Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اعلیٰ سطح کمیٹی کا پہلا اجلاس کامیابی سے ختم، ’پاکستان اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا‘

وزیراعظم نے امریکی و ایرانی قیادت کے علاوہ مذاکرات میں مدد دینے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا (فوٹو: ایکس، شہباز شریف)
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا پہلا اجلاس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔
پیر کو شہباز شریف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’بات چیت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی اور اس میں حوصلہ افزا نتائج اور اہم پیش رفت سامنے آئی جن میں 60 روز کے اندر حتمی معاہدے کے لیے روڈ میپ، سیاسی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی کا قیام اور مزید تکنیکی بات چیت کا آغاز شامل ہے۔‘
شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں امریکہ اور ایران دونوں کی قیادت کے تعمیری بات چیت کے عزم کو سراہتا ہوں اور اس تاریخی عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دینے والے تمام برادر اور دوست ممالک کی گرانقدر حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ خصوصی طور پر قطر کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے جس نے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم تعاون فراہم کیا۔
انہوں نے مذاکرات کی میزبانی میں تعاون فراہم کرنے پر سوئس حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بھی خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کیا۔
’ان کی انتھک کوششوں سے یہ مذاکرات کامیاب ہوئے۔ ان کی لگن، عزم اور استقامت واقعی لائق ستائش ہے اور ان کے بغیر آگے نہیں بڑھا جا سکتا تھا۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا تذکرہ بھی کیا اور بھرپور سفارتی کوششوں پر انہیں اور ان کی ٹیم کو سراہا اور شکریہ بھی ادا کیا۔
شہباز شریف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کی محنت اور لگن کو دل کی گہرائیوں سے سراہتے ہیں جنہوں نے مذاکرات کی کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔
’پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کو پُرامن اور دیرپا حل کی طرف بڑھانے میں اپنا مخلصانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے جنگ بندی اور اب معاہدے تک پہنچنے کے کوششوں میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور معاہدہ طے پانے کا اعلان بھی شہباز شریف نے 14 جون کو کیا تھا۔

برگن سٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی پاکستان نے کی (فوٹو: اے ایف پی)

28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ چھڑنے والی جنگ کے اثرات پورے خطے کے علاوہ دنیا بھر پر اس طرح سے پڑے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی تجارت متاثر ہوئی اور اس کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا جبکہ خلیجی ممالک بھی حملوں کا نشانہ بنے۔
جنگ کے ساتھ ہی ثالثی کے لیے متحرک ہونے والا پاکستان پانچ ہفتے بعد دونوں ممالک میں جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہا، جس میں بعدازاں توسیع ہوئی۔
مذاکرات کا ایک دور اسلام آباد میں ہوا تاہم دوسرا نہ ہو پانے کے باوجود بھی ثالثی کی کوششیں جاری رکھی گئیں اور معاملہ امن معاہدے تک پہنچا۔
آج کل سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جن کا مقصد جنگ کا مکمل خاتمہ ہے۔

شیئر: