قصور: لیڈیز پرس سے انسانی گردہ برآمد ہونے کے کیس کی تفتیش ’پنجاب ہوٹا‘ کے سپرد
قصور: لیڈیز پرس سے انسانی گردہ برآمد ہونے کے کیس کی تفتیش ’پنجاب ہوٹا‘ کے سپرد
پیر 22 جون 2026 20:36
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز
پولیس کے مطابق دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے گزشتہ دو دن سے چھاپے مارے جا رہے ہیں (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
ایک خاتون کے مبینہ کزن کے پاس موجود ایک لیڈیز پرس سے جب انسانی گردہ برآمد ہوا تو قصور کے ایک نجی ہسپتال میں ہونے والی کارروائی نے غیر معمولی رخ اختیار کر لیا۔
اب پولیس، محکمہ صحت اور پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی (پی ہوٹا) کی تحقیقات ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں جس پر الزام ہے کہ اس نے غیر قانونی طور پر گردے کی پیوند کاری کی لیکن انفیکشن پھیلنے پر وہی گردہ دوبارہ نکالنے کی کوشش کی گئی۔
پنجاب کے ضلع قصور میں گزشتہ شب ایک نجی ہسپتال میں ضلعی محکمہ صحت اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک لیڈیز پرس سے خاتون کا گردہ برآمد کیا جبکہ متاثرہ خاتون کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ضلعی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
قصور پولیس کے مطابق اس معاملے میں اب تک تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مزید ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ دوسری جانب ضلعی محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ کیس اب پنجاب کی متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ڈی ایچ او) تحصیل قصور ڈاکٹر فیصل اقبال نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ کیس اب پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے حوالے ہو گیا ہے۔ آج ان کی ٹیم آئی تھی، انہوں نے تمام تر معاملات دیکھ کر کیس اپنے ہاتھوں میں لیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اطلاع ملتے ہی مقدمہ درج کروایا گیا اور بعض افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
ان کے مطابق خاتون کو ابتدائی طبی امداد کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور منتقل کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں لاہور کے سروسز ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔
ڈاکٹر فیصل اقبال نے بتایا ’اس وقت خاتون کی حالت بہتر ہے لیکن وہ پہلے بھی ڈائلیسز پر تھی اور اب بھی وہی پروسیجر ہو گا۔‘
تھانہ صدر قصور میں درج مقدمہ ڈاکٹر فیصل اقبال کی مدعیت میں تین معلوم اور پانچ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
مقدمے میں دی ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ 2010 کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 419 اور 420 بھی شامل کی گئی ہیں۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر نجم رشید نے اردو نیوز کو بتایا کہ پولیس اب تک نوید، شہباز اور سید عمار نامی تین افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔
ان کے بقول ’پولیس کی ٹیمیں اس وقت لاہور میں موجود ہیں اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے گزشتہ دو دن سے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔‘
نجم رشید کا کہنا تھا کہ مقدمے کی مزید تفتیش بھی جاری ہے۔
ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
ایف آئی آر کے مطابق گزشتہ شب 11 بج کر 50 منٹ پر ایس ایچ او تھانہ صدر قصور نے ضلعی محکمہ صحت کو اطلاع دی کہ ایک نجی ہسپتال میں بیرونی میڈیکل ٹیم ایک مریضہ پر مشتبہ اور غیر قانونی طبی کارروائی کر رہی ہے۔
مقدمے کے مطابق ہسپتال کے منیجر کی جانب سے 15 پر کال کر کے اطلاع دی گئی تھی کہ ایک بیرونی میڈیکل ٹیم کسی مریضہ کے ساتھ ایسا طبی عمل کر رہی ہے جس کا تعلق ممکنہ طور پر گردے کی پیوند کاری سے ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق جب محکمہ صحت کے افسران ہسپتال پہنچے تو ایک خاتون کمرے میں تشویشناک حالت میں موجود تھیں۔
ضلعی محکمہ صحت نے انہیں فوری طور پر ضلعی ہسپتال منتقل کیا تاکہ ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ڈاکٹر فیصل اقبال نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہے کہ لاہور سے دو افراد ایک ڈاکٹر کے ہمراہ اس خاتون کا آپریشن کرنے کے لیے ہسپتال آئے تھے۔
ان کے بقول ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ اسی ٹیم نے پہلے لاہور میں خاتون کا گردہ ٹرانسپلانٹ کیا تھا تاہم بعد میں انفیکشن پیدا ہونے پر وہ اسے دوبارہ نکالنے کے لیے قصور پہنچی۔‘
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی غیر قانونی تھی اور اس کے نتیجے میں مریضہ کی جان خطرے میں ڈالی گئی۔
قانون کے سیکشن 11 کے تحت انسانی اعضاء کی تجارتی خرید و فروخت بھی جرم ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پولیس کے مطابق متعلقہ ٹیم اپنے ساتھ آپریشن میں استعمال ہونے والا سرجیکل سامان بھی لاہور سے لائی تھی جسے بعد ازاں قبضے میں لے لیا گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران مبینہ طور پر گردہ نکالنے والے افراد موقعے سے فرار ہو گئے جبکہ ہسپتال انتظامیہ اور عملے کے بعض افراد بھی وہاں موجود نہیں تھے۔
ڈاکٹر فیصل اقبال کے مطابق متاثرہ خاتون کے ساتھ موجود ایک شخص(جسے مقدمے میں ان کا کزن قرار دیا گیا ہے) کے پاس سے ایک لیڈیز پرس ملا جس میں انسانی گردہ موجود تھا۔ گردہ محفوظ کر کے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
مقدمے کے مطابق مذکورہ شخص نے پولیس کو بتایا کہ گردے کی پیوند کاری لاہور میں اسی ٹیم سے رقم ادا کر کے کروائی گئی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہسپتال کی پارکنگ میں کھڑی ایک گاڑی کی تلاشی کے دوران مزید سرجیکل سامان اور 70 ہزار روپے نقد بھی برآمد ہوئے۔
پاکستان میں اعضاء کی پیوند کاری کا قانون کیا کہتا ہے؟
پاکستان میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ’دی ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ 2010‘ نافذ ہے۔
اس قانون کی بنیاد 2007 میں اس وقت رکھی گئی جب سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد گردوں کی غیر قانونی تجارت اور پیوند کاری کو روکنے کے لیے ایک آرڈیننس نافذ کیا گیا جس کے بعد پارلیمان نے اسے باقاعدہ قانون کی شکل دی۔
اس قانون کے تحت انسانی اعضاء کی خرید و فروخت ممنوع ہے جبکہ پیوند کاری صرف مقررہ قانونی شرائط کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے۔
قانون کے مطابق زندہ ڈونر کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے اور عطیہ رضاکارانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے۔
عمومی طور پر عضو صرف قریبی خونی یا قانونی رشتہ دار کو عطیہ کیا جا سکتا ہے جبکہ غیر متعلقہ افراد کے درمیان پیوند کاری کے لیے خصوصی قانونی اور طبی منظوری درکار ہوتی ہے۔
عمومی طور پر عضو صرف قریبی خونی یا قانونی رشتہ دار کو عطیہ کیا جا سکتا ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
قانون کے سیکشن 10 کے تحت اگر کوئی شخص یا طبی ادارہ غیر قانونی طور پر انسانی عضو نکالنے یا اس عمل میں معاونت کا مرتکب پایا جائے تو اسے 10 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
اسی طرح قانون کے سیکشن 11 کے تحت انسانی اعضاء کی تجارتی خرید و فروخت بھی جرم ہے۔
پنجاب میں نگرانی کا نظام
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہونے پر پنجاب نے ’پنجاب ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز (ترمیمی) ایکٹ 2012‘ نافذ کیا۔
اس قانون کے نفاذ کے لیے پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی قائم کی گئی جو صوبے میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے تمام معاملات کی نگرانی کرتی ہے۔
اس قانون کے مطابق کوئی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال متعلقہ اتھارٹی کی منظوری اور رجسٹریشن کے بغیر اعضاء کی پیوند کاری نہیں کر سکتا۔
اتھارٹی کو ڈونر اور مریض کے رشتے، طبی ضرورت اور دستاویزات کی جانچ کے بعد ٹرانسپلانٹ کی منظوری یا اسے مسترد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اسی اتھارٹی نے اب قصور کے اس مقدمے کی تحقیقات بھی اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔