سعودی عرب: مٹی سے بنے تاریخی محلات، دفاعی طرزِ تعمیر کے شاہکار
ان محلات نے دہائیوں تک سخت صحرائی حالات کا مقابلہ کیا ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے حدود الشمالیہ ریجن میں واقع تاریخی محلات روایتی نجدی طرز تعمیر اور پائیدار علامتوں کے طور پر کھڑے ہیں۔
مٹی اور گارے سے تعمیر کی جانے والی عمارتوں کو ایک مضبوط قلعہ بند سٹرکچر میں تبدیل کیا گیا جو دہائیوں تک سخت صحرائی حالات اور قدرتی کٹاؤ کا مقابلہ کرتی رہی ہیں اور آج بھی منفرد تعمیراتی نمونوں کے طور پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مٹی سے بنے محلات صحرائی ماحول میں پائیدار انجنیئنرنگ اور دفاعی طرزِ تعمیر کی ایک قابلِ تقلید مثال بھی پیش کرتے ہیں۔
بھوسے اور چکنی مٹی سے تیاری کی جانے والی اینٹوں سے تعمیر ہونے والے یہ تاریخی محلات اور قلعے پتھر کی مضبوط بنیادوں پر قائم کیے گئے جو ان کو نمی اور بارش سے محفوظ رکھتے تھے۔
ان تاریخی محلات میں نمایاں ترین ’قصر الملک عبدالعزیز‘ ہے جو رفحا کمشنری کے جنوب میں واقع تاریخی گاؤں ’لینہ‘ میں سال ہجری 1354 سے 1355 کے دوران تعمیر کیا گیا۔
محل کا مجموعی رقبہ 4 ہزار 320 مربع میٹر ہے جو آج بھی عظمتِ رفتہ کا گواہ ہے اور اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے۔

پتھروں اور مٹی سے بنے اس محل کی دیواریں مخروطی انداز میں تعمیر کی گئی ہیں جن کی بنیادیں چوڑی جبکہ بالائی حصہ بتدریج تنگ ہوتا جاتا ہے۔
یہ تعمیراتی ڈیزائن روایتی نجدی فن کی مہارت کا عکاس ہے۔ محل کی بالائی منزل پر کھجور کے تنوں کو تعمیراتی ڈھانچے اور قدرتی ہوا کے آنے جانے کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ دیواروں میں بنائی گئی کھڑکیاں دفاعی اور حفاظتی مقصد کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔
لینہ قصبے میں واقع ’شاہ عبدالعزیز محل‘ کو ایک منفرد شہری منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا گیا جس کے وسط میں ایک کشادہ صحن ہے اور اطراف میں کمرے، بیٹھکیں اور دیگر سہولتیں ہیں۔

محل کے جنوبی میں لکڑی کا مرکزی دروازہ جبکہ مغربی جانب ایک ذیلی دروازہ ہے۔ علاوہ ازیں ایک کنواں، مسجد اور گھوڑوں کا اصطبل بھی ہے۔ رہائشی حصے اور نجی امور کے لیے کمروں کے علاوہ بڑا ہال اس کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مٹی سے تعمیر شدہ عمارتیں ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں کیونکہ ان کی دیواری قدرتی طور پر گرمی کو منعکس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جبکہ سردیوں میں اندرونی ماحول نسبتاً ٹھنڈا ہوتا ہے جبکہ دیواروں کی مخروطی بناوٹ وزن کو متوازن کرنے اور تیز ہواؤں و ریتیلے طوفانوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں جس کے باعث یہ طرزِ تعمیر نسل در نسل برقرار رہا ہے۔

واضح رہے مملکت کا شمالی سرحدی علاقہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کے متعدد اہم مقامات کا حامل ہے۔ گزشتہ اپریل ہیریٹیج اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق قومی ورثہ رجسٹر میں 364 سے زائد آثار قدیمہ درج ہیں۔
2023 کے دوسرے نصف سال کی رپورٹ کے مطابق یہاں 39 تعمیراتی ورثے کے مقامات اور چار تاریخی مساجد ہیں جو ایک لاکھ 33 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔
