سرگودھا: دکان کے سٹور روم میں 7 سالہ بچی کی لاش، ’دکاندار سے دو روز قبل تلخ کلامی ہوئی تھی‘
منگل 23 جون 2026 20:03
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
پنجاب کے ضلع سرگودھا کے کارخانہ بازار کے رہائشی ندیم احمد(فرضی نام) کی بیٹی جب لاپتہ ہوئی تو پنجاب پولیس اور ان کے اہل خانہ تلاش میں مصروف ہوگئے۔
اس دوران کسی کو معلوم نہیں تھا کہ جس بچی کی تلاش میں خاندان والے بازار کی گلیوں اور دکانوں کے چکر لگا ریے ہیں وہ مبینہ طور پر اسی بازار کی ایک عمارت کی تیسری منزل پر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
سرگودھا کے کارخانہ بازار میں ایک دکان کی تیسری منزل پر سٹور روم سے سات سالہ بچی کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق مبینہ طور پر بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا ہے تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔ اس حوالے سے تھانہ سٹی میں والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ سرگودھا پولیس کے مطابق اس مقدمے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دکان کے مالک اور دو دیگر ملازمین کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔؎
پولیس کا کہنا ہے کہ ’واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔‘
بچی کے والد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کی بیٹی صبح تقریباً 11 بجے گھر سے بازار گئی تھی لیکن کافی دیر گزرنے کے باوجود واپس نہ آئی۔ ان کے بقول ’اہل خانہ نے خود تلاش شروع کی اور ساتھ ہی پولیس کو بھی اطلاع دی۔‘
والد نے بتایا کہ ’پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے زیر انتظام ’میرا پیارا‘ پروگرام نے بچی کی تصویر اور تفصیلات کے ساتھ لاپتہ ہونے کا اشتہار بھی جاری کیا۔ اسی دوران اہل خانہ نے قریبی دکانوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج چیک کی۔ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ وہ آٹھ بلاک کی ایک دکان کے اندر گئی لیکن واپس باہر آتی ہوئی نظر نہیں آئی۔ جس کے بعد ہم پولیس کے ساتھ دکان پر پہنچے اور تلاشی شروع کی۔‘
تھانہ سٹی سرگودھا میں درج ایف آئی آر کے مطابق ’اہل خانہ اور دیگر افراد مذکورہ دکان کی تیسری منزل تک پہنچے تو وہاں ایک شخص مبینہ طور پر اپنے کپڑے سنبھال رہا تھا جبکہ اس کی قمیض قریب پڑی ہوئی تھی۔‘
مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’اہل خانہ کو دیکھتے ہی ملزم نے ہاتھ میں موجود چھری پھینکی اور چھتوں کے راستے فرار ہو گیا۔‘ والد کے مطابق ان کی بیٹی کو سٹور روم میں کاٹن کے ڈبوں کے پاس چھپایا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق ’جب والد اپنی بیٹی کے قریب پہنچے تو وہ آخری سانسیں لے رہی تھی۔‘ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ’بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی گئی اور اسے شدید زخمی کیا گیا جس کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکی۔‘
پولیس کے مطابق بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
مدعی مقدمہ نے ایف آئی آر میں تین افراد کو نامزد کیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق والد کا موقف ہے کہ دو روز قبل دکان کے حساب کتاب پر ان کی ایک ملزم کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی تھی اور ملزم نے انہیں دھمکی دی تھی کہ ’میں تمہیں ایسا مزہ چکھاؤں گا کہ ساری عمر یاد رکھو گے۔‘
سرگودھا پولیس کے ترجمان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم ارسلان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مقدمے میں نامزد دکان کے مالک اور دو دیگر ملازمین بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔‘
ترجمان کے بقول ’پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ(سی سی ڈی) سرگودھا وقوعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہے ہیں۔ ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔‘
پولیس ذرائع نے اردو نیوز کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’مرکزی ملزم نے دوران تفتیش جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔‘
ذرائع کے مطابق ’ملزم کو عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔‘ سرگودھا پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ اب کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ’ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دکان میں موجود متعدد افراد نے بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی۔‘ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ’ملزمان رات ہونے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ لاش کو ٹھکانے لگایا جا سکے تاہم قریبی دکانوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور پولیس کی فوری کارروائی کے باعث وہ ایسا نہ کر سکے۔‘
