Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایرانی وفد مذاکراتی مقام سے روانہ

سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق 80 منٹ پر مشتمل مذاکرات کے پہلے دور میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ (فوٹو: اے ایف پی)
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ سوئٹزر لینڈ میں جاری مذاکرات میں شریک ایرانی وفد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد مذاکرات چھوڑ کر  روانہ ہو گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایران کی سرکاری خبر نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کا وفد، ثالثی کرنے والے فریقوں میں سے ایک قطر کے وفد سے ملاقات کے بعد اس عمارت سے روانہ ہو گیا جہاں مذاکرات جاری تھے۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکس پر ایک پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف اپنی دھمکیوں اور سخت مؤقف کو دہرایا۔‘
قبل ازیں ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ وہ ’اپنے بیانات میں محتاط رہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حزب اللہ کی حمایت کے معاملے پر ایران پر حملے کی دھمکی دی تھی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب دونوں حریف ممالک سوئٹزرلینڈ میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہے تھے۔
قالیباف نے کہا کہ ’بہتر ہوگا کہ وہ اپنے بیانات میں محتاط رہیں؛ ہماری مسلح افواج مختلف انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کچھ بھی کہیں، عمل ہم ہی کرتے ہیں۔‘
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے لبنان میں اپنے ’پراکسی گروپس‘ کو فوری طور پر روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر کہا کہ اسرائیلی فوج ’جب تک ضرورت ہوگی‘ جنوبی لبنان میں موجود رہے گی۔
نیتن یاہو نے یہ عزم بھی دہرایا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے‘، تاہم ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اتوار کے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق 80 منٹ پر مشتمل مذاکرات کے پہلے دور میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ واضح نہیں کہ مذاکرات جاری رہیں گے یا معطل کر دیے جائیں گے۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے دوران ’ایک نئے باب‘ کے آغاز کی امید ظاہر کی تھی۔
جے ڈی وینس نے اس ملاقات کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اب سوال یہ ہے کہ ہم مل کر مزید کیا حاصل کر سکتے ہیں؟ کیا ہم ایک نیا باب شروع کر سکتے ہیں؟ کیا ہم مشرقِ وسطیٰ کے تعلقات کو مستقل طور پر تبدیل کر سکتے ہیں؟ یا پھر ہم پرانے طریقوں کی طرف واپس چلے جائیں گے، جو ہماری ترجیح نہیں، لیکن ایسا ہونا خارج از امکان بھی نہیں۔‘

شیئر: