امریکہ ایران مذاکرات ختم، ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود تکنیکی امور پر بات چیت جاری رہے گی
امریکہ ایران مذاکرات ختم، ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود تکنیکی امور پر بات چیت جاری رہے گی
پیر 22 جون 2026 5:48
صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف بیان سے مذاکرات کے دوران ہلچل پیدا ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)
ایران جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات پیر کی صبح ختم ہو گئے تاہم ہفتے کے باقی دنوں میں نچلی سطح پر بات جاری رہے گی۔
فریقین نے لبنان میں جاری لڑائی سے نمٹنے کے لیے ’ڈی کنفلِکشن سیل‘ بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ سیل میں لبنان کی حکومت شامل ہو گیاور ’لبنان میں فوجی آپریشن کے خاتمے کی پابندی پر عمل کو یقینی بنائے گی۔‘
تاہم یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ اقدام ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی روکنے کے لیے کافی ہو گا جو کہ لبنان پر قابض ہے۔
اسی طرح اسرائیل اس امر پر بھی اصرار کرتا ہے وہ ان عسکریت پسندوں پر حملے جاری رکھے گا جو جنوبی اسرائیل کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے مذاکرات میں ہونے والی اس پیشرفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے جبکہ ایران نے ثالثوں کے کام کو سراہا ہے۔
ایران نے اتوار کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ گزرگاہ کھلی ہے (فوٹو: روئٹرز)
یہ مذاکرات ایک ایسے 60 روزہ سفارتی عمل کے تحت ہو رہے ہیں جس کا مقصد ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے۔
تاہم لبنان میں جاری لڑائی اب بھی اس کی راہ میں اہم رکاوٹوں میں سے ایک ہے اور اس تک پہنچنے کے لیے ہونے والی کوششوں کے راستے میں ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے اتوار کو ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا جو ایک اہم آبی گزرگاہ ہے اور گزرے چند ماہ میں اس کی بندش کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ آئے۔
تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور اس کے راستے جہاز آ جا رہے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے مذاکرات میں جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر شریک تھے (فائل فوٹو: اے پی)
کشیدگی کے ساتھ آغاز
سوئٹزرلینڈ میں اتوار کو ہونے والے مذاکرات آغاز میں ہی اس وقت کشیدگی کا شکار ہو گئے جب تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی پر شدید ردعمل ظاہر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’ایران کے صدر کو بات چیت میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔‘
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران کو فوری طور پر لبنان میں اپنی بہت منافع بخش پراکسیز کو روکنا چاہیے، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم کو ایک بار پھر سختی سے نشانہ بنائیں گے جیسا کہ ہم پچھلے ہفتے کیا تھا۔‘
اس کے بعد سوشل میڈیا پر آنے والے تبصروں اور دو نیوز اداروں نے ثالثوں پاکستان اور قطر کے علاوہ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی ان کوششوں کو بھی مشکل بنایا جو ایران کو بات چیت میں مصروف رکھنے کے لیے ہو رہی تھیں۔
سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات پاکستان کی میزبانی میں ہو رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آنے کے بعد ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ ’ان (ٹرمپ) کے لیے بہتر ہو گا کہ وہ اپنے بیانات میں احتیاط سے کام لیں، ہماری مسلح افواج مختلف انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں، وہ صرف باتیں کرتے ہیں جبکہ ہم عمل کرتے ہیں۔‘
بعدازاں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ’پاکستان اور قطر کی انتھک کوششوں کی بدولت لبنان جنگ کے خاتمے کے لیے بڑی پیش رفت ممکن ہو گئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مذاکرات کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ آیا ڈی کنفلِکشن سیل لبنان میں لڑائی کو روکنے میں کامیاب ہوتا ہے۔‘