Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غزہ ایشو پر سلامتی کونسل کا اجلاس، سعودی عرب نے عرب گروپ کا بیان پیش کیا

بیان میں غزہ میں انسانی امدادی کی فوری اور مستقبل ترسیل پر زور دیا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی عرب نے عرب گروپ کی نمائندگی کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور غزہ میں انسانی امدادی کی فوری اور مستقبل ترسیل پر زور دیا ہے۔
سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس فلسطین میں موجودہ انسانی صورت حال کے حوالے سے بلایا گیا تھا۔
اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے عبدالعزیز الواصل نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اس لیے منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے لیے دو ریاستی حل پر عملدرآمد ضروری ہے۔
بیان میں چار جون 1967 کی اس آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا جس کے مطابق مشرقی یروشلم اس کا دارلحکومت ہو۔
عبدالعزیز الواصل نے عرب گروپ کی نمائندگی کرتے ہوئے اسرائیلی آباد کاریوں میں توسیع، زمینوں پر قبضے، جبری بے دخلی اور شہریوں پر حملوں کو مسترد کیا۔
بیان میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنے یا یروشلم اور وہاں کے مقدس مقامات کی قانونی و تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو بھی رد کیا گیا۔
سعودی عرب کی جانب سے غزہ میں مستقل جنگ بندی کے حصول کے لیے ہونے والی بین الاقوامی کوششوں کا بھی خیرمقدم کیا گیا جن میں امریکی قیادت میں ہونے والے اقدامات بھی شامل ہیں۔
اسی طرح اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ علاقے میں انسانی امدادی کی فوری، مسلسل اور بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔
ایس پی اے کے مطابق مملکت نے انسانی امداد کو سیاسی دباؤ یا اجتماعی سزا کے طور پر استعمال کیے جانے کو بھی مسترد کیا۔
اسی طرح سعودی عرب نے سلامتی کونسل سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اس بارے میں اقوام متحدہ کی متعلق قراردادوں بشمول قرارداد 2334 پر بھی عملدرآمد کروائے۔
بیان میں اس بار پر بھی زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری ضروری ہے
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری ضروری ہے جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ہونے والی کوششوں کی حمایت بھی کی جائے۔

شیئر: