Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ ایران مذاکرات ختم، ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود تکنیکی امور پر بات چیت جاری رہے گی

ایران جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات پیر کی صبح ختم ہو گئے تاہم ہفتے کے باقی دنوں میں نچلی سطح پر بات جاری رہے گی۔
فریقین نے لبنان میں جاری لڑائی سے نمٹنے کے لیے ’ڈی کنفلِکشن سیل‘ بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ سیل میں لبنان کی حکومت شامل ہو گی اور ’لبنان میں فوجی آپریشن کے خاتمے کی پابندی پر عمل کو یقینی بنائے گی۔‘
تاہم یہ بات ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ اقدام ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی روکنے کے لیے کافی ہو گا جو کہ لبنان پر قابض ہے۔
اسی طرح اسرائیل اس امر پر بھی اصرار کرتا ہے وہ ان عسکریت پسندوں پر حملے جاری رکھے گا جو جنوبی اسرائیل کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے مذاکرات میں ہونے والی اس پیشرفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے جبکہ ایران نے ثالثوں کے کام کو سراہا ہے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے 60 روزہ سفارتی عمل کے تحت ہو رہے ہیں جس کا مقصد ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے۔
تاہم لبنان میں جاری لڑائی اب بھی اس کی راہ میں اہم رکاوٹوں میں سے ایک ہے اور اس تک پہنچنے کے لیے ہونے والی کوششوں کے راستے میں ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے اتوار کو ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا جو ایک اہم آبی گزرگاہ ہے اور گزرے چند ماہ میں اس کی بندش کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ آئے۔
تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور اس کے راستے جہاز آ جا رہے ہیں۔
کشیدگی کے ساتھ آغاز
سوئٹزرلینڈ میں اتوار کو ہونے والے مذاکرات آغاز میں ہی اس وقت کشیدگی کا شکار ہو گئے جب تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی پر شدید ردعمل ظاہر کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’ایران کے صدر کو بات چیت میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔‘

شیئر: