Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا جے ڈی وینس کا بیان تازہ عندیہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کا ساتھ چھوڑ سکتا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ لڑنا ہمیشہ سے امریکہ اسرائیل اتحاد کے لیے ایک حساس اور پیچیدہ معاملہ رہا ہے۔
امریکی نیوز چینل ’سی این این‘ کے مطابق جمعرات کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچتے دکھائی دیے۔
 امریکی نائب صدر نے اسرائیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے جو سخت الفاظ استعمال کیے وہ بعض افراد کو ایک دھمکی کی طرح محسوس ہوئے۔
گذشتہ کئی روز سے ایسے اشارے مل رہے تھے جن سے ظاہر ہو رہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس خدشے کا شکار ہے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ امریکہ کے ممکنہ معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بہت سے ناقدین یہ سمجھتے ہیں کہ ’یہ معاہدہ ایران کے حق میں زیادہ ہے۔‘
جمعے کو اسرائیل اور حزب اللہ نے دوبارہ جنگ بندی پر اتفاق کیا، اسرائیلی فوج اور ایران کی حمایت یافتہ اس تنظیم کے درمیان تازہ جھڑپوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ خطرے میں ڈال دیا تھا۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے فاصلے کی وجوہات کیا ہیں؟
 ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے اسرائیل کے مقاصد امریکہ کے مقاصد سے خاصے مختلف تھے، اور اسرائیل کی اس معاملے میں دلچسپی امریکہ کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔
گذشتہ چند برسوں کے دوران امریکہ میں اسرائیل کی ساکھ اور مقبولیت نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔  
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کی حامی جماعت سمجھا جاتا ہے، لیکن حالیہ عرصے کے دوران اس کی کئی بااثر شخصیات نے اسرائیل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ پارٹی کے اندر ’یہود دشمنی ‘کے بڑھتے رُجحان پر بھی بحث ہوئی ہے۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ وہ ماضی میں بعض ایسے بیانات بھی دے چکے ہیں جنہیں ’یہود مخالف‘ تصور کیا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ عام طور پر اتحادیوں کے ساتھ اس وقت تک اچھا تعلق رکھتے ہیں جب تک یہ اُن کے سیاسی یا ذاتی مفاد میں ہو۔
اب امریکی انتظامیہ عملی طور پر ’چِلا‘ رہی ہے کہ ’آپ لوگوں کو چاہیے کہ ہم نے جو دیا ہے اسے قبول کر لو اور خوش ہو جاؤ، ورنہ۔۔۔
یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ امریکہ واقعی اس ’ورنہ‘ تک پہنچتا ہے یا نہیں، تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اب حتیٰ کہ ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اسرائیل کے لیے حمایت ایک ’متنازع رُخ‘ اختیار کرتی جا رہی ہے۔
 

شیئر: