سعودی عرب میں 1.2 ملین آم کے درخت، سالانہ پیداوار 105 ہزار ٹن
سیزن اپریل میں شروع ہو کر ہر سال اگست تک جاری رہتا ہے۔( فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی عرب بھر میں 1.2 ملین سے زائد آم کے درخت ہیں جو مقامی مارکیٹ کو سالانہ 105 ہزار ٹن آم فراہم کرتے ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق آم کی پیداوار کا سیزن اپریل میں شروع ہو کر ہر سال اگست تک جاری رہتا ہے۔
آم کی پیداوار مینو فیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط بنانے، خود کفالت کے حصول اور فوڈ سکیورٹی بڑھانے میں معاون ہے۔
وزارت ماحولیات، پانی و زراعت ایک مہم چلا رہی ہے، جس کا مقصد پھلوں کی متنوع رینج کے بارے میں اگاہی اور مقامی پیداوار کی مارکیٹنگ کے نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
مملکت میں آم کی کاشت کئی علاقوں میں وسیع پیمانے پر کی جاتی ہے۔ جازان، مکہ، الباحہ، تبوک، عسیر، نجران اور مدینہ میں پیداوار سب سے زیادہ ہے۔
وزارت کے مطابق مملکت بھر کی مارکیٹوں میں سیزن کے آغاز پر ڈیمانڈ زیادہ ہے، جس کی وجہ مقامی اعلی معیار کی آم کی اقسام کی دستیابی ہے۔

ان میں السکری، الکیت، الفونس، تومی اتکنز، بالمر، السندری، الجلین، الزبدیہ، الملیکہ اور الفالنسا شامل ہیں۔
سعودی عرب کے مختلف ریجنز میں 6.966 ہیکٹر اراضی پر آم کے باغات لگائے گئے ہیں، جہاں مختلف آموں کی کامیابی سے کاشت کی جاتی ہے۔ مملکت آم کی پیداوار میں 68 فیصد خود کفیل ہے۔
