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی طبی ٹیموں نے باہم جڑی ہوئی فلپائنی جڑواں بچیوں اولیویا اور گیانا کو الگ کرنے کے پیچیدہ آپریشن کیا ہے۔
یہ سرجری آج جمعرات کو ریاض میں وزارتِ نیشنل گارڈ کے کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرنز ہسپتال میں کی گئی جو کامیاب رہی ہے۔
رائل کورٹ کے مشیر اور کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے سپروائزر اور سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کی سرجیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربيعہ نے کہا ہے کہ فلپائنی جڑواں بچیاں27 جنوری 2026 کو مملکت پہنچی تھیں اور اُس وقت ان کی عمر دو سال اور دو ماہ تھی۔
کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرنز ہسپتال میں داخلے کے بعد طبی ٹیم نے تفصیلی معائنے کیے اور اس سلسلے میں متعدد اجلاس بھی منعقد کیے۔
ان جائزوں سے معلوم ہوا کہ دونوں جڑواں بچیاں سینے اور پیٹ سے جڑی ہوئی ہیں اور ان میں جگر مشترک ہے جبکہ ممکنہ طور پر آنتوں کا کچھ حصہ بھی مشترک ہے۔ معائنے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایک جڑواں بچی پیدائشی دل کی بیماریوں میں مبتلا ہے جو اس کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یہ آپریشن چھ مراحل میں آٹھ گھنٹوں میں مکمل ہوا۔ اس عمل میں 22 کنسلٹنٹس، ماہرین، نرسز اور تکنیکی عملے نے حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور نازک سرجری ہے جس میں کامیابی کے امکانات 70 فیصد سے زیادہ ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی کونجوئنڈ ٹوئنز پروگرام کے تحت یہ باہم جڑی ہوئی فلپائنی جڑواں بچوں کی علیحدہ کرنے کی چوتھی سرجری ہے جبکہ مجموعی طور پر یہ پروگرام کی 72ویں سرجری ہے۔